Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
4:108
يستخفون من الناس ولا يستخفون من الله وهو معهم اذ يبيتون ما لا يرضى من القول وكان الله بما يعملون محيطا ١٠٨
يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ ٱلْقَوْلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا ١٠٨
يَسۡتَخۡفُونَ
مِنَ
ٱلنَّاسِ
وَلَا
يَسۡتَخۡفُونَ
مِنَ
ٱللَّهِ
وَهُوَ
مَعَهُمۡ
إِذۡ
يُبَيِّتُونَ
مَا
لَا
يَرۡضَىٰ
مِنَ
ٱلۡقَوۡلِۚ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
بِمَا
يَعۡمَلُونَ
مُحِيطًا
١٠٨
Mereka menyembunyikan (kejahatan mereka) daripada manusia, dalam pada itu mereka tidak menyembunyikan (kejahatan mereka) daripada Allah. Padahal Allah ada bersama-sama mereka, ketika mereka merancangkan pada malam hari, kata-kata yang tidak diredhai oleh Allah. Dan (ingatlah) Allah sentiasa Meliputi PengetahuanNya akan apa yang mereka lakukan.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 4:108 hingga 4:109
باب

یہ قصہ مطلول ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی قتادہ رحمہ اللہ اس طرح مروی ہے کہ ہمارے گھرانے کے بنوابیرق قبیلے کا ایک گھر تھا جس میں بشر، بشیر اور مبشر تھے، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کر کے خوب مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا۔

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آتھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لیے مخصوص کر لیتے، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے۔

میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالاخانے میں اسے محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے۔ صبح میرے چچا میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور سیدنا لبید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے، ہم جانتے تھے کہ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے۔ ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر تو دو، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئیے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا۔

صفحہ نمبر1929

یہ خبر جب بنوابیرق کو ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جن کا نام اسیر بن عمرو تھا انہوں نے آ کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ظلم ہو رہا ہے، بنوابیرق تو صلاحیت اور اسلام والے لوگ ہیں انہیں قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا چور کہتے ہیں اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے ہیں وغیرہ۔

پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا۔

اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا «واَللهُ اْلمـُسـَتعَانُ» اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں، ان کا جانا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس «خائنین» سے مراد بنو ابیرق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ [سنن ترمذي:3036،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر1930

پھر فرمایا ناکردہ گناہ کے ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے، «أَجْرًا عَظِيمًا» تک یعنی انہوں نے جو سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں جب یہ آیتیں اتریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوابیرق سے ہمارے ہتھیار دلوائے میں انہیں لے کر اپنے چچا کے پاس آیا یہ بیچارے بوڑھے تھے آنکھوں سے بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے فرمانے لگے بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے نام خیرات کر دو، میں آج تک اپنے چچا کی نسبت قدرے بدگمان تھا کہ یہ دل سے اسلام میں پورے طور پر داخل نہیں ہوئے لیکن اس واقعہ نے بدگمانی میرے دل سے دور کر دی اور میں ان کے سچے اسلام کا قائل ہو گیا۔

بشیر یہ آیتیں سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جا کر اپنا قیام کیا، اس کے بارے میں اس کے بعد کی آیتیں «‏وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ» [4-النساء:115] ‏ سے «ضَلَالًا بَعِيدًا» ‏ [4-النساء:116] ‏ تک نازل ہوئیں اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر ایک کی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی۔ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے۔

ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے،۔

صفحہ نمبر1931

پھر فرماتا ہے مانا کہ دنیوی حاکموں کے ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے کرتے ہیں تم نے غلبہ حاصل کر لیا، لیکن قیامت کے دن اللہ کے سامنے جو ظاہر وباطن کا عالم ہے تم کیا کر سکو گے؟ وہاں کسے وکیل بنا کر پیش کرو گے جو تمہارے جھوٹے دعوے کی تائید کرے، مطلب یہ ہے کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں چلے گی۔

صفحہ نمبر1932
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara