Entrar
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
Entrar
Entrar
30:41
ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدي الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون ٤١
ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ٤١
ظَهَرَ
ٱلۡفَسَادُ
فِي
ٱلۡبَرِّ
وَٱلۡبَحۡرِ
بِمَا
كَسَبَتۡ
أَيۡدِي
ٱلنَّاسِ
لِيُذِيقَهُم
بَعۡضَ
ٱلَّذِي
عَمِلُواْ
لَعَلَّهُمۡ
يَرۡجِعُونَ
٤١
A corrupção surgiu na terra e no mar por causa do que as mãos dos humanos lucraram. E (Deus) os fará provar algo deque cometeram. Quiçá assim se abstenham disso.
Tafsirs
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 30:41 a 30:42

آیت 41 ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ”یہ آیت جس شان سے آج دنیا کے افق پر نمایاں ہوئی ہے شاید اپنے نزول کے وقت اس کی یہ کیفیت نہیں تھی۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے نہ تو دنیا کی وسعت کے بارے میں لوگوں کو صحیح اندازہ تھا اور نہ ہی ”فساد“ کی اقسام میں وہ تنوع سامنے آیا تھا جس کا نظارہ آج کی دنیا کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا میں جس جس نوعیت کے فسادات رونما ہو رہے ہیں ان کی تفصیلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج چونکہ پوری دنیا سمٹ کر ”گلوبل ویلج“ کی صورت اختیار کرچکی ہے اس لیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں رونما ہونے والے ”فساد“ کے اثرات ہر انسان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ چناچہ ان حالات میں آج اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا ”اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سب اعمال کی سزا دنیا میں نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہو تو روئے زمین پر کوئی انسان بھی زندہ نہ بچے : وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فاطر : 45 ”اور اگر اللہ گرفت کرے لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس زمین کی پشت پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے ‘ لیکن وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے ان کو ایک مقررہ مدت تک“۔ اس اصول کے تحت اگرچہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کی حد تک انسانوں کی زیادہ تر نافرمانیوں کو نظر انداز کرکے ان کی سزا کو مؤخر کرتا رہتا ہے لیکن بعض گناہوں یا جرائم کی گرفت وہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور اس گرفت کا مقصد یہ ہوتا ہے :لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ”کہ شاید اس سے کچھ لوگوں کو ہوش آجائے اور وہ توبہ کر کے اپنی روش تبدیل کرلیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان جس ذلت و خواری کو اپنا مقدر سمجھے بیٹھے ہیں شاید ایسی کسی گرفت سے انہیں بھی غور کرنے کی توفیق مل جائے کہ : ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں ! غالبؔ شاید ایسی کسی ٹھوکر سے وہ جاگ جائیں اور انہیں اللہ کے اس وعدے پر غور و خوض کرنے کی فرصت میسر آجائے : وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ آل عمران ”اور تم لوگ ہی سر بلند ہو گے اگر تم حقیقی مؤمن ہو گے“۔ اور اس طرح وہ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ان کے تمام مسائل کا سبب ایمان حقیقی کا فقدان ہے۔ اور شاید اس طرح انہیں قرآن سے براہ راست ہم کلام ہونے کا بھی موقع مل جائے اور خود قرآن انہیں ان کی ذلت و خواری کی وجہ بتادے کہ تم اس حالت کو اس لیے پہنچے ہو کہ تم نے اپنے دین کے حصے بخرے کردیے ہیں ‘ تم دین کے صرف ان احکام پر عمل کرتے ہو جو تمہیں پسند ہیں اور جو احکام تمہاری نجی اور معاشرتی زندگی کے معمول سے مطابقت نہیں رکھتے انہیں نظر انداز کردیتے ہو : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ البقرۃ ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے دنیا کی زندگی کی ذلت و رسوائی کے ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف ‘ اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو“۔ چناچہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں۔ یہاں پر زیر مطالعہ چار سورتوں العنکبوت ‘ الروم ‘ لقمان اور السجدۃ کے ذیلی گروپ کے بارے میں ایک اہم بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ مضامین کی خاص مشابہت کے اعتبار سے یہ سورتیں مزید دو جوڑوں پر مشتمل ہیں۔ چناچہ اس نقطہ نظر سے سورة العنکبوت کی مناسبت سورة لقمان کے ساتھ ہے جبکہ سورة الروم کے مضامین سورة السجدۃ کے مضامین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر اس سورت کی یہ آیت آیت 41 اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة السجدۃ کی آیت 21 کے ساتھ خصوصی مطابقت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ سورة الروم کی 60 آیات ہیں جبکہ سورة السجدۃ کی 30 آیات ہیں۔ چناچہ آیات کی تعداد کے لحاظ سے جو جگہ سورة الروم کی ساٹھ آیات کے اندر اس کی آیت 41 کی ہے تقریباً وہی جگہ سورة السجدۃ کی تیس آیات کے اندر اس کی آیت 21 کو حاصل ہے۔ اس لحاظ سے ان دونوں آیات کی باہمی مطابقت و مشابہت معنی خیز ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados