Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
67:21
امن هاذا الذي يرزقكم ان امسك رزقه بل لجوا في عتو ونفور ٢١
أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُۥ ۚ بَل لَّجُّوا۟ فِى عُتُوٍّۢ وَنُفُورٍ ٢١
أَمَّنۡ
هَٰذَا
ٱلَّذِي
يَرۡزُقُكُمۡ
إِنۡ
أَمۡسَكَ
رِزۡقَهُۥۚ
بَل
لَّجُّواْ
فِي
عُتُوّٖ
وَنُفُورٍ
٢١
Atau siapa dia yang dapat memberi rezeki kepada kamu jika Allah menahan rezekiNya? (Tidak ada sesiapapun), bahkan mereka (yang musyrik itu) kekal terus dalam keadaan sombong angkuh serta melarikan diri (dari kebenaran).
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Ayat-ayat Berkaitan
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 67:20 hingga 67:27
رزاق صرف رب قدیر ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس عقیدے کی تردید کر رہا ہے جو وہ خیال رکھتے تھے کہ جن بزرگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد کر سکتے ہیں اور انہیں روزیاں پہنچا سکتے ہیں فرماتا ہے کہ ” سوائے اللہ کے نہ تو کوئی مدد دے سکتا ہے، نہ روزی پہنچا سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے، کافروں کا یہ عقیدہ محض ایک دھوکہ ہے “۔

اگر اب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری روزیاں روک لے تو پھر کوئی بھی انہیں جاری نہیں کر سکتا، دینے لینے پر، پیدا کرنے اور فنا کرنے پر، رزق دینے اور مدد کرنے پر صرف اللہ عزوجل «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو ہی قدرت ہے۔ یہ لوگ خود اسے دل سے جانتے ہیں، تاہم اعمال میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کفار اپنی گمراہی، کج روی، گناہ اور سرکشی میں بہے چلے جاتے ہیں ان کی طبیعتوں میں ضد، تکبر اور حق سے انکار بلکہ حق کی عداوت بیٹھ چکی ہے، یہاں تک کہ پہلی باتوں کا سننا بھی انہیں گوارا نہیں عمل کرنا تو کہاں؟

پھر مومن و کافر کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ” کافر کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص کمر کبڑی کر کے سر جھکائے نظریں نیچی کئے چلا جا رہا ہے نہ راہ دیکھتا ہے، نہ اسے معلوم ہے کہ کہاں جا رہا ہے بلکہ حیران، پریشان، راہ بھولا اور ہکا بکا ہے۔ اور مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سیدھی راہ پر، سیدھا کھڑا ہوا چل رہا ہے، راستہ خود صاف اور بالکل سیدھا ہے یہ شخص خود اسے بخوبی جانتا ہے اور برابر صحیح طور پر اچھی چال سے چل رہا ہے، یہی حال ان کا قیامت کے دن ہو گا کہ کافر تو اوندھے منہ جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اور مسلمان عزت کے ساتھ جنت میں پہنچائے جائیں گے “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23،22] ‏ الخ، ” ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا تھے جمع کر کے جہنم کا راستہ دکھا دو “۔

صفحہ نمبر9648
مجرموں کا منہ کے بل چلایا جانا ٭٭

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ منہ کے بل چل کر کس طرح حشر کئے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے انہیں اپنے پیروں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے“ ۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔ [صحیح بخاری:4760] ‏

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ جب کہ تم کچھ نہ تھے پیدا کیا تمہیں کان آنکھ اور دل دیئے یعنی عقل و ادراک تم میں پیدا کیا لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو یعنی اپنی ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی حکم برداری میں اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے میں بہت ہی کم خرچ کرتے ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا، تمہاری زبانیں جدا، تمہارے رنگ روپ جدا، تمہاری شکلوں صورتوں میں اختلاف۔ اور تم زمین کے چپہ چپہ پر بسا دیئے گئے، پھر اس پراگندگی اور بکھرنے کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ تم سب اس کے سامنے لا کر کھڑے کر دیئے جاؤ گے اس نے جس طرح تمہیں ادھر ادھر پھیلا دیا ہے، اسی طرح ایک طرف سمیٹ لے گا اور جس طرح اولاً اس نے تمہیں پیدا کیا دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔

صفحہ نمبر9649
دوبارہ بٹھایا جانا ٭٭

پھر بیان ہوتا ہے کہ ” کافر مر کر دوبارہ جینے کے قائل نہیں وہ اس دوسری زندگی کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں اس کا بیان سن کر اعتراض کرتے ہیں کہ اچھا پھر وہ وقت کب آئے گا جس کی ہمیں خبر دے رہے ہو، تو بتا دو کہ اس پراگندگی کے بعد اجتماع کب ہو گا؟ “

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ ” ان کو جواب دو کہ اس کا علم مجھے نہیں کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ اسے تو صرف وہی علام الغیوب جانتا ہے، ہاں اتنا مجھے کہا گیا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور، میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اور اس دن کی ہولناکیوں سے مطلع کر دوں، میرا فرض صرف تمہیں پہنچا دینا تھا جسے بحمد للہ میں ادا کر چکا “۔

پھر ارشاد باری ہوتا ہے کہ ” جب قیامت قائم ہونے لگے گی اور کفار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اب وہ قریب آ گئی کیونکہ ہر آنے والی چیز آ کر ہی رہتی ہے، گو دیر سویر سے آئے، جب اسے آیا ہوا پا لیں گے، جسے اب تک جھٹلاتے رہے تو انہیں بہت برا لگے گا کیونکہ اپنی غفلت کا نتیجہ سامنے دیکھنے لگیں گے اور قیامت کی ہولناکیاں بدحواس کئے ہوئے ہوں گی، آثار سب سامنے ہوں گے “، اس وقت ان سے بطور ڈانٹ کے اور بطور تذلیل کرنے کے کہا جائے گا یہی ہے ” جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “۔

صفحہ نمبر9650
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara