Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
8:74
والذين امنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله والذين اووا ونصروا اولايك هم المومنون حقا لهم مغفرة ورزق كريم ٧٤
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ ٧٤
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَهَاجَرُواْ
وَجَٰهَدُواْ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَٱلَّذِينَ
ءَاوَواْ
وَّنَصَرُوٓاْ
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
حَقّٗاۚ
لَّهُم
مَّغۡفِرَةٞ
وَرِزۡقٞ
كَرِيمٞ
٧٤
Dan orang-orang yang beriman dan berhijrah serta berjihad pada jalan Allah (untuk membela Islam), dan orang-orang (Ansar) yang memberi tempat kediaman dan pertolongan (kepada orang-orang Islam yang berhijrah itu), merekalah orang-orang yang beriman dengan sebenar-benarnya. Mereka beroleh keampunan dan limpah kurnia yang mulia.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

آیت 74 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ یہاں پر مہاجرین اور انصار کے ان دونوں گروہوں کا اکٹھے ذکر کر کے ان مؤمنین صادقین کی خصوصیات کے حوالے سے ایک حقیقی مؤمن کی تعریف definition کے دوسرے رخ کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ اس کے پہلے حصے یا رخ کے بارے میں ہم اسی سورت کی آیت 2 اور 3 میں پڑھ آئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھنے سے پہلے مذکورہ آیات کے مضمون کو ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کرلیجئے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ۔۔ ‘ یعنی کلمۂ شہادت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ۔ یہ پانچ ارکان مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہیں ‘ لیکن حقیقی مؤمن ہونے کے لیے ان میں دو چیزوں کا مزید اضافہ ہوگا ‘ جن کا ذکر ہمیں سورة الحجرات کی آیت 15 میں ملتا ہے : یقین قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ۔ یعنی ایمان میں زبان کی شہادت کے ساتھ یقین قلبیکا اضافہ ہوگا اور اعمال میں نماز ‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا۔ گویا یہ سات چیزیں یا سات شرطیں پوری ہوں گی تو ایک شخص بندۂ مؤمن کہلائے گا۔ اس بندۂ مؤمن کی شخصیت کا جو نقشہ اس سورت کی آیت 2 اور 3 میں دیا گیا ہے اس کے مطابق اس کے دل میں یقین والا ایمان ہے ‘ اللہ کی یاد سے اس کا دل لرز اٹھتا ہے ‘ آیات قرآنی پڑھتا ہے یا سنتا ہے تو دل میں ایمان بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھتا ہے ‘ نماز قائم کرتا ہے ‘ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اِن خصوصیات کے ساتھ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط کی مہر لگا دی گئی اور اس مہر کے ساتھ وہاں پر آیت 4 مؤمن کی شخصیت کا ایک رخ یا ایک صفحہ مکمل ہوگیا۔ اب بندۂ مؤمن کی شخصیت کا دوسرا صفحہ یا رخ آیت زیر نظر میں یوں بیان ہوا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ لازمی شرط کے طور پر اس میں شامل کردیا گیا اور پھر اس پر بھی وہی مہر ثبت کی گئی ہے : اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط چناچہ یہ دونوں رخ مل کر بندۂ مؤمن کی تصویر مکمل ہوگئی۔ ایک شخصیت کی تصویر کے یہ دو رخ ایسے ہیں جن کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دو صفحے ہیں جن سے مل کر ایک ورق بنتا ہے۔ صحابہ کرام رض کی شخصیتوں کے اندر یہ دونوں رخ ایک ساتھ پائے جاتے تھے ‘ مگر جیسے جیسے امت زوال پذیر ہوئی ‘ بندۂ مؤمن کی شخصیت کی خصوصیات کے بھی حصے بخرے کردیے گئے۔ بقول علامہ اقبالؔ : ؂اڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری آج مسلمانوں کی مجموعی حالت یہ ہے کہ اگر کچھ حلقے ذکر کے لیے مخصوص ہیں تو ان کو جہاد اور فلسفۂ جہاد سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسری طرف جہادی تحریکیں ہیں تو ان کو روحانی کیفیات سے شناسائی نہیں۔ لہٰذا آج امت کے دکھوں کے مداوا کرنے کے لیے ایسے اہل ایمان کی ضرورت ہے جن کی شخصیات میں یہ دونوں رنگ اکٹھے ایک ساتھ جلوہ گر ہوں۔ جب تک مؤمنین صادقین کی ایسی شخصیات وجود میں نہیں آئیں گی ‘ جن میں صحابہ کرام رض کی طرح دونوں پہلوؤں میں توازن ہو ‘ اس وقت تک مسلمان امت کی بگڑی تقدیر نہیں سنور سکتی۔ اگرچہ صحابہ کرام رض جیسی کیفیات کا پیدا ہونا تو آج نا ممکنات میں سے ہے ‘ لیکن کسی نہ کسی حد تک ان ہستیوں کا عکس اپنی شخصیات میں پیدا کرنے اور ایک ہی شخصیت کے اندر ان دونوں خصوصیات کا کچھ نہ کچھ توازن پیدا کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ان میں سے ایک کیفیت ایک شخصیت کے اندر 25 فیصد ہو اور دوسری کیفیت بھی 25 فیصد کے لگ بھگ ہو تو قابل قبول ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ روحانی کیفیت تو 70 فیصد ہو مگر جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ صفر ہے یا جہاد کا جذبہ تو 80 فیصد ہے مگر روحانیت کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی تو ایسی شخصیت نظریاتی لحاظ سے غیر متوازن ہوگی۔ بہر حال ایک بندۂ مؤمن کی شخصیت کی تکمیل کے لیے یہ دونوں رخ ناگزیر ہیں۔ ان کو اکٹھا کرنے اور ایک شخصیت میں توازن کے ساتھ جمع کرنے کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara