Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
7:31
۞ يا بني ادم خذوا زينتكم عند كل مسجد وكلوا واشربوا ولا تسرفوا انه لا يحب المسرفين ٣١
۞ يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ ٣١
۞ يَٰبَنِيٓ
ءَادَمَ
خُذُواْ
زِينَتَكُمۡ
عِندَ
كُلِّ
مَسۡجِدٖ
وَكُلُواْ
وَٱشۡرَبُواْ
وَلَا
تُسۡرِفُوٓاْۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُحِبُّ
ٱلۡمُسۡرِفِينَ
٣١
Wahai anak-anak Adam! Pakailah pakaian kamu yang indah berhias pada tiap-tiap kali kamu ke tempat ibadat (atau mengerjakan sembahyang), dan makanlah serta minumlah, dan jangan pula kamu melampau; sesungguhnya Allah tidak suka akan orang-orang yang melampaui batas.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

آیت 31 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ یہاں اچھے لباس کو زینت کہا گیا ہے ‘ جیسا کہ آیت 26 میں لباس کو رِیْشًا فرمایا گیا تھا ‘ یعنی لباس انسان کے لیے زیب وزینت کا ذریعہ ہے۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی قابل غور ہے کہ ابھی جن تین آیات 26 ‘ 27 اور 31 میں لباس کا ذکر ہوا ہے ‘ ان تینوں میں بنی آدم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس کا معاملہ پوری نوع انسانی سے متعلق ہے۔ بہر حال اس آیت میں جو اہم حکم دیا جا رہا ہے وہ نماز کے وقت بہتر لباس زیب تن کرنے کے بارے میں ہے۔ ہمارے ہاں اس سلسلے میں عام طور پر الٹی روش چلتی ہے۔ دفتر اور عام میل ملاقات کے لیے تو عموماً بہت اچھے لباس کا اہتمام کیا جاتا ہے ‘ لیکن مسجد جانا ہو تو میلے کچیلے کپڑوں سے ہی کام چلا لیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب تمہیں میرے دربار میں آنا ہو تو پورے اہتمام کے ساتھ آیا کرو ‘ اچھا اور صاف ستھرا لباس پہن کر آیا کرو۔وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَ تُسْرِفُوْاج اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ بنی آدم سے کہا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کی چیزیں تمہارے لیے ہی بنائی گئیں ہیں اور ان چیزوں سے جائز اور معروف طریقوں سے استفادہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ‘ لیکن اللہ کی عطا کردہ ان نعمتوں کے بےجا استعمال اور اسراف سے اجتناب بھی ضروری ہے ‘ کیونکہ اسراف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ یہاں ایک طرف تو اسی رہبانی نظریہ کی نفی ہو رہی ہے جس میں اچھے کھانے ‘ اچھے لباس اور زیب و زیبائش کو سرے سے اچھا نہیں سمجھا جاتا اور مفلسانہ وضع قطع اور ترک لذات کو روحانی ارتقاء کے لیے ضروری خیال کیا جاتا ہے ‘ جبکہ دوسری طرف دنیوی نعمتوں کے بےجا اسراف اور ضیاع سے سختی سے منع کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں افراط وتفریط سے بچنے کے لیے ضروریات زندگی کے اکتساب و تصرف کے معیار اور فلسفے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک مسلمان جہاں کہیں بھی رہتا بستا ہے اس کو دو صورتوں میں سے ایک صورت حال درپیش ہوسکتی ہے۔ اس کے ملک میں یا تو دین غالب ہے یا مغلوب۔ اب اگر آپ کے ملک میں اللہ کا دین مغلوب ہے تو آپ کا پہلا فرض یہ ہے کہ آپ اللہ کے دین کے غلبے کی جدو جہد کریں اور اس کے لیے کسی باقاعدہ تنظیم میں شامل ہو کر اپنا بیشتر وقت اور صلاحیتیں اس جدوجہد میں لگائیں۔ ایسی صورت حال میں دنیوی طور پر ترقی کرنا اور پھلنا پھولنا آپ کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے ‘ بلکہ آپ کی پہلی ترجیح دین کے غلبے کے لیے جدو جہد ہونی چاہیے اور آپ کا ماٹو اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الانعام ہونا چاہیے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ مادی لحاظ سے بہت بہتر معیار زندگی کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ اس لیے نہیں ہوگا کہ آپ رہبانیت یا ترک لذات کے قائل ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ دنیا اور دنیوی آسائشیں کمانے کے لیے نہ آپ کوشاں ہیں اور نہ ہی اس کے لیے آپ کے پاس وقت ہے۔ آپ تو شعوری طور پر ضروریات زندگی کو کم سے کم معیار پر رکھ کر اپنی تمام تر صلاحیتیں ‘ اپنا وقت اور اپنے وسائل دین کی سر بلندی کے لیے کھپا رہے ہیں۔ یہ رہبانیت نہیں ہے بلکہ ایک مثبت جہادی نظریہ ہے۔ جیسے نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رض نے سختیاں جھیلیں اور اپنے گھر باراسی دین کی سر بلندی کے لیے چھوڑے۔ کیونکہ اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتوں کو نازل نہیں کرے گا ‘ بلکہ یہ کام انسانوں نے کرنا ہے ‘ مسلمانوں نے کرنا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ انقلاب کے داعی بنے ہیں انہیں قربانیاں دینا پڑی ہیں ‘ انہیں سختیاں اٹھانا پڑی ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی انقلاب قربانیوں کے بغیر نہیں آتا۔ لہٰذا اگر آپ واقعی اپنے دین کو غالب کرنے کے لیے انقلاب کے داعی بن کر نکلے ہیں تو آپ کا معیار زندگی خود بخود کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ البتہ اگر آپ کے ملک میں دین غالب ہوچکا ہے ‘ نظا مِ خلافت قائم ہوچکا ہے ‘ اسلامی فلاحی ریاست وجود میں آچکی ہے تو دین کی مزید نشر و اشاعت ‘ دعوت و تبلیغ اور نظام خلافت کی توسیع ‘ عوامی فلاح و بہبود کی نگرانی ‘ امن وامان کا قیام ‘ ملکی سرحدوں کی حفاظت ‘ یہ سب حکومت اور ریاست کی ذمہ داریاں ہیں۔ ایسی اسلامی ریاست میں ایک فرد کی ذمہ داری صرف اسی حد تک ہے جس حد تک حکومت کی طرف سے اسے مکلف کیا جائے۔ وہ کسی ٹیکس کی صورت میں ہو یا پھر کسی اور نوعیت کی ذمہ داری ہو۔ لیکن ایسی صورت حال میں ایک فرد ‘ ایک عام شہری آزاد ہے کہ وہ دین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی اپنی مرضی سے گزارے۔ اچھا کمائے ‘ اپنے بچوں کے لیے بہتر معیار زندگی اپنائے ‘ دنیوی ترقی کے لیے محنت کرے ‘ علمی و تحقیقی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزمائے یا روحانی ترقی کے لیے مجاہدہ کرے ‘ تمام راستے اس کے لیے کھلے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara