Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
61:13
واخرى تحبونها نصر من الله وفتح قريب وبشر المومنين ١٣
وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌۭ قَرِيبٌۭ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٣
وَأُخۡرَىٰ
تُحِبُّونَهَاۖ
نَصۡرٞ
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَفَتۡحٞ
قَرِيبٞۗ
وَبَشِّرِ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
١٣
Dan ada lagi limpah kurnia yang kamu sukai, iaitu pertolongan dari Allah dan kemenangan yang cepat (masa berlakunya). Dan sampaikanlah berita yang mengembirakan itu kepada orang-orang yang beriman.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

اب اگلی آیت میں اس ”بونس“ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی عطا کردیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا :آیت 13{ وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَہَا } ”اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔“ یعنی اس جہاد میں تمہیں دنیا کی کامیابی بھی مل سکتی ہے۔ اگرچہ تمہاری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہم نہیں جس قدر تم اسے اہم سمجھتے ہو۔ وہ غلبہ دین کے لیے تمہاری کوششوں کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو آنِ واحد میں دین کو غالب کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو چیز اہم ہے وہ تمہاری جدوجہد اور اس جدوجہد میں تمہارا جذبہ ایثار و خلوص ہے ‘ اور یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔ اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہو تو اللہ کے ہاں کامیاب ہو ‘ چاہے دنیوی لحاظ سے تم ناکام ہی رہو۔ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ بربنائے طبع بشری تم لوگ اپنی اس جدوجہد کے مثبت نتائج اس دنیا میں بھی دیکھنا چاہتے ہو اور دنیوی فتح حاصل ہونے پر تم لوگ بہت خوش ہوتے ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ تمہاری خوشی کے لیے وہ بھی تمہیں عطا فرمائے گا۔ { نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌط } ”اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔“ بس اب اللہ تعالیٰ کی مدد آیا ہی چاہتی ہے اور دنیوی فتح بھی تمہارے قدم چومنے ہی والی ہے۔ یہ کس مدد اور کونسی فتح کی بشارت ہے ؟ یہ سمجھنے کے لیے غزوئہ احزاب کے حالات و واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ اس اعتبار سے یوں سمجھئے کہ سورة الصف کی حیثیت سورة الاحزاب کے ضمیمے کی سی ہے۔ { وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور اے نبی ﷺ آپ مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔“ غزوئہ احزاب کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ رض کو یہ خوشخبری ان الفاظ میں سنائی تھی : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَلٰٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ تفسیر ابن کثیر : 6/396 کہ اب اس سال کے بعد قریش تم پر کبھی چڑھائی نہیں کرسکیں گے ‘ بلکہ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ یہ ان کی طرف سے آخری حملہ تھا ‘ کفر کی کمر ٹوٹ چکی اور کفار حوصلہ ہار گئے ‘ اب اقدام تمہاری طرف سے ہوگا۔ چناچہ اس کے بعد اگلے سال 6 ہجری میں حضور ﷺ نے چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کا سفر اختیار فرمایا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کے مابین حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ } الفتح ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“ دوسری طرف اس بشارت کا تعلق آخرت سے بھی ہے کہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے نتیجے میں مومنین صادقین کو جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی اور اللہ کے ہاں انہیں ایک خاص مقام بھی عطا ہوگا۔ اور وہ ہوگا اللہ کے مددگار ہونے کا مقام ! یہاں یہ بات خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں عذاب الیم سے چھٹکارے کو ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے۔ آیت 10 میں یہ بات جس دو ٹوک انداز میں واضح کی گئی ہے اسے فزیالوجی کی زبان میں ”All or none Law“ کہتے ہیں۔ یعنی ایسی صورت حال جس میں کوئی چیز واقع ہوتی ہے تو پوری ہوتی ہے اور اگر نہیں واقع ہوتی تو بالکل نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ یا تناسب ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ارادی عضلات voluntary muscles کے سکڑنے کا معاملہ ایسا ہی ہے ‘ اگر محرک stimulus پورا مل جاتا ہے تو متعلقہ muscle کی پوری contraction ہوتی ہے اور اگر stimulus کم ہوتا ہے تو contraction بالکل نہیں ہوتی۔ اس مفہوم میں آیت 10 تا 13 کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ راستہ اختیار کریں گے ان کے سب گناہ بھی معاف ہوجائیں گے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے ایمان و عمل کو درجہ قبولیت مل جائے ‘ انہیں عذاب الیم سے چھٹکارا بھی ملے گا اور جنت عدن میں ٹھکانہ بھی نصیب ہوگا۔ صرف یہی نہیں ‘ بلکہ دنیا میں انہیں اللہ کی مدد سے فتح بھی ملے گی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار قرار پائیں گے۔۔۔ اس کے برعکس اگر ہم لوگ ایمان کے دعوے تو بہت کریں اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت کے نعرے بھی لگائیں ‘ لیکن مذکورہ دو شرائط ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ پوری کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا رویہ اللہ تعالیٰ کی بیزاری کو دعوت دینے کے مترادف ہے : { کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } الصف ”بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں“۔ چناچہ جو لوگ مذکورہ شرائط کا حق ادا کیے بغیر ہی سمجھتے ہیں کہ وہ آخرت میں نجات پاجائیں گے وہ ایک خود ساختہ خیال کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی سوچ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یعنی یہ ‘ معاذ اللہ ‘ کلامِ مہمل ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara