Aanmelden
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
2:49
واذ نجيناكم من ال فرعون يسومونكم سوء العذاب يذبحون ابناءكم ويستحيون نساءكم وفي ذالكم بلاء من ربكم عظيم ٤٩
وَإِذْ نَجَّيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ ٤٩
وَإِذۡ
نَجَّيۡنَٰكُم
مِّنۡ
ءَالِ
فِرۡعَوۡنَ
يَسُومُونَكُمۡ
سُوٓءَ
ٱلۡعَذَابِ
يُذَبِّحُونَ
أَبۡنَآءَكُمۡ
وَيَسۡتَحۡيُونَ
نِسَآءَكُمۡۚ
وَفِي
ذَٰلِكُم
بَلَآءٞ
مِّن
رَّبِّكُمۡ
عَظِيمٞ
٤٩
En (gedenkt) toen Wij wullie van Fir'aun's volgelingen redden, zij kwelden jullie met de zwaarste foltering; zij slachtten jullie zonen ad en lieten jullie dochters in leven. Daarin was een geweldige beproeving van jullie Heer.
Tafseers
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Je leest een tafsir voor de groep verzen 2:49tot 2:50
احسانات کی یاد دہانی ٭٭

ان آیتوں میں فرمان باری ہے کہ اے اولاد یعقوب علیہ السلام میری اس مہربانی کو بھی یاد رکھو کہ میں نے تمہیں فرعون کے بدترین عذابوں سے چھٹکارا دیا، فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر ہر قبطی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں وہ نہیں گئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہو گا جس کے ہاتھوں اس کا غرور ٹوٹے گا اس کے ”اللہ“ کے دعویٰ کی بدترین سزا اسے ملے گی اس لیے اس ملعون نے چاروں طرف احکام جاری کر دئیے کہ «يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ» ‏ [ 14-إبراهيم: 6 ] ‏ بنی اسرائیل میں جو بچہ بھی پیدا ہو، سرکاری طور سے اس کی دیکھ بھال رکھی جائے اگر لڑکا ہو تو فوراً مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے۔ علاوہ ازیں بنی اسرائیل سے سخت بیگار لی جائے ہر طرح کی مشقت کے کاموں کا بوجھ ان پر ڈال دیا جائے۔

صفحہ نمبر265

یہاں پر عذاب کی تفسیر لڑکوں کے مار ڈالنے سے کی گئی اور سورۃ ابراہیم میں ایک کا دوسری پر عطف ڈالا جس کی پوری تشریح ان شاءاللہ سورۃ قصص کے شروع میں بیان ہو گی اللہ تعالیٰ ہمیں مضبوطی دے ہماری مدد فرمائے اور تائید کرے آمین۔ «يَسُومُونَكُمْ» کے معنی مسلسل اور کرنے کے آتے ہیں یعنی وہ برابر دکھ دئیے جاتے تھے چونکہ اس آیت میں پہلے یہ فرمایا تھا کہ میری انعام کی ہوئی نعمت کو یاد کرو اس لیے فرعون کے عذاب کی تفسیر کو لڑکوں کے قتل کرنے کے طور پر بیان فرمایا اور سورۃ ابراہیم علیہ السلام کے شروع میں فرمایا تھا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ [14-إبراهيم:5] ‏ اس لیے وہاں عطف کے ساتھ فرمایا تاکہ نعمتوں کی تعداد زیادہ ہو۔ یعنی متفرق عذابوں سے اور بچوں کے قتل ہونے سے تمہیں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں نجات دلوائی۔ مصر کے جتنے بادشاہ عمالیق وغیرہ کفار میں سے ہوئے تھے ان سب کو فرعون کہا جاتا تھا جیسے کہ روم کے کافر بادشاہ کو قیصر اور فارس کے کافر بادشاہ کو کسریٰ اور یمن کے کافر بادشاہ کو تبع اور حبشہ کے کافر بادشاہ کو نجاشی اور ہند کے کافر بادشاہ کو بطلیموس۔ اس فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا۔ بعض نے مصعب بن ریان بھی کہا ہے۔ عملیق بن اود بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا اس کی کنیت ابومرہ تھی۔ اصل میں اصطخر کے فارسیوں کی نسل میں تھا اللہ کی پھٹکار اور لعنت اس پر نازل ہو۔

صفحہ نمبر266

پھر فرمایا کہ اس نجات دینے میں ہماری طرف سے ایک بڑی بھاری نعمت تھی «بَلَاءٌ» کے اصلی معنی آزمائش کے ہیں لیکن یہاں پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، ابوالعالیہ، ابومالک سدی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے نعمت کے معنی منقول ہیں، امتحان اور آزمائش بھلائی برائی دونوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن «بلوتہ بلاء» کا لفظ عموماً برائی کی آزمائش کے لیے اور «ابلیہ, ابلا ,وبلاء» کا لفظ بھلائی کے ساتھ کی آزمائش کے لیے آتا ہے یہ کہا گیا ہے کہ اس میں تمہاری آزمائش یعنی عذاب میں اور اس بچوں کے قتل ہونے میں تھی۔ قرطبی اس دوسرے مطلب کو جمہور کا قول کہتے ہیں تو اس میں اشارہ ذبح وغیرہ کی طرف ہو گا اور بلاء کے معنی برائی کے ہوں گے پھر فرمایا کہ ہم نے فرعون سے بچا لیا۔ تم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ شہر سے نکلے اور فرعون تمہیں پکڑنے کو نکلا تو ہم نے تمہارے لیے پانی کو پھاڑ دیا اور تمہیں اس میں سے پار اتار کر تمہارے سامنے فرعون کو اس کے لشکر سمیت ڈبو دیا۔ ان سب باتوں کا تفصیل وار بیان سورۃ الشعراء میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر267

عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکلے اور فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ جب مرغ بولے تب سب نکلو اور سب کو پکڑ کر قتل کر ڈالو لیکن اس رات اللہ تعالیٰ کی قدرت سے صبح تک کوئی مرغ نہ بولا مرغ کی آواز سنتے ہی فرعون نے ایک بکری ذبح کی اور کہا کہ اس کی کلیجی سے میں فارغ ہوں اس سے پہلے چھ لاکھ قبطیوں کا لشکر جرار میرے پاس حاضر ہو جانا چاہیئے چنانچہ حاضر ہو گیا اور یہ ملعون اتنی بڑی جمعیت کو لے کر بنی اسرائیل کی ہلاکت کے لیے بڑے کروفر سے نکلا اور دریا کے کنارے انہیں پا لیا۔ اب بنی اسرائیل پر دنیا تنگ آ گئی پچھے ہٹیں تو فرعونیوں کی تلواروں کی بھینٹ چڑھیں آگے بڑھیں تو مچھلیوں کا لقمہ بنیں۔ اس وقت یوشع بن نون نے کہا کہ اے اللہ کے نبی اب کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا حکم الٰہی ہمارا راہنما ہے، یہ سنتے ہی انہوں نے اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا لیکن گہرے پانی میں جب غوطے کھانے لگا تو پھر کنارے کی طرف لوٹ آئے اور پوچھا اے موسیٰ علیہ السلام رب کی مدد کہاں ہے؟ ہم نہ آپ علیہ السلام کو جھوٹا جانتے ہیں نہ رب جلیل کو تین مرتبہ ایسا ہی کہا۔ اب موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی آئی کہ اپنا عصا دریا پر مارو عصا مارتے ہی پانی نے راستہ دے دیا اور پہاڑوں کہ طرح کھڑا ہو گیا۔ [26-الشعراء:63] ‏ موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ماننے والے ان راستوں سے گزر گئے انہیں اس طرح پار اترتے دیکھ کر فرعون اور فرعونی افواج نے بھی اپنے گھوڑے اسی راستہ پر ڈال دئیے۔ جب تمام کے تمام میں داخل ہو گئے پانی کو مل جانے کا حکم ہوا پانی

کے ملتے ہی تمام کے تمام ڈوب مرے بنی اسرائیل نے قدرت الٰہی کا یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا جس سے وہ بہت ہی خوش ہوئے اپنی آزادی اور فرعون کی بربادی ان کے لیے خوشی کا سبب بنی۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ دن عاشورہ کا تھا یعنی محرم کی دسویں تاریخ۔

صفحہ نمبر268

مسند احمد میں حدیث ہے کہ جب حضور علیہ السلام مدینہ شریف میں تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں پوچھا کہ تم اس دن کا روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا اس لیے کہ اس مبارک دن میں بنی اسرائیل نے فرعون کے ظلم سے نجات پائی اور ان کا دشمن غرق ہوا جس کے شکریہ میں موسیٰ علیہ السلام نے یہ روزہ رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے زیادہ حقدار موسیٰ علیہ السلام کا میں ہوں پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ بخاری مسلم نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح بخاری:2004] ‏ ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑ دیا تھا اس حدیث کے راوی زید العمی ضعیف ہیں اور ان کے استاد یزید رقاشی ان سے بھی زیادہ ضعیف ہیں۔ [مسند ابویعلیٰ:4094:ضعیف جدًا] ‏

صفحہ نمبر269
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden