Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
63:4
۞ واذا رايتهم تعجبك اجسامهم وان يقولوا تسمع لقولهم كانهم خشب مسندة يحسبون كل صيحة عليهم هم العدو فاحذرهم قاتلهم الله انى يوفكون ٤
۞ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌۭ مُّسَنَّدَةٌۭ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُمْ ۚ قَـٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ٤
۞ وَإِذَا
رَأَيۡتَهُمۡ
تُعۡجِبُكَ
أَجۡسَامُهُمۡۖ
وَإِن
يَقُولُواْ
تَسۡمَعۡ
لِقَوۡلِهِمۡۖ
كَأَنَّهُمۡ
خُشُبٞ
مُّسَنَّدَةٞۖ
يَحۡسَبُونَ
كُلَّ
صَيۡحَةٍ
عَلَيۡهِمۡۚ
هُمُ
ٱلۡعَدُوُّ
فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ
قَٰتَلَهُمُ
ٱللَّهُۖ
أَنَّىٰ
يُؤۡفَكُونَ
٤
Dan apabila engkau melihat mereka, engkau tertarik hati kepada tubuh badan mereka (dan kelalukannya); dan apabila mereka berkata-kata, engkaujuga (tertarik hati) mendengar tutur katanya (kerana manis dan fasih. Dalam pada itu) mereka adalah seperti batang-batang kayu yang tersandar (tidak terpakai kerana tidak ada padanya kekuatan yang dikehendaki). Mereka (kerana merasai bersalah, sentiasa dalam keadaan cemas sehingga) menyangka tiap-tiap jeritan (atau riuh rendah yang mereka dengar) adalah untuk membahayakan mereka. Mereka itulah musuh yang sebenar-benarnya maka berjaga-jagalah engkau terhadap mereka. Semoga Allah membinasa dan menyingkirkan mereka dari rahmatNya. (Pelik sungguh!) Bagaimana mereka dipalingkan (oleh hawa nafsunya - dari kebenaran)?
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

آیت 4 { وَاِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ } ”اے نبی ﷺ ! جب آپ انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو بڑے اچھے لگتے ہیں۔“ جسمانی طور پر ان کی شخصیات بڑی دلکش اور متاثر کن ہیں۔ { وَاِنْ یَّـقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ } ”اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کی بات سنتے ہیں۔“ ظاہر ہے یہ لوگ سرمایہ دار بھی تھے اور معاشرتی لحاظ سے بھی صاحب حیثیت تھے۔ اس لحاظ سے ان کی گفتگو ہر فورم پر توجہ سے سنی جاتی تھی۔ { کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ} ”لیکن اصل میں یہ دیوار سے لگائی ہوئی خشک لکڑیوں کی مانند ہیں۔“ حقیقت میں ان لوگوں کی حیثیت ان خشک لکڑیوں کی سی ہے جو کسی سہارے کے بغیر کھڑی بھی نہیں ہوسکتیں اور انہیں دیوار کی ٹیک لگا کر کھڑا کیا جاتا ہے۔ { یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ } ”یہ ہر زور کی آواز کو اپنے ہی اوپر گمان کرتے ہیں۔“ اندر سے یہ لوگ اس قدر بودے اور بزدل ہیں کہ کوئی بھی زور کی آواز یا کوئی آہٹ سنتے ہیں تو ان کی جان پر بن جاتی ہے۔ یہ ہر خطرے کو اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں اور ہر وقت کسی ناگہانی حملے کے خدشے یا جہاد و قتال کے تقاضے کے ڈر سے سہمے رہتے ہیں۔ { ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ } ”آپ ﷺ کے اصل دشمن یہی ہیں ‘ آپ ان سے بچ کر رہیں !“ یہ ان کے مرض نفاق کی تیسری سٹیج کا ذکر ہے۔ ان کی دشمنی چونکہ دوستی کے پردے میں چھپی ہوتی ہے اس لیے یہاں خصوصی طور پر ان سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آستین کے سانپ ہیں۔ مشرکین مکہ کے لشکر آپ لوگوں کے لیے اتنے خطرناک نہیں جتنے یہ اندر کے دشمن خطرناک ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ ان کو ہلکا نہ سمجھیں اور ان سے ہوشیار رہیں۔ ایسی صورت حال کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول بہت اہم ہے کہ ”فاختہ کی مانند بےضرر لیکن سانپ کی طرح ہوشیار رہو“۔ منافقین اگرچہ حضور ﷺ سے دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ‘ لیکن حضور ﷺ کی شان یہی تھی کہ آپ ﷺ ان کی غلطیاں اور گستاخیاں مسلسل نظرانداز فرماتے رہتے تھے ‘ بلکہ آپ ﷺ اپنی طبعی شرافت اور مروّت کی وجہ سے ان کے جھوٹے بہانے بھی مان لیتے تھے۔ یہاں تک کہ غزوئہ تبوک کی تیاری کے موقع پر جب آپ ﷺ نے بہت سے منافقین کو جھوٹے بہانوں کی وجہ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ آگئی : { عَفَا اللّٰہُ عَنْکَج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ۔ } التوبۃ ”اے نبی ﷺ ! اللہ آپ کو معاف فرمائے یا اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا آپ نے انہیں کیوں اجازت دے دی ؟ یہاں تک کہ آپ کے لیے واضح ہوجاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور آپ یہ بھی جان لیتے کہ کون جھوٹے ہیں !“ { قَاتَلَہُمُ اللّٰہُز اَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ۔ } ”اللہ ان کو ہلاک کرے ‘ یہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں !“ تصور کیجیے یہ لوگ کس قدرقابل رشک مقام سے ناکام و نامراد لوٹے ہیں ! ان کو نبی آخر الزماں ﷺ کا زمانہ نصیب ہوا ‘ آپ ﷺ کی دعوت ایمان پر لبیک کہنے کی توفیق ملی ‘ آپ ﷺ کے قدموں میں بیٹھنے کے مواقع ہاتھ آئے۔ کیسی کیسی سعادتیں تھیں جو ان لوگوں کے حصے میں آئی تھیں۔ بقول ابراہیم ذوق : ع ”یہ نصیب اللہ اکبر ! لوٹنے کی جائے ہے“۔ مگر دوسری طرف ان کی بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ یہاں تک پہنچ کر بھی یہ لوگ نامراد کے نامراد ہی رہے۔ مقامِ عبرت ہے ! کس بلندی پر پہنچ کر یہ لوگ کس اتھاہ پستی میں گرے ہیں : ؎قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دوچارہاتھ جب کہ لب ِبام رہ گیا !

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara