Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
67:2
الذي خلق الموت والحياة ليبلوكم ايكم احسن عملا وهو العزيز الغفور ٢
ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَيَوٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ ٢
ٱلَّذِي
خَلَقَ
ٱلۡمَوۡتَ
وَٱلۡحَيَوٰةَ
لِيَبۡلُوَكُمۡ
أَيُّكُمۡ
أَحۡسَنُ
عَمَلٗاۚ
وَهُوَ
ٱلۡعَزِيزُ
ٱلۡغَفُورُ
٢
Dia lah yang telah mentakdirkan adanya mati dan hidup (kamu) - untuk menguji dan menzahirkan keadaan kamu: siapakah di antara kamu yang lebih baik amalnya; dan Ia Maha Kuasa (membalas amal kamu), lagi Maha Pengampun, (bagi orang-orang yang bertaubat);
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Ayat-ayat Berkaitan
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 67:1 hingga 67:4
تفسیر سورۃ الملک:

مسند احمد میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کریم میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» ہے۔‏“ ابوداؤد، نسائی، اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [سنن ترمذي:2891،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں۔ تاریخ ابن عساکر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کا ایک شخص مر گیا جس کے ساتھ کتاب اللہ میں سے سوائے سورۃ «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» کے اور کوئی چیز نہ تھی جب اسے دفن کیا گیا اور فرشتہ اس کے پاس آیا تو یہ سورت اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ فرشتے نے کہا تو کتاب اللہ ہے میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا، تجھے معلوم ہے کہ تیرے یا اپنے یا اس میت کے کسی نفع نقصان کا مجھے اختیار نہیں اگر تو یہی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر اس کی سفارش کر چنانچہ یہ سورت اللہ عزوجل کے پاس جائے گی اور کہے گی، اے اللہ! تیری کتاب میں سے مجھے فلاں شخص نے سیکھا پڑھا اب کیا تو اسے آگ میں جلائے گا؟ کیا باوجودیکہ میں اس کے سینے میں محفوظ ہوں تو اسے عذاب کرے گا؟ اگر یہی کرنا ہے تو مجھے اپنی کتاب میں سے مٹا ڈال۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اس وقت سخت غضبناک ہے۔ یہ کہے گی مجھے حق ہے کہ میں اپنی ناراضی ظاہر کروں۔ پس جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ جا میں نے اسے تجھے دیا اور تیری سفارش قبول کر لی۔ اب یہ سورت اس کے پاس جائے گی اور عذاب کے فرشتے کو ہٹا دے گی اور اس کے منہ سے اپنا منہ ملا کر کہے گی اس منہ کو مرحبا ہو یہی میری تلاوت کیا کرتا تھا اس سینے کو صد شاباش ہو اس نے مجھے یاد کر رکھا تھا، ان دونوں قدموں کو مبارکباد ہو، یہیں کھڑے ہو کر راتوں کو میری قرأت کے ساتھ قیام کیا کرتے تھے اور یہ سورت قبر میں اس کی مونس اور غم خوار بن جائے گی اور کوئی ڈر و دہشت اسے نہیں پہنچنے دے گی اس حدیث کے سنتے ہی تمام چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام نے اسے سیکھ لیا اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «منجیہ» رکھا، یعنی نجات دلوانے والی سورت، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ حدیث بہت ہی منکر ہے اس کے راوی فرات بن سائب کو امام احمد امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، امام ابوحاتم، امام دارقطنی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ ضعیف کہتے ہیں۔

اور دوسری سند سے مروی ہے کہ یہ قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب اثبات عذاب قبر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مرفوع بھی بیان کی ہے اور موقوف بھی۔ اس میں بھی جو مضمون ہے وہ اس کی شہادت میں کام دے سکتا ہے۔ ہم نے اسے احکام کبریٰ کی کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔ «وللہ الحمد»

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن کی ایک سورت ہے جس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے لڑ جھگڑ کر اسے جنت میں داخل کرایا وہ سورۃ تبارک ہے۔ [مجمع الزوائد:130/7،حسن] ‏

ترمذی شریف میں ہے کہ کسی صحابی نے جنگل میں ایک ڈیرا لگایا جہاں ایک قبر بھی تھی لیکن اسے علم نہ تھا اس نے سنا کہ کوئی سورۃ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے اسے پورا پڑھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت روکنے والی ہے، یہ سورت نجات دلوانے والی ہے جو عذاب قبر سے نجات دلواتی ہے“، یہ حدیث غریب ہے، [سنن ترمذي:2890،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورۃ السجدہ، اور سورۃ الملك ضرور پڑھ لیا کرتے تھے، [سنن ترمذي:2892،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طاؤس کی روایت ہے کہ یہ دونوں سورتیں قرآن کی اور سورتوں پر ستر نیکیاں فضیلت رکھتی ہیں، طبرانی میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے“ یعنی سورۃ تبارک۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس کا راوی ابراہیم ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد:11429،ضعیف] ‏ اور اسی جیسی روایت سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

مسند عبد بن حمید میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا آ میں تجھے ایک ایسا تحفہ دوں کہ تو خوش ہو جائے، سورة الملك پڑھا کر اور اسے اپنے اہل و عیال کو، اولاد کو، گھر کے بچوں کو اور پڑوسیوں کو سکھا یہ سورت نجات دلوانے والی اور شفاعت کرنے والی ہے، قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی طرف سے اللہ سے سفارش کرے گی اور اسے عذاب آگ سے بچا لے گی اور عذاب قبر سے بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ میرے ایک ایک امتی کے دل میں یہ ہو۔ [مسند عبد بن حمید،ص:206،ضعیف] ‏

بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ” تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے “۔

پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔ جیسے اور جگہ ہے «‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» [2-البقرة:28] ‏ ” تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا “ “، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» [2-البقرة:28] ‏ ” وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا “۔

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ ۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔

صفحہ نمبر9627
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭

آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔

بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔ اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔

صفحہ نمبر9628
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara