Aanmelden
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
4:77
الم تر الى الذين قيل لهم كفوا ايديكم واقيموا الصلاة واتوا الزكاة فلما كتب عليهم القتال اذا فريق منهم يخشون الناس كخشية الله او اشد خشية وقالوا ربنا لم كتبت علينا القتال لولا اخرتنا الى اجل قريب قل متاع الدنيا قليل والاخرة خير لمن اتقى ولا تظلمون فتيلا ٧٧
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوٓا۟ أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ ٱلنَّاسَ كَخَشْيَةِ ٱللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةًۭ ۚ وَقَالُوا۟ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا ٱلْقِتَالَ لَوْلَآ أَخَّرْتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ ۗ قُلْ مَتَـٰعُ ٱلدُّنْيَا قَلِيلٌۭ وَٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا ٧٧
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَى
ٱلَّذِينَ
قِيلَ
لَهُمۡ
كُفُّوٓاْ
أَيۡدِيَكُمۡ
وَأَقِيمُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَءَاتُواْ
ٱلزَّكَوٰةَ
فَلَمَّا
كُتِبَ
عَلَيۡهِمُ
ٱلۡقِتَالُ
إِذَا
فَرِيقٞ
مِّنۡهُمۡ
يَخۡشَوۡنَ
ٱلنَّاسَ
كَخَشۡيَةِ
ٱللَّهِ
أَوۡ
أَشَدَّ
خَشۡيَةٗۚ
وَقَالُواْ
رَبَّنَا
لِمَ
كَتَبۡتَ
عَلَيۡنَا
ٱلۡقِتَالَ
لَوۡلَآ
أَخَّرۡتَنَآ
إِلَىٰٓ
أَجَلٖ
قَرِيبٖۗ
قُلۡ
مَتَٰعُ
ٱلدُّنۡيَا
قَلِيلٞ
وَٱلۡأٓخِرَةُ
خَيۡرٞ
لِّمَنِ
ٱتَّقَىٰ
وَلَا
تُظۡلَمُونَ
فَتِيلًا
٧٧
Zie jij degenen niet tot wie gezegd werd: "Houdt jullie handen af (van de strijd), en onderhoudt de shalât en geeft de zakât"? Toen hen (op het laatst) de strijd bevolen was, was er een groep onder hen die de mensen net zo (veel) als Allah vreesden, of nog meer vreesden. Zij zeiden: "Onze Heer, waarom heeft U ons bevolen te vechten? Had U ons geen kort uitstel kunnen toestaan?" Zeg: "Het genot van de wereld is weinig en het Hiernamaals is beter voor wie (Allah) vreest en jullie worden in het geheel niet onrechtvaardig behandeld."
Tafseers
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
اولین درس صبر و ضبط ٭٭

واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مسلمان مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے شہر میں تھے وہ بکثرت تھے جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے ہیں، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ ان سے فرمایا تھا کہ کافروں کی ایذائیں سہتے چلے جائیں ان کی مخالفت برداشت کریں، ان کے ظلم و ستم برداشت کریں، جو احکام اللہ نازل ہو چکے ہیں ان پر عامل رہیں نماز ادا کرتے رہیں زکوٰۃ دیتے رہا کریں، گو ان میں عموماً مال کی زیادتی بھی نہ تھی لیکن تاہم مسکینوں اور محتاجوں کے کام آنے کا اور ان کی ہمدردی کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔

مصلحت الٰہی کا تقاضہ یہ تھا کہ سردست یہ کفار سے نہ لڑیں بلکہ صبر و ضبط سے کام لیں ادھر کافر بڑی دلیری سے ان پر ستم کے پہاڑ توڑ رہے تھے ہر چھوٹے بڑے کو سخت سے سخت سزائیں دے رہے تھے، مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا اس لیے ان کے دل میں رہ رہ کر جوش اٹھتا تھا اور زبان سے الفاظ نکل جاتے تھے کہ اس روز مرہ کی مصیبتوں سے تو یہی بہتر ہے کہ ایک مرتبہ دل کی بھڑاس نکل جائے، دو دو ہاتھ میدان میں ہو لیں کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں کا حکم دیدے، لیکن اب تک حکم نہیں ملا تھا۔ جب انہیں ہجرت کی اجازت ملی اور مسلمان اپنی زمین، زر، رشتہ، کنبے، اللہ عزوجل کے نام پر قربان کر کے اپنا دین لے کر مکہ سے ہجرت کر کے مدینے پہنچے یہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی سہولت دی امن کی جگہ دی امداد کے لیے انصار مدینہ دئیے، تعداد میں کثرت ہو گئی قوت و طاقت قدرے بڑھ گئی تو اب اللہ حاکم مطلق کی طرف سے اجازت ملی کہ اپنے لڑنے والوں سے لڑو، جہاد کا حکم اترتے ہی بعض لوگ سٹ پٹائے، خوف زدہ ہوئے جہاد کا تصور کر کے میدان میں قتل کئے جانے کا تصور عورتوں کے رنڈاپے کا خیال، بچوں کی یتیمی کا منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا گھبراہٹ میں کہہ اٹھے کہ اے اللہ ابھی سے جہاد کیوں فرض کر دیا کچھ تو مہلت دی ہوتی۔

صفحہ نمبر1821

اسی مضمون کو دوسری آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّـهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ» ‏ [47-محمد:20-21] ‏، مختصر مطلب یہ ہے کہ ” ایماندار کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو بیمار دل لوگ چیخ اٹھتے ہیں ٹیڑھے تیوروں سے تجھے گھورتے ہیں اور موت کی غشی والوں کی طرح اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ان پر افسوس ہے۔ “

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھی مکہ شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں اے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کفر کی حالت ذی عزت تھے آج اسلام کی حالت میں ذلیل سمجھے جانے لگے مطلب یہ تھا کہ آپ کی فرمانبرداری ضروری ہے اور آپ مقابلے سے میں منع کرتے ہیں جن سے کفار کی جرأت بڑھ گئی ہے۔ اور وہ ہمیں ذلیل کرنے لگے ہیں تو آپ ہمیں مقابلہ کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ لیکن آپ نے جواب دیا مجھے اللہ کا حکم یہی ہے کہ ہم درگزر کریں کافروں سے جنگ نہ کریں۔ پھر جب مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی اور جہاد کے احکام نازل ہوئے تو لوگ ہچکچانے لگے اس پر یہ آیت اتری۔ [سنن نسائی:3088،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر1822

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف صلوۃ و زکوٰۃ کا حکم ہی تھا تو تمنائیں کرتے تھے کہ جہاد فرض ہو جب فریضہ جہاد نازل ہوا تو کمزور دل لوگ انسانوں سے ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیئے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے اے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا کیوں ہمیں اپنی موت کے صحیح وقت تک فائدہ نہ اٹھانے دیا۔ انہیں جواب ملتا ہے کہ دنیوی نفع بالکل ناپائیدار اور بہت ہی کم ہے ہاں متقیوں کے لیے آخرت دنیا سے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے، جواباً کہا گیا کہ پرہیزگاروں کا انجام آغاز سے بہت ہی اچھا ہے۔ تمہیں تمہارے اعمال پورے پورے دیئے جائیں گے کامل اجر ملے گا ایک بھی نیک عمل غارت نہ کیا جائے گا ناممکن ہے کہ ایک بال برابر ظلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر کیا جائے۔ اس جملے میں انہیں دنیا سے بے رغبتی دلائی جا رہی ہے آخرت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جہاد کی رغبت دی جا رہی ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ اس بندے پر رحم کرے جو دنیا کے ساتھ ایسا ہی رہے ساری دنیا اول سے آخرت تک اس طرح ہے جیسے کوئی سویا ہوا شخص اپنے خواب میں اپنی پسندیدہ چیز کو دیکھے لیکن آنکھ کھلتے ہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کچھ نہ تھا۔

صفحہ نمبر1823

ابو مصہر رحمہ اللہ کا یہ کلام کتنا پیارا ہے «‏ولا خیر فی الدنیا لمن لم یکن لہ» «‏من اللہ فی دار المقام نصیب» «‏فان تعجب الدنیا رجالا فانھا» «‏متاع قلیل والزوال قریب» یعنی اس شخص کے لیے دنیا بھلائی سے یکسر خالی ہے جسے کل آخرت کا کوئی حصہ ملنے والا نہیں۔ گودنیا کو دیکھ دیکھ کر بعض لوگ ریجھ رہے ہیں لیکن دراصل یہ یونہی سا فائدہ ہے اور وہ بھی جلد فنا ہو جانے والا۔

صفحہ نمبر1824

پھر ارشاد باری ہے کہ آخرش موت کا مزا ہر ایک چکھنا ہی ہے کوئی ذریعہ کسی کو اس سے بچا نہیں سکتا، جسے فرمان ہے «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ» [55-الرحمن:26] ‏ ” جتنے یہاں ہیں سب فانی ہیں “۔ اور جگہ ارشاد ہے «كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ» [3-آل عمران:185] ‏ ” ہر ہر جاندار مرنے والا ہے “ فرماتا ہے «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] ‏ ” تجھ سے اگلے لوگوں میں سے بھی کسی کے لیے ہم نے ہمیشہ کی زندگی مقرر نہیں کی “۔ مقصد یہ ہے کہ خواہ جہاد کر ے یا نہ کرے ذات اللہ کے سوا موت کا مزا تو ایک نہ ایک روز ہر کسی کو چکھنا ہی پڑے گا۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے اور ہر ایک کی موت کی جگہ معین ہے۔

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس وقت جبکہ آپ بستر مرگ پر ہیں فرماتے ہیں اللہ کی قسم فلاں جگہ فلاں جگہ غرض بیسیوں لڑائیوں میں سینکڑوں معرکوں میں گیا ثابت قدمی پامردی کے ساتھ دلیرانہ جہاد کئے آؤ دیکھ لو میرے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ پاؤ گے جہاں کوئی نہ کوئی نشان نیزے یا برچھے یا تیر یا بھالے کا تلوار اور ہتھیار کا نہ ہو لیکن چونکہ میدان جنگ میں موت نہ لکھی تھی اب دیکھو اپنے بسترے پر اپنی موت مررہا ہوں، کہاں ہیں لڑائی سے جی چرانے والے نامرد میری ذات سے سبق سیکھیں۔ [ رضی اللہ عنہ و ارضاہ ] ‏

صفحہ نمبر1825
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden