Entrar
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
Entrar
Entrar
12:99
فلما دخلوا على يوسف اوى اليه ابويه وقال ادخلوا مصر ان شاء الله امنين ٩٩
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ٩٩
فَلَمَّا
دَخَلُواْ
عَلَىٰ
يُوسُفَ
ءَاوَىٰٓ
إِلَيۡهِ
أَبَوَيۡهِ
وَقَالَ
ٱدۡخُلُواْ
مِصۡرَ
إِن
شَآءَ
ٱللَّهُ
ءَامِنِينَ
٩٩
E quando todos se apresentaram ante José, este acolhes seus pais, dizendo-lhes: Entrai a salvo no Egito, se é pelavontade de Deus.
Tafsirs
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 12:99 a 12:100
باب

بھائیوں پر یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ یوسف علیہ السلام بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لیے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لیے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، ان شاءاللہ پر امن اور بے خطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔

لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی رحمہ اللہ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کر لیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ «آوَىٰ» اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے «اوؤ الیہ احاہ» میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے «من اوی محدثا» [صحیح بخاری:3179] ‏ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آ جانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے۔

صفحہ نمبر4080

، وہ یعقوب علیہ السلام کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آ کر ابوسفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔ [صحیح بخاری:2798] ‏ عبدالرحمٰن کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ آپ نے فرمایا «اذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ» [ 12-یوسف: 4 ] ‏ ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہو گئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ آدم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی اور کے لیے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقاً حرام کر دیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے اپنے لیے ہی مخصوص کر لیا۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے

صفحہ نمبر4081

حدیث شریف میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکھا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ [سنن ابن ماجه:1853، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی نہ مرے گا۔ [جمع الجوامع للسیوطی:877] ‏

الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لیے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہو گیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہو گیا۔ چنانچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لیے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے «هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ» [ 7-الأعراف: 53 ] ‏ پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاگنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔

صفحہ نمبر4082

آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لیے عموماً بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:307/7] ‏ پھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضاء و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/7:] ‏ حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر یعقوب علیہ السلام سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔

صفحہ نمبر4083

پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف علیہ السلام میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب یوسف علیہ السلام کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ علیہ السلام باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول حضرت قتادہ رحمہ اللہ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔

صفحہ نمبر4084
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados