Aanmelden
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
2:213
كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه وما اختلف فيه الا الذين اوتوه من بعد ما جاءتهم البينات بغيا بينهم فهدى الله الذين امنوا لما اختلفوا فيه من الحق باذنه والله يهدي من يشاء الى صراط مستقيم ٢١٣
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَمَا ٱخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلْحَقِّ بِإِذْنِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍ ٢١٣
كَانَ
ٱلنَّاسُ
أُمَّةٗ
وَٰحِدَةٗ
فَبَعَثَ
ٱللَّهُ
ٱلنَّبِيِّـۧنَ
مُبَشِّرِينَ
وَمُنذِرِينَ
وَأَنزَلَ
مَعَهُمُ
ٱلۡكِتَٰبَ
بِٱلۡحَقِّ
لِيَحۡكُمَ
بَيۡنَ
ٱلنَّاسِ
فِيمَا
ٱخۡتَلَفُواْ
فِيهِۚ
وَمَا
ٱخۡتَلَفَ
فِيهِ
إِلَّا
ٱلَّذِينَ
أُوتُوهُ
مِنۢ
بَعۡدِ
مَا
جَآءَتۡهُمُ
ٱلۡبَيِّنَٰتُ
بَغۡيَۢا
بَيۡنَهُمۡۖ
فَهَدَى
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لِمَا
ٱخۡتَلَفُواْ
فِيهِ
مِنَ
ٱلۡحَقِّ
بِإِذۡنِهِۦۗ
وَٱللَّهُ
يَهۡدِي
مَن
يَشَآءُ
إِلَىٰ
صِرَٰطٖ
مُّسۡتَقِيمٍ
٢١٣
De mensheid was een godsdienst (toegedaan, maar er ontstond oneningheid) waarop Allah de Profeten zond als verkondigers van verheugende tijdingen en als waarschuwers. En Hij zond met hen de Schrift neer met de Waarheid om te oordelen tussen de mensen over hetgeen waarover zij van mening verschilden. En niemand verschilde van mening daarover dan degenen aan wie het gegeven was, nadat de duidelijke bewijzen tot hen waren gekomen, uit onderlinge afgunst. Allah leidde degenen die geloven met de Waarheid, met Zijn toestemming, (weg van degenen die) van mening verschilden. En Allah leidt wie Hij wil op een recht Pad.
Tafseers
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام تک ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نوح علیہ السلام اور آدم علیہ السلام کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ کی قرأت بھی یوں ہے آیت «وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ» [ 10۔ یونس: 19 ] ‏، [حاکم:546/2] ‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی یہی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:78/4] ‏ قتادہ رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا یعنی نوح علیہ السلام، [عبدالرزاق:82/1] ‏

مجاہد رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی کے اعتبار سے بھی اور سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح ہے، پس ان پیغمبروں نے ایمان والوں کو خوشیاں سنائی اور ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا، ان کے ساتھ اللہ کی کتاب بھی تھی تاکہ لوگوں کے ہر اختلاف کا فیصلہ قانون الٰہی سے ہو سکے، لیکن ان دلائل کے بعد بھی صرف آپس کے حسد و بغض تعصب و ضد اور نفسانیت کے بنا پر پھر اتفاق نہ کر سکے، لیکن ایماندار سنبھل گئے اور اس اختلاف کے چکر سے نکل کر سیدھی راہ لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آگے ہوں گے، اہل کتاب کو کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی ہمیں اس کے بعد دی گئی لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ پاک نے ہماری رہبری کی جمعہ کے بارے میں بھی نااتفاقی رہی لیکن ہمیں ہدایت نصیب ہوئی یہ کل کے کل اہل کتاب اس لحاظ سے بھی ہمارے پیچھے ہیں۔ [عبدالرزاق:81/1] ‏ جمعہ ہمارا ہے ہفتہ یہودیوں کا اور اتوار نصرانیوں کا، [صحیح بخاری:876] ‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے علاوہ قبلہ کے بارے میں بھی یہی ہوا نصاریٰ نے مشرق کو قبلہ بنایا یہود نے بھی، ان میں بعض کی نماز رکوع ہے اور سجدہ نہیں، بعض کے ہاں سجدہ ہے اور رکوع نہیں، بعض نماز میں بولتے چلتے پھرتے رہتے ہیں لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سکون و وقار والی ہے نہ یہ بولیں نہ چلیں نہ پھریں، روزوں میں بھی اسی طرح اختلاف ہوا اور اس میں بھی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت نصیب ہوئی ان میں سے کوئی تو دن کے بعض حصے کا روزہ رکھتا ہے کوئی گروہ بعض قسم کے کھانے چھوڑ دیتا ہے لیکن ہمارا روزہ ہر طرح کامل ہے اور اس میں بھی راہ حق ہمیں سمجھائی گئی ہے،

اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہود نے کہا کہ وہ یہودی تھے نصرانیوں نے انہیں نصاری کہا لیکن دراصل وہ یکسر مسلمان تھے پس اس بارے میں بھی ہماری رہبری کی گئی اور خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت صحیح خیال تک ہم کو پہنچا دیا گیا، عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہودیوں نے جھٹلایا اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت بدکلامی کی، نصرانیوں نے انہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا لیکن مسلمان اس افراط وتفریط سے بچا لیے گئے اور انہیں روح اللہ کلمۃ اللہ اور نبی برحق مانا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/4] ‏

صفحہ نمبر753

سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس طرح ابتداء میں سب لوگ اللہ واحد کی عبادت کرنے والے نیکیوں کے عامل برائیوں سے مجتنب تھے بیچ میں اختلاف رونما ہو گیا تھا پس اس آخری امت کو اول کی طرح اختلاف سے ہٹا کر صحیح راہ پر لگا دیا یہ امت اور امتوں پر گواہ ہو گی یہاں تک کہ امت نوح علیہ السلام پر بھی ان کی شہادت ہو گی، قوم یہود، قوم صالح، قوم شعیب اور آل فرعون کا بھی حساب کتاب انہی کی گواہیوں پر ہو گا یہ کہیں گے کہ ان پیغمبروں نے تبلیغ کی اور ان امتوں نے تکذیب کی،

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں آیت «واللہ یہدی» الخ، سے پہلے یہ لفظ بھی ہیں آیت «ولیکونوا شہداء علی الناس یوم القیامۃ» الخ، ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت میں گویا حکم ہے کہ شبہ، گمراہی، اور فتنوں سے بچنا چاہیئے، یہ ہدایت اللہ کے علم اور اس کی رہبری سے ہوئی وہ جسے چاہے راہ استقامت سجھا دیتا ہے،

بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو یہ پڑھتے دعا «اللہم رب جبرائیل ومیکائیل واسرافیل فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اہدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تہدی من تشاء الی صراط مستقیم» ۔ یعنی اے اللہ اے جبرائیل ومیکائل اور اسرافیل کے اللہ عزوجل اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے الہ العالمین۔ اے چھپے کھلے کے جاننے والے اللہ جل شانہ تو ہی اپنے بندوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے میری دعا ہے کہ جس جس چیز میں یہ اختلاف کریں تو مجھے اس میں حق بات سمجھا تو جسے چاہے راہ راست دکھلا دیتا ہے [صحیح مسلم:770] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا یہ بھی منقول ہے «اللہم ارنا الحق حق وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاوارزقنا اجتنابہ ولا تجعلہ متلبسا علینا فنضل واجعلنا للمتقین اماما» ۔ اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی تابعدار نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچا کہیں ایسا نہ کہ حق و باطل ہم پر خلط ملط ہو جائے اور ہم بہک جائیں اے اللہ ہمیں نیکوکار اور پرہیزگار لوگوں کا امام بنا۔

صفحہ نمبر754
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden