Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
5:8
يا ايها الذين امنوا كونوا قوامين لله شهداء بالقسط ولا يجرمنكم شنان قوم على الا تعدلوا اعدلوا هو اقرب للتقوى واتقوا الله ان الله خبير بما تعملون ٨
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ٨
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
كُونُواْ
قَوَّٰمِينَ
لِلَّهِ
شُهَدَآءَ
بِٱلۡقِسۡطِۖ
وَلَا
يَجۡرِمَنَّكُمۡ
شَنَـَٔانُ
قَوۡمٍ
عَلَىٰٓ
أَلَّا
تَعۡدِلُواْۚ
ٱعۡدِلُواْ
هُوَ
أَقۡرَبُ
لِلتَّقۡوَىٰۖ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
خَبِيرُۢ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
٨
Wahai orang-orang yang beriman, hendaklah kamu semua sentiasa menjadi orang-orang yang menegakkan keadilan kerana Allah, lagi menerangkan kebenaran; dan jangan sekali-kali kebencian kamu terhadap sesuatu kaum itu mendorong kamu kepada tidak melakukan keadilan. Hendaklah kamu berlaku adil (kepada sesiapa jua) kerana sikap adil itu lebih hampir kepada taqwa. Dan bertaqwalah kepada Allah, sesungguhnya Allah Maha Mengetahui dengan mendalam akan apa yang kamu lakukan.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Ayat-ayat Berkaitan
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 5:8 hingga 5:10

آیت 8 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز یہاں پر سورة النساء کی آیت 135 کا حوالہ ضروری ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 اور زیر مطالعہ آیت المائدۃ : 8 میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب عکسی ہے دونوں سورتوں کی نسبت زوجیت بھی مدّ نظر رہے۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ اور یہاں الفاظ ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز۔ ایک حقیقت تو میں نے اس وقت بیان کردی تھی کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا اللہ اور قسط مترادف ہیں۔ ایک جگہ فرمایا : قسط کے لیے کھڑے ہوجاؤ اور دوسری جگہ فرمایا : اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ اسی طرح ایک جگہ اللہ کے گواہ بن جاؤ اور دوسری جگہ قسط کے گواہ بن جاؤ فرمایا۔ تو گویا اللہ اور قسط ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر آئے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ اس آیت سے ہمارے سامنے یہ آرہا ہے کہ معاشرے میں عدل قائم کرنے کا حکم ہے۔ انسان فطرتاً انصاف پسند ہے۔ انصاف عام انسان کی نفسیات اور اس کی فطرت کا تقاضا ہے۔ آج پوری نوع انسانی انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ انصاف ہی کے لیے انسان نے بادشاہت سے نجات حاصل کی اور جمہوریت کو اپنایا تاکہ انسان پر انسان کی حاکمیت ختم ہو ‘ انصاف میسر آئے ‘ مگر جمہوریت کی منزل سراب ثابت ہوئی اور ایک دفعہ انسان پھر سرمایہ دارانہ نظام Capitalism کی لعنت میں گرفتار ہوگیا۔ اب سرمایہ دار اس کے آقا اور ڈکٹیٹربن گئے۔ اس لعنت سے نجات کے لیے اس نے کمیونزم Communism کا دورازہ کھٹکھٹایا مگر یہاں بھی متعلقہ پارٹی کی آمریت One Party Dictatorship اس کی منتظر تھی۔ گویا رست ازیک بند تا افتاد دربندے دگر یعنی ایک مصیبت سے نجات پائی تھی کہ دوسری آفت میں گرفتار ہوگئے۔ اب انسان عدل اور انصاف حاصل کرنے کے لیے کہاں جائے ؟ کیا کرے ؟ یہاں پر ایک روشنی تو انسان کو اپنی فطرت کے اندر سے ملتی ہے کہ اس کی فطرت انصاف کا تقاضا کرتی ہے اور اپنی فطرت کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے وہ عدل قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے ‘ مگر اس سے اوپر بھی ایک منزل ہے اور وہ یہ ہے کہ العدل اللہ کی ذات ہے جس کا دیا ہوا نظام ہی عادلانہ نظام ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں ‘ اس کے وفادار ہیں ‘ لہٰذا اس کے نظام کو قائم کرنا ہمارے ذمے ہے ‘ ہم پر فرض ہے۔ چناچہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِز میں اسی بلند تر منزل کا ذکر ہے۔ یہ صرف فطرت انسانی ہی کا تقاضا نہیں بلکہ تمہاری عبدیت کا تقاضا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کے رشتے کا تقاضا ہے کہ پوری قوت کے ساتھ ‘ اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ‘ جو بھی اسباب و ذرائع میسر ہوں ان سب کو جمع کرکے کھڑے ہوجاؤ اللہ کے لیے ! یعنی اللہ کے دین کے گواہ بن کر کھڑے ہوجاؤ۔ اور اس دین میں جو تصور ہے عدل ‘ انصاف اور قسط کا اس عدل و انصاف اور قسط کو قائم کرنے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ یہ ہے اس حکم کا تقاضا۔ اب دیکھئے ‘ وہاں سورۃ النساء آیت 135 میں کیا تھا : اے ایمان والو ! انصاف کے علمبردار اور اللہ واسطے کے گواہ بن جاؤ۔ وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ اگرچہ اس کی تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔انصاف سے روکنے والے عوامل میں سے ایک اہم عامل مثبت تعلق یعنی محبت ہے۔ اپنی ذات سے محبت ‘ والدین اور رشتہ داروں وغیرہ کی محبت انسان کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ میں اپنے خلاف کیسے فتویٰ دے دوں ؟ اپنے ہی والدین کے خلاف کیونکر فیصلہ سنا دوں ؟ سچی گواہی دے کر اپنے عزیز رشتہ دارکو کیسے پھانسی چڑھا دوں ؟ لہٰذا وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ۔۔ فرما کر اس نوعیت کی تمام عصبیتوں کی جڑکاٹ دی گئی کہ بات اگر حق کی ہے ‘ انصاف کی ہے تو پھر خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ جا رہی ہو ‘ تمہارے والدین پر ہی اس کی زد کیوں نہ پڑ رہی ہو ‘ تمہارے عزیز رشتہ دار ہی اس کی کاٹ کے شکار کیوں نہ ہو رہے ہوں ‘ اس کا اظہار بغیر کسی مصلحت کے ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا عامل منفی تعلق ہے ‘ یعنی کسی فرد یا گروہ کی دشمنی ‘ جس کی وجہ سے انسان حق بات کہنے سے پہلو تہی کرجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ بات تو حق کی ہے مگر ہے تو وہ میرا دشمن ‘ لہٰذا اپنے دشمن کے حق میں آخر کیسے فیصلہ دے دوں ؟ آیت زیر نظر میں اس عامل کو بیان کرتے ہوئے دشمنی کی بنا پر بھی کتمانِ حق سے منع کردیا گیا :وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْاقف ہُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی ز وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ rّ تمہارا کوئی عمل اور کوئی قول اس کے علم سے خارج نہیں ‘ لہٰذا ہر وقت چوکس رہو ‘ چوکنے رہو۔ آیت زیر نظر اور سورة النساء کی آیت 135 کے معانی و مفہوم کا باہمی ربط اور الفاظ کی عکسی اور reciprocal ترتیب کا حسن لائقِ توجہ ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara