کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق کئی دوروں میں تدریجی طورپر ہوئی ہے۔ تدریجی تخلیق دوسرے لفظوں میں منصوبہ بند تخلیق ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق منصوبہ بند انداز میں ہوئی ہے تو یقینی ہے کہ اس کا ایک منصوبہ ساز ہو جس نے اپنے مقرر منصوبہ کے تحت اس کو ارادۃً بنایا ہو۔
اسی طرح یہاں زمین کے اوپر جگہ جگہ پہاڑ ہیں جو زمین کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں کروڑوں قسم کے ذی حیات ہیں۔ ہر ایک کو الگ الگ رزق درکار ہے۔ مگر ہر ایک کا رزق اس طرح کامل مطابقت کے ساتھ موجود ہے کہ جس کو جو روزی درکار ہے وہ اپنے قریب ہی اس کو پالیتا ہے۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام چیزیں ابتداء ًمنتشر ایٹم کی صورت میں تھیں۔ پھر وہ مجتمع ہو کر الگ الگ اشیاء کی صورت میں متشکل ہوئیں۔ اسی طرح کائنات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وسیع کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی قانون فطرت میں نہایت محکم طورپر جکڑی ہوئی ہیں۔
یہ مشاہدات واضح طورپر ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا خالق علیم اور خبیر ہے۔ وہ قوت اور غلبہ والا ہے۔ پھر دوسرا کون ہے جس کو انسان اپنا معبود قرار دے۔