پیغمبر اسلام کو ایک عظیم تاریخی کردار ادا کرنا تھا جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہا گیا ہے۔ اس تاریخی کردار کے لیے آپ کو اعلیٰ انسانوں کی ایک جماعت درکار تھی۔ یہ جماعت حضرت اسماعیل کو عرب کے صحرا میں آباد کر کے ڈھائی ہزار سال کے اندر تیار کی گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنو اسماعیل کا یہ گروہ تاریخ کا جاندار ترین گروہ تھا۔ ان کی یہ بالقوہ صلاحیت جب قرآن سے فیض یاب ہوئی تو پروفیسر مارگولیتھ کے الفاظ میں، عرب کی یہ قوم ہیرووں کی ایک قوم (a nation of heroes) میں تبدیل ہوگئی۔ اس گروہ کی اہمیت خدا کی نظر میں اتنی زیادہ تھی کہ ان کے بارے میں اس نے پیشگی طور پر اپنے پیغمبروں کو باخبر کردیا تھا۔ چنانچہ تورات میں ان کی انفرادی خصوصیت درج کردی گئی تھی اور انجیل میں ان کی اجتماعی خصوصیت۔
اس گروہ کے فرد فرد کی یہ خصوصیت بتائی کہ وہ منکروں کے لیے سخت اور مومنوں کے لیے نرم ہیں۔ یعنی ان کا رویہ اصول کے تحت متعین ہوتا ہے، نہ کہ محض خواہشات اور جذبات کے تحت۔ شاہ عبدالقادر صاحب اس کی تشریح میں لکھتے ہیں ’’جوتندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندہی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ‘‘۔ اسی طرح ان کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ وہ خدا کے آگے جھکنے والے اور اس کی عبادت اور ذکر میں لگے رہنے والے ہیں۔ خدا کی طرف ان کی توجہ اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اس کا نشان ان کے چہروں پر نمایاں ہورہا ہے۔ اصحاب رسول کی یہ صفات اس تفصیل کے ساتھ موجودہ محرف تورات میں نہیں ملتیں۔ تاہم کتاب استثناء (
البتہ انجیل کی پیشین گوئی آج بھی مرقس (