Entrar
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
Entrar
Entrar
2:45
واستعينوا بالصبر والصلاة وانها لكبيرة الا على الخاشعين ٤٥
وَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَـٰشِعِينَ ٤٥
وَٱسۡتَعِينُواْ
بِٱلصَّبۡرِ
وَٱلصَّلَوٰةِۚ
وَإِنَّهَا
لَكَبِيرَةٌ
إِلَّا
عَلَى
ٱلۡخَٰشِعِينَ
٤٥
Amparai-vos na perseverança e na oração. Sabei que ela (a oração) é carga pesada, salvo para os humildes,
Tafsirs
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 2:45 a 2:46
صبر کا مفہوم ٭٭

اس آیت میں حکم فرمایا جاتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے کاموں پر نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کیا کرو، فرائض بجا لاؤ اور نماز کو ادا کرتے رہو روزہ رکھنا بھی صبر کرنا ہے اور اسی لیے رمضان کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔ [مسند احمد:263/2-384:] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں روزہ آدھا صبر ہے - [سنن ترمذي:3519، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صبر سے مراد گناہوں سے رک جانا بھی ہے۔ اس آیت میں اگر صبر سے یہ مراد لی جائے تو برائیوں سے رکنا اور نیکیاں کرنا دونوں کا بیان ہو گیا، نیکیوں میں سب سے اعلیٰ چیز نماز ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبر کی دو قسمیں ہیں مصیبت کے وقت صبر اور گناہوں کے ارتکاب سے صبر اور یہ صبر پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:155/1:منقطع] ‏

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کا ہر چیز کا اللہ کی طرف سے ہونے کا اقرار کرنا۔ ثواب کا طلب کرنا اللہ کے پاس مصیبتوں کے اجر کا ذخیرہ سمجھنا یہ صبر ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کام پر صبر کرو اور اسے بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سمجھو نیکیوں کے کاموں پر نماز سے بڑی مدد ملتی ہے خود قرآن میں ہے «اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ» [ 29۔ العنکبوت: 45 ] ‏۔ نماز کو قائم رکھ یہ تمام برائیوں اور بدیوں سے روکنے والی ہے اور یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ سیدنا حذیفہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام مشکل اور غم میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے فوراً نماز میں لگ جاتے۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ چنانچہ جنگ خندق کے موقع پر رات کے وقت جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں پاتے ہیں۔ [تعظیم قدر الصلاۃ] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کی رات میں نے دیکھا کہ ہم سب سو گئے تھے مگر اللہ کے رسول «اللھم صلی وسلم علیہ» ساری رات نماز میں مشغول رہے صبح تک نماز میں اور دعا میں لگے رہے۔ [تعظیم قدر الصلاۃ:213:حسن] ‏

صفحہ نمبر257

ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ بھوک کے مارے پیٹ کے درد سے بیتاب ہو رہے ہیں آپ نے ان سے [ فارسی زبان میں ] ‏ دریافت فرمایا کہ درد شکم داری؟ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اٹھو نماز شروع کر دو اس میں شفاء ہے۔ [سنن ابن ماجه:3458، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سفر میں اپنے بھائی قثم کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو آپ رضی اللہ عنہما «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ کر راستہ سے ایک طرف ہٹ کر اونٹ بٹھا کر، نماز شروع کر دیتے ہیں اور بہت لمبی نماز ادا کرتے ہیں پھر اپنی سواری کی طرف جاتے ہیں اور اس آیت کو پڑھتے ہیں غرض ان دونوں چیزوں صبرو صلوٰت سے اللہ کی رحمت میسر آتی ہے۔

صفحہ نمبر258

اِنَّھاَ کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے تو صلوٰۃ یعنی نماز کو کہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کہ مدلول کلام یعنی وصیت اس کا مرجع ہے جیسے قارون کے قصہ میں «وَلَا يُلَقَّاهَا [28-القصص:80] ‏» کی ضمیر اور برائی کے بدلے بھلائی کرنے کے حکم میں «وما یلقھا» کی ضمیر۔ مطلب یہ ہے کہ صبرو صلوٰۃ ہر شخص کے بس کی چیز نہیں یہ حصہ اللہ کا خوف رکھنے والی جماعت کا ہے۔ یعنی قرآن کے ماننے والے سچے مومن کانپنے والے متواضع اطاعت کی طرف جھکنے والے وعدے وعید کو سچا ماننے والے ہیں اس وصف سے موصوف ہوتے ہیں جیسے حدیث میں ایک سائل کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ بری چیز ہے لیکن جس پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہو اس پر آسان ہے، [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کے معنی کرتے ہوئے اسے بھی یہودیوں سے ہی خطاب قرار دیا ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ گو یہ بیان انہی کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» آگے چل کر خاشعین کی صفت ہے اس میں ظن معنی میں یقین کے ہے گو ظن شک کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے کہ سدفہ اندھیرے کے معنی میں بھی آتا ہے اور روشنی کے معنی میں بھی اور صارخ کا لفظ بھی فریاد رس اور فریاد کن دونوں کے لیے بولا جاتا ہے اور اسی طرح کے بہت سے نام ہیں جو ایسی دو مختلف چیزوں پر بولے جاتے ہیں۔ «ظن» یقین کے معنی میں عرب شعراء کے شعروں میں بھی آیا ہے خود قرآن کریم میں «وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا» [ 18۔ الکہف: 53 ] ‏ یعنی گنہگار جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ اب ہم اس میں جھونک دئیے جائیں گے یہاں بھی «ظن» یقین کے معنی میں ہے بلکہ مجاہد فرماتے ہیں قرآن میں ایسی جگہ «ظن» کا لفظ یقین اور علم کے معنی میں ہے ابوالعالیہ بھی یہاں «ظن» کے معنی یقین کرتے ہیں۔ حضرت مجاہدرحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ، ربیع رحمہ اللہ بن انس اور قتادہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریج بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ ہے «اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْ» [ 69۔ الحاقہ: 20 ] ‏ یعنی مجھے یقین تھا کہ مجھے حساب سے دو چار ہونا ہے۔

صفحہ نمبر259

ایک صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک گنہگار بندے سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دئیے تھے؟ کیا تجھ پر طرح طرح کے اکرام نہیں کئے تھے؟ کیا تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے تھے؟ کیا تجھے راحت و آرام کھانا پینا میں نے نہیں دیا تھا؟ یہ کہے گا ہاں پروردگار یہ سب کچھ دیا تھا۔ پھر کیا تیرا علم و یقین اس بات پر نہ تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا ہاں اللہ تعالیٰ اسے نہیں مانتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بس تو جس طرح مجھے بھول گیا تھا آج میں بھی تجھے بھلا دوں گا۔ [صحیح مسلم:2968] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ ظن کا ہے اور معنی میں یقین کے ہیں اس کی مزید تحقیق و تفصیل ان شاءاللہ تعالیٰ آیت «نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ» [ 59۔ الحشر: 19 ] ‏ کی تفسیر میں آگے آئے گی۔

صفحہ نمبر260
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados