Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
61:5
واذ قال موسى لقومه يا قوم لم توذونني وقد تعلمون اني رسول الله اليكم فلما زاغوا ازاغ الله قلوبهم والله لا يهدي القوم الفاسقين ٥
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِى وَقَد تَّعْلَمُونَ أَنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ ۖ فَلَمَّا زَاغُوٓا۟ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمْ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٥
وَإِذۡ
قَالَ
مُوسَىٰ
لِقَوۡمِهِۦ
يَٰقَوۡمِ
لِمَ
تُؤۡذُونَنِي
وَقَد
تَّعۡلَمُونَ
أَنِّي
رَسُولُ
ٱللَّهِ
إِلَيۡكُمۡۖ
فَلَمَّا
زَاغُوٓاْ
أَزَاغَ
ٱللَّهُ
قُلُوبَهُمۡۚ
وَٱللَّهُ
لَا
يَهۡدِي
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلۡفَٰسِقِينَ
٥
Dan (ingatlah peristiwa) ketika Nabi Musa berkata kepada kaumnya: " Wahai kaumku! Mengapa kamu menyakiti daku, sedang kamu mengetahui bahawa sesungguhnya aku ini Pesuruh Allah kepada kamu?" Maka ketika mereka menyeleweng (dari kebenaran yang mereka sedia mengetahuinya), Allah selewengkan hati mereka (dari mendapat hidayah petunjuk); dan sememangnya Allah tidak memberi hidayah petunjuk kepada kaum yang fasik - derhaka.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

آیت 5 { وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰــقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ } ”اور یاد کرو جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم کیوں مجھے ایذا دے رہے ہو ؟“ یہ جس ایذا کا ذکر ہے وہ ذاتی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے انبیاء و رسل بھی آخر انسان تھے اور طبع بشری کے تحت ہر طرح کی تکلیف کو محسوس بھی کرتے تھے۔ جیسے سورة الاحزاب کی آیت 69 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے ایک تکلیف دہ معاملے کا ذکر آیا ہے یا جیسے خود حضور ﷺ کو مشرکین مکہ کی طرف سے بھی ذاتی نوعیت کی تکالیف پہنچائی جاتی رہیں اور منافقین کے طرزعمل سے بھی شدید ذہنی و قلبی اذیت سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے بنی اسرائیل کی طرف سے اصل اور سب سے بڑی ایذا وہ تھی جو حکم جہاد سے ان کے انکار کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو پہنچی تھی۔ اپنی قوم کے اس انکار کے بعد آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے جو دعا کی تھی اس کے ایک ایک لفظ میں شدت ِتکلیف کے احساسات کی جھلک نظر آتی ہے۔ ملاحظہ ہوں آپ علیہ السلام کی دعا کے یہ الفاظ :{ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ } المائدۃ”موسٰی علیہ السلام نے عرض کیا : پروردگار ‘ مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی جان کے ‘ تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان۔“ { وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ } ”جبکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔“ میرے نزدیک یہاں لفظ ”رسول“ نبی کے معنی میں آیا ہے۔ دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کی طرف ”نبی“ کی حیثیت سے تھی ‘ بطور ”رسول“ نہیں تھی۔ جبکہ قوم فرعون کی طرف آپ علیہ السلام بحیثیت ”رسول“ مبعوث ہوئے تھے : { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلاَئِہٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } الزخرف”اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو اس نے کہا کہ دیکھو میں تمام جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔“ کسی قوم کی طرف ”رسول“ کی بعثت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون ہمیشہ یہ رہا ہے کہ متعلقہ قوم پر اپنے رسول کی فرمانبرداری لازم ہوتی تھی۔ چناچہ جو قوم اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت کو رد کردیتی تھی اسے ہلاک کردیا جاتا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا اطلاق بنی اسرائیل پر نہیں ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پے در پے نافرمانی کے باوجود انہیں ہلاک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف قوم فرعون آپ علیہ السلام کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردی گئی۔ چناچہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت نبی کی تھی ‘ جبکہ آلِ فرعون کی طرف آپ علیہ السلام ”رسول“ مبعوث ہو کر آئے تھے۔ { فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ ط } ”پھر جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔“ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لوگوں کی ہدایت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا ایک بنیادی اصول اور قانون بیان ہوا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں قرآن مجید کی ان آیات کو سمجھنا بھی آسان ہوجاتا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو گمراہ کرنے یا ان کے دلوں پر مہر کردینے کا ذکر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہدایت کے راستے کو پہچان لینے کے بعد بھی اسے اختیار نہ کرے بلکہ گمراہی کی روش پر ہی چلتے رہنے کو ترجیح دے ‘ پھر وہ اس راستے پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مہلت کی حدود پھلانگ کر ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں سے اس کی واپسی کا کوئی امکان نہ ہو point of no return تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور اس پر ہدایت کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیتا ہے ‘ یعنی بندہ جب سمجھتے بوجھتے ہوئے ٹیڑھا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ اس کا دل ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کردیتا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک ! { وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ”اور اللہ فاسقوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara