Aanmelden
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
🚀 Doe mee aan onze Ramadan-uitdaging!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
60:4
قد كانت لكم اسوة حسنة في ابراهيم والذين معه اذ قالوا لقومهم انا براء منكم ومما تعبدون من دون الله كفرنا بكم وبدا بيننا وبينكم العداوة والبغضاء ابدا حتى تومنوا بالله وحده الا قول ابراهيم لابيه لاستغفرن لك وما املك لك من الله من شيء ربنا عليك توكلنا واليك انبنا واليك المصير ٤
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌۭ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُا۟ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۖ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ ٤
قَدۡ
كَانَتۡ
لَكُمۡ
أُسۡوَةٌ
حَسَنَةٞ
فِيٓ
إِبۡرَٰهِيمَ
وَٱلَّذِينَ
مَعَهُۥٓ
إِذۡ
قَالُواْ
لِقَوۡمِهِمۡ
إِنَّا
بُرَءَٰٓؤُاْ
مِنكُمۡ
وَمِمَّا
تَعۡبُدُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
كَفَرۡنَا
بِكُمۡ
وَبَدَا
بَيۡنَنَا
وَبَيۡنَكُمُ
ٱلۡعَدَٰوَةُ
وَٱلۡبَغۡضَآءُ
أَبَدًا
حَتَّىٰ
تُؤۡمِنُواْ
بِٱللَّهِ
وَحۡدَهُۥٓ
إِلَّا
قَوۡلَ
إِبۡرَٰهِيمَ
لِأَبِيهِ
لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ
لَكَ
وَمَآ
أَمۡلِكُ
لَكَ
مِنَ
ٱللَّهِ
مِن
شَيۡءٖۖ
رَّبَّنَا
عَلَيۡكَ
تَوَكَّلۡنَا
وَإِلَيۡكَ
أَنَبۡنَا
وَإِلَيۡكَ
ٱلۡمَصِيرُ
٤
Waarlijk, er was voor jullie een goed voorbeeld in Ibrâhîm en degenen die met hem waren, toen zij tot hun volk zeiden: "Wij zijn niet verantwoordelijk voor jullie en voor wat jullie naast Allah aanbidden. Wij geloven jullie niet en er is tussen ons en jullie vijandschap en haat ontstaan, voor altijd, tot jullie in Allah, de Enige geloven." Behalve het woord van Ibrâhîm tegen zijn vader: "Ik zal zeker voor u vergeving vragen, maar ik heb er voor u bij Allah niets over te zeggen." (Zij zeiden:) "Onze Heer, op U vertrouwen wij en tot U wenden wij ons in berouw en tot U is de terugkeer.
Tafseers
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat

آیت 4 { قَدْ کَانَتْ لَـکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } ”تمہارے لیے بہت اچھا نمونہ ہے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے طرزِعمل میں۔“ { اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”جب انہوں نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم بالکل بری ہیں تم سے اور ان سے جنہیں تم پوجتے ہو اللہ کے سوا۔“ ہم تم سے بھی اور ان سے بھی اعلانِ براءت اور اظہارِ لاتعلقی کرتے ہیں۔ { کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا } ”ہم تم سے منکر ہوئے ‘ اور اب ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ہمیشہ کے لیے“ { حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ } ”یہاں تک کہ تم بھی ایمان لے آئو اللہ پر توحید کے ساتھ“ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی اہل ایمان j اپنے کافراعزہ و اقارب کے لیے ننگی تلوار بن گئے۔ یہاں یہ اہم نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حزب اللہ والوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جدوجہد کرتے ہوئے اپنے رحمی رشتوں کو کاٹ پھینکنے کا مشکل مرحلہ بھی لازماً طے کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ سورة المجادلہ کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : { لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّـؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَلَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْط } آیت 22 ”تم نہیں پائو گے ان لوگوں کو جو حقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت پر کمر بستہ ہیں اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی ‘ خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار ہوں“۔ چناچہ اسی اصول کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی قوم ‘ برادری اور رشتہ داروں سے نہ صرف اظہارِ لاتعلقی کیا بلکہ انہیں کھلم کھلا عداوت اور مخالفت کا چیلنج بھی دے دیا۔ { اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ } ”سوائے ابراہیم علیہ السلام کے اپنے باپ سے یہ کہنے کے کہ میں آپ کے لیے ضرور استغفار کروں گا“ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کے ساتھ اس گفتگو کا حوالہ ہے جس کی تفصیل سورة مریم میں آئی ہے۔ اس موقع پر باپ بیٹے کے درمیان جو آخری مکالمہ ہوا وہ یہ تھا : { قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِہَتِیْ یٰٓــاِبْرٰہِیْمُج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیًّا - قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْکَج سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْط اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔ } ”اس نے کہا : اے ابراہیم ! کیا تم کنارہ کشی کر رہے ہو میرے معبودوں سے ؟ اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا ‘ اور تم مجھے چھوڑ کر چلے جائو ایک مدت تک۔ ابراہیم d نے کہا : آپ پر سلام ! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا ‘ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے“۔ آیت زیر مطالعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسی وعدے کا حوالہ آیا ہے۔ { وَمَآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ } ”اور میں آپ کے بارے میں اللہ کے ہاں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔“ میں آپ کے لیے دعا ضرور کروں گا ‘ اللہ تعالیٰ دعا قبول کرے نہ کرے ‘ وہ آپ کو معاف کرے نہ کرے ‘ یہ اس کا اختیار ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ سورة مریم کی مذکورہ آیات ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھیں اور زیر مطالعہ آیت 8 ہجری میں فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی۔ ان آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس وعدے کا ذکر ہے اس سے متعلق آخری حکم سورة التوبہ کی اس آیت میں آیا ہے ‘ جو 9 ہجری میں ذیقعدہ کے بعد نازل ہوئی : { وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَآ اِیَّاہُج فَلَمَّا تَـبَیَّنَ لَـہٗٓ اَنَّـہٗ عَدُوٌّ لِلّٰہِ تَـبَرَّاَ مِنْہُط اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ۔ } ”اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا ‘ اور جب آپ علیہ السلام پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام نے اس سے اعلانِ بیزاری کردیا۔ یقینا ابراہیم علیہ السلام بہت درد دل رکھنے والے اور حلیم الطبع انسان تھے“۔ چناچہ سورة التوبہ کی یہ آیت جو 9 ہجری میں ذیقعدہ کے بعد نازل ہوئی ‘ محکم تصور ہوگی اور پہلی آیات اس کے تابع سمجھی جائیں گی۔ { رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔ } ”پروردگار ! ہم نے تجھ پر ہی تو کل ّکیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور ہمیں تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔“

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden