Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
5:82
۞ لتجدن اشد الناس عداوة للذين امنوا اليهود والذين اشركوا ولتجدن اقربهم مودة للذين امنوا الذين قالوا انا نصارى ذالك بان منهم قسيسين ورهبانا وانهم لا يستكبرون ٨٢
۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَـٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ٨٢
۞ لَتَجِدَنَّ
أَشَدَّ
ٱلنَّاسِ
عَدَٰوَةٗ
لِّلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱلۡيَهُودَ
وَٱلَّذِينَ
أَشۡرَكُواْۖ
وَلَتَجِدَنَّ
أَقۡرَبَهُم
مَّوَدَّةٗ
لِّلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱلَّذِينَ
قَالُوٓاْ
إِنَّا
نَصَٰرَىٰۚ
ذَٰلِكَ
بِأَنَّ
مِنۡهُمۡ
قِسِّيسِينَ
وَرُهۡبَانٗا
وَأَنَّهُمۡ
لَا
يَسۡتَكۡبِرُونَ
٨٢
Demi sesungguhnya engkau (wahai Muhammad) akan dapati manusia yang keras sekali permusuhannya kepada orang-orang yang beriman ialah orang-orang Yahudi dan orang-orang musyrik. Dan demi sesungguhnya engkau akan dapati orang-orang yang dekat sekali kasih mesranya kepada orang-orang yang beriman ialah orang-orang yang berkata: "Bahawa kami ini ialah orang-orang Nasrani" yang demikian itu, disebabkan ada di antara mereka pendita-pendita dan ahli-ahli ibadat, dan kerana mereka pula tidak berlaku sombong.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭

یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور جعفر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔

یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جا کر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12318:مرسل] ‏

یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی رحمة الله کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی ۔ [صحیح بخاری:1318] ‏

صفحہ نمبر2407

بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے۔‏“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے۔‏“ امام ابن جریر رحمة الله کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ”یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔‏“

یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔

صفحہ نمبر2408

علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ باربار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔

ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4439:ضعیف] ‏

ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لیے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً» [57-الحدید:27] ‏، یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے رخسار پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بایاں رخسار بھی پیش کر دے “۔

صفحہ نمبر2409

ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں۔ «قِسِسِیْنٌ» اور «قِسٌ» کی جمع «‏قِسِّیْسِیْنَ» ہے «‏قُسُوْسٌ» بھی اس کی جمع آتی ہے «رُهْبَانٌ» جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے «رَاکِبٌ» کی جمع «رُکْبَانٌ» ہے اور «فُرْسَانٌ» ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع «رَھَابِیْنَ» آتی ہے جیسے «قُرْبَانٌ» اور «قَرَابِیْنَ» اور «جوازن» اور «جوازین» اور کبھی اس کی جمع «رَهَابِنَه» بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے آیا۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص «قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا» ‏ پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «‏قِسِسِیْنٌ» ‏کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صدیقین وَرُهْبَانًا» ‏ پڑھایا ہے۔ [طبرانی کبیر:6175:ضعیف جدا] ‏

الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا، ان میں عابدوں کا ہونا، ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔

صفحہ نمبر2410
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara