Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
9:37
انما النسيء زيادة في الكفر يضل به الذين كفروا يحلونه عاما ويحرمونه عاما ليواطيوا عدة ما حرم الله فيحلوا ما حرم الله زين لهم سوء اعمالهم والله لا يهدي القوم الكافرين ٣٧
إِنَّمَا ٱلنَّسِىٓءُ زِيَادَةٌۭ فِى ٱلْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُحِلُّونَهُۥ عَامًۭا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامًۭا لِّيُوَاطِـُٔوا۟ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّوا۟ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوٓءُ أَعْمَـٰلِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَـٰفِرِينَ ٣٧
إِنَّمَا
ٱلنَّسِيٓءُ
زِيَادَةٞ
فِي
ٱلۡكُفۡرِۖ
يُضَلُّ
بِهِ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
يُحِلُّونَهُۥ
عَامٗا
وَيُحَرِّمُونَهُۥ
عَامٗا
لِّيُوَاطِـُٔواْ
عِدَّةَ
مَا
حَرَّمَ
ٱللَّهُ
فَيُحِلُّواْ
مَا
حَرَّمَ
ٱللَّهُۚ
زُيِّنَ
لَهُمۡ
سُوٓءُ
أَعۡمَٰلِهِمۡۗ
وَٱللَّهُ
لَا
يَهۡدِي
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
٣٧
Sesungguhnya perbuatan mengundurkan (kehormatan itu dari satu bulan ke satu bulan yang lain) adalah menambah kekufuran yang menjadikan orang-orang kafir itu tersesat kerananya. Mereka menghalalkannya pada satu tahun dan mengharamkannya pada tahun yang lain, supaya mereka dapat menyesuaikan bilangan (bulan-bulan yang empat) yang telah diharamkan Allah (berperang di dalamnya); dengan itu mereka menghalalkan apa yang telah diharamkan oleh Allah. Perbuatan buruk mereka itu dihias dan dijadikan indah (oleh Syaitan) untuk dipandang baik oleh mereka. Dan (ingatlah) Allah tidak memberi hidayah petunjuk kepada orang-orang yang kafir.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

آیت 37 اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الْْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یعنی امن کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں مزید ایک کافرانہ حرکت ہے۔یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِءُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ط یعنی اس طرح الٹ پھیر کر کے وہ ان مہینوں کو حلال کرلیتے جو اصل میں اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں۔ مشرکین عرب بھی بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو محترم مانتے تھے مگر اپنی مرضی سے ان مہینوں کو آگے پیچھے کرتے رہتے اور سال کے آخر تک ان کی تعداد پوری کردیتے۔زُیِّنَ لَہُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِہِمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ یہاں وہ پانچ رکوع ختم ہوئے جن کا تعلق نبی اکرم ﷺ کی بعثت خصوصی سے ہے۔ ان آیات میں اس سلسلے میں تکمیلی اور آخری احکام دے دیے گئے ہیں۔ اب چھٹے رکوع سے غزوۂ تبوک کے موضوع کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس کے پس منظر کے ضمن میں چند باتیں پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں۔ سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ نے عرب سے باہر مختلف فرمانرواؤں کی طرف اپنے خطوط اور ایلچی بھیجنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کا نامۂ مبارک بصرٰی شام کے رئیس شرحبیل بن عمرو کی طرف بھی بھیجا گیا۔ یہ شخص رومن ایمپائر کا باج گزار تھا۔ اس کے پاس حضور ﷺ کا نامۂ مبارک حضرت حارث بن عمیر ازدی رض لے کر گئے تھے۔ شرحبیل نے تمام اخلاقی و سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حضرت حارث رض کو شہید کرادیا۔ لہٰذا سفیر کے قتل کو اعلان جنگ سمجھتے ہوئے حضور ﷺ نے تین ہزار صحابہ رض پر مشتمل ایک لشکر تیار کر کے حضرت زید بن حارثہ رض کی زیر قیادت شام کی طرف بھیجا۔ جب یہ لشکر موتہ پہنچا تو انہوں نے ایک لاکھ رومیوں کا لشکر اپنے خلاف صف آرا پایا۔ مخالف لشکر کی تعداد کا اندازہ کرنے کے بعد مسلمانوں میں مقابلہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں مشورہ ہوا۔ چناچہ شوق شہادت میں انہوں نے مقابلے کا فیصلہ کیا۔شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن نہ مال غنیمت ‘ نہ کشور کشائی ! اقبالؔ جمادی الاولیٰ 8 ہجری کو ان دونوں لشکروں کے درمیان موتہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔ مسلمان لشکر کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید رض بن حارثہ کے علاوہ خصوصی طور پر دو مزید کمانڈر بھی مقررفرمائے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر زید رض شہید ہوجائیں تو جعفر رض بن ابی طالب جعفر طیار رض کمان سنبھالیں گے ‘ اور اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری رض لشکر کے امیر ہوں گے۔ چناچہ آپ ﷺ کے مقرر کردہ تینوں کمانڈر اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رض کی شہادت کے بعد حضرت خالدبن ولید رض نے از خود لشکر کی کمان سنبھالی ‘ اور کامیاب حکمت عملی کے تحت اپنے لشکر کو رومیوں کے نرغے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ جنگ موتہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں حضور ﷺ نے اعلان عام فرمایا کہ رومیوں کے مقابلے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک بڑا لشکر تبوک کے لیے روانہ کیا جائے۔ اس مرتبہ آپ ﷺ نے خود لشکر کے ساتھ جانے کا فیصلہ فرمایا۔ تبوک مدینہ سے شمال کی جانب تقریباً ساڑھے تین سو میل کی مسافت پر حجاز کا آخری شہر ہے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں سے آگے اس زمانے میں رومن ایمپائر کی سرحد شروع ہوتی تھی۔ غزوۂ تبوک میں شرکت کے لیے آپ ﷺ نے اعلان عام فرمایا تھا۔ یعنی جنگ کے قابل ہر صاحب ایمان شخص کے لیے فرض تھا کہ وہ اس مہم میں شریک ہو۔ یہ اہل ایمان کے لیے سخت امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔ قحط کا زمانہ ‘ شدید گرمی کا موسم ‘ طویل صحرائی سفر ‘ وقت کی سپر پاور سے مقابلہ اور سب پر مستزاد یہ کہ فصل سنبھالنے کا موسم سر پر کھڑا تھا۔ گویا ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ تھا اور ایک سے بڑھ کر ایک امتحان ! مدینہ کے بیشتر لوگوں کی سال بھر کی معیشت کا دارومدار کھجور کی فصل پر تھا ‘ جو اس وقت پک کر تیار کھڑی تھی۔ مہم پر نکلنے کا مطلب یہ تھا کہ پکی ہوئی کھجوروں کو درختوں پر ہی چھوڑ کر جانا ہوگا۔ عورتیں چونکہ کھجوروں کو درختوں سے اتارنے کا مشکل کام نہیں کرسکتی تھیں ‘ اس لیے پکی پکائی فصل ضائع جاتی صاف نظر آرہی تھی۔ دوسری طرف اس مہم کا اعلان منافقین پر بہت بھاری ثابت ہوا اور ان کی ساری خباثتیں اس کی وجہ سے طشت ازبام ہوگئیں۔ چناچہ آئندہ گیارہ رکوعوں کی آیات اپنے اندر اس سلسلے کے چھوٹے بڑے بہت سے موضوعات سمیٹے ہوئے ہیں ‘ مگر دوسرے مضامین کے درمیان میں ایک مضمون جو مسلسل چل رہا ہے وہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ گویا یہ مضمون ایک دھاگہ ہے جس میں دوسرے مضامین موتیوں کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے سورة النساء میں منافقین کا ذکر بڑی تفصیل سے آچکا ہے ‘ لیکن آئندہ گیارہ رکوع اس موضوع پر قرآن کے ذروۂ سنام کا درجہ رکھتے ہیں۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک تشریف لے گئے۔ مقابل میں اگرچہ ہرقل قیصرروم بنفس نفیس موجود تھا ‘ لیکن شایدوہ پہچان چکا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ چناچہ وہ مقابلے میں آنے کی جرأت نہ کرسکا۔ حضور ﷺ نے کچھ عرصہ تبوک میں قیام فرمایا۔ اس دوران میں ارد گرد کے بہت سے قبائل نے آکر آپ ﷺ سے معاہدے کیے۔ اس مہم میں اگرچہ جنگ کی نوبت نہ آئی مگر مسلمان لشکر کا مدینہ سے تبوک جا کر رومن ایمپائر کی سرحدوں پر دستک دینا اور ہرقل کا مقابلہ کرنے کی بجائے کنی کترا جانا ‘ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ چناچہ نہ صرف اس علاقے میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی بلکہ اسلامی ریاست کی سرحدیں عملی طور پر تبوک تک وسیع ہوگئیں۔ دوسری طرف جنگ موتہ کی وجہ سے مسلمانوں کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا تھا اس کی بھر پور انداز میں تلافی ہوگئی۔ سلطنت روم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا یہ سلسلہ جو غزوۂ تبوک کی صورت میں شروع ہوا ‘ اس میں مزید پیش رفت دورصدیقی رض میں ہوئی۔ حضور ﷺ کے وصال کے فوراً بعد مدینہ سے لشکر اسامہ رض کی روانگی بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara