Entrar
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
🚀 Participe do nosso Desafio do Ramadã!
Saber mais
Entrar
Entrar
4:79
ما اصابك من حسنة فمن الله وما اصابك من سيية فمن نفسك وارسلناك للناس رسولا وكفى بالله شهيدا ٧٩
مَّآ أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍۢ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَـٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولًۭا ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۭا ٧٩
مَّآ
أَصَابَكَ
مِنۡ
حَسَنَةٖ
فَمِنَ
ٱللَّهِۖ
وَمَآ
أَصَابَكَ
مِن
سَيِّئَةٖ
فَمِن
نَّفۡسِكَۚ
وَأَرۡسَلۡنَٰكَ
لِلنَّاسِ
رَسُولٗاۚ
وَكَفَىٰ
بِٱللَّهِ
شَهِيدٗا
٧٩
Toda a ventura que te ocorra (ó homem) emana de Deus; mas toda a desventura que te açoita provém de ti. Enviamos-te (ó Mohammad) como Mensageiro da humanidade, e Deus é suficiente testemunha disto.
Tafsirs
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
باب

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر انہیں خوش حالی پھلواری اولاد و کھیتی ہاتھ لگے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر قحط سالی پڑے تنگ روزی ہو موت اور اولاد و مال کی کمی اور کھیت اور باغ کی کمی ہو تو جھٹ سے کہہ اٹھتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا نتیجہ ہے، یہ فائدہ ہے مسلمان ہونے کا یہ پھل ہے صاحب ایمان بننے کا، فرعونی بھی اسی طرح برائیوں کو موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں سے منسوب بدشگونی لیا کرتے تھے۔

جیسے کہ قرآن نے اس کا ذکر کیا ہے ایک آیت میں ہے «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ» [22-الحج:11] ‏، یعنی ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک کنارے کھڑے رہ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں یعنی اگر بھلائی ملی تو باچھیں کھل جاتی ہیں اور اگر برائی پہنچے تو الٹے پیروں پلٹ جاتے ہیں۔ یہ ہیں جو دونوں جہان میں برباد ہوں گے “ پس یہاں بھی ان منافقوں کی جو بظاہر مسلمان ہیں اور دل کے کھوٹے ہیں برائی بیان ہو رہی ہے۔ کہ جہاں کچھ نقصان ہوا اور بہک گئے کہ اسلام لانے کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا۔

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «حَسَنَةٍ» سے مراد یہاں بارشوں کا ہونا، جانوروں میں زیادتی ہونا، بال بچے بہ کثرت ہونا، خوشحالی میسر آنا وغیرہ ہے اگر یہ ہوا تو کہتے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے اور اگر اس کے خلاف ہوتا تو اس بے برکتی کا باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتے اور کہتے یہ سب تیری وجہ سے ہے یعنی ہم نے اپنے بڑوں کی راہ چھوڑ دی اور اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اختیار کی اس لیے اس مصیبت میں پھنس گئے اور اس بلا میں گرفتار ہوئے پس پروردگار ان کے ناپاک قول اور اس پلید عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، اس کی قضاء و قدر ہر بھلے برے فاسق فاجر نیک بد مومن کافر پر جاری ہے، بھلائی برائی سب اس کی طرف سے ہے

پھر ان کے اس قول کی جو محض شک و شبہ کم علمی بیوقوفی جہالت اور ظلم کی بنا پر ہے تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ بات سمجھنے کی قابلیت بھی ان سے جاتی رہی۔ ”ایک غریب حدیث جو «قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ» ‏ [4-النساء:78] ‏ کے متعلق ہے اسے بھی سنیے۔“

بزار میں ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ کچھ لوگوں کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ان دونوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر دونوں صاحب بیٹھ گئے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ بلند آواز میں گفتگو کیا ہو رہی تھی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تو کہہ رہے تھے نیکیاں اور بھلائیاں اللہ کی طرف سے ہیں اور برائیاں اور بدیاں ہماری طرف سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم کیا کہہ رہے تھے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں کہہ رہا تھا کہ دونوں باتیں اللہ جل شانہ کی طرف سے ہیں . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی بحث اول اول جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام میں ہوئی تھی میکائیل علیہ السلام وہی کہتے تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام وہ کہہ رہے تھے جو یے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تم کہ رہے ہو۔ پس آسمان والوں میں جب اختلاف ہوا تو زمین والوں میں تو ہونا لازمی تھا۔ آخر اسرافیل علیہ السلام کی طرف فیصلہ گیا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ حسنات اور سیات دونوں اللہ مختار کل کی طرف سے ہیں۔ پھر آپ نے دونوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میرا فیصلہ سنو اور یاد رکھو اگر اللہ تعالیٰ اپنی نافرمانی کے عمل کو نہ چاہتا تو ابلیس کو پیدا ہی نہ کرتا۔ [بزار:2153:موضوع] ‏

صفحہ نمبر1832

لیکن شیخ الاسلام امام تقی الدین ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے اور تمام ان محدثین کا جو حدیث کی پرکھ رکھتے ہیں اتفاق ہے کہ یہ روایت گھڑی ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر1833

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرماتے ہیں جس سے مراد عموم ہے یعنی سب سے ہی خطاب ہے کہ تمہیں جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کا فضل لطف رحمت اور جو برائی پہنچتی ہے وہ خود تمہاری طرف سے تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے، جیسے اور آیت میں ہے «وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ» [42-الشورى:30] ‏ یعنی ” جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے۔ وہ تمہارے بعض اعمال کی وجہ سے اور بھی تو اللہ تعالیٰ بہت سی بد اعمالیوں سے در گزر فرماتا رہتا ہے “ «مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ» [4-النساء:79] ‏ سے مراد بسبب گناہ ہے، یعنی شامت اعمال۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا ذرا سا جسم کسی لکڑی سے جل جائے یا اس کا قدم پھسل جائے یا اسے ذرا سی محنت کرنی پڑے جس سے پسینہ آ جائے تو وہ بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہوتا ہے اور ابھی تو اللہ تعالیٰ جن گناہوں سے چشم پوشی فرماتا ہے جنہیں معاف کر دیتا ہے وہ بہت سارے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:9975:مرسل و ضعیف] ‏ اس مرسل حدیث کا مضمون ایک متصل حدیث میں بھی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ایماندار کو رنج یا جو بھی تکلیف و مشقت پہنچتی ہے یہاں تک کہ جو کانٹا بھی لگتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ [صحیح بخاری:5641] ‏

صفحہ نمبر1834

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو برائی تجھے پہنچتی ہے اس کا باعث تیرا گناہ ہے ہاں اسے مقدر کرنے والا اللہ تعالیٰ آپ ہے، مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تم تقدیر کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ کیا تمہیں سورۃ نساء کی یہ آیت کافی نہیں، پھر اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قسم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سونپ نہیں دئیے گئے انہیں حکم دیئے گئے ہیں اور اسی کی طرف وہ لوٹتے ہیں یہ قول بہت قوی اور مضبوط ہے قدریہ اور جبریہ کی پوری تردید کرتا ہے، تفسیر اس بحث کا موضوع نہیں،

پھر فرماتا ہے کہ تیرا کام اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کی تبلیغ کرنا ہے اس کی رضا مندی اور ناراضگی کے کام کو اس کے احکام اور اس کی ممانعت کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے، اللہ کی گواہی کافی ہے کہ اس نے تجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا ہے، اسی طرح کی گواہی اس امر پر بھی کافی ہے کہ تو نے تبلیغ کردی تیرے ان کے درمیان جو ہو رہا ہے کہ اسے بھی وہ مشاہدہ کر رہا ہے یہ جس طرح کفار عناد اور تکبر تیرے ساتھ برتتے ہیں اسے بھی وہ دیکھ رہا ہے۔

صفحہ نمبر1835
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados