Войти
🚀 Присоединяйтесь к нашему Рамаданскому челленджу!
Учить больше
🚀 Присоединяйтесь к нашему Рамаданскому челленджу!
Учить больше
Войти
Войти
76:2
انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج نبتليه فجعلناه سميعا بصيرا ٢
إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍۢ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا ٢
إِنَّا
خَلَقۡنَا
ٱلۡإِنسَٰنَ
مِن
نُّطۡفَةٍ
أَمۡشَاجٖ
نَّبۡتَلِيهِ
فَجَعَلۡنَٰهُ
سَمِيعَۢا
بَصِيرًا
٢
Мы создали человека из смешанной капли, подвергая его испытанию, и сделали его слышащим и зрячим.
Тафсиры
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Связанные стихи
Вы читаете тафсир для группы стихов 76:1 до 76:3
تفسیر سورۃ الإنسان:

صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] ‏ اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891] ‏

ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔“ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف] ‏

اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ‏ ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “

پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔ ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] ‏ یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔

10080

اور جگہ ہے «‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ‏ ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”اسے ہم نے راہ دکھائی“ یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔

«‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] ‏ میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔

جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223] ‏

10081

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے“ یا فرمایا ”دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے“ ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی] ‏

10082

سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف] ‏

10083
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Читайте, слушайте, ищите и размышляйте над Кораном

Quran.com — это надёжная платформа, используемая миллионами людей по всему миру для чтения, поиска, прослушивания и размышления над Кораном на разных языках. Она предоставляет переводы, тафсир, декламацию, пословный перевод и инструменты для более глубокого изучения, делая Коран доступным каждому.

Quran.com, как садака джария, стремится помочь людям глубже проникнуть в Коран. При поддержке Quran.Foundation , некоммерческой организации, имеющей статус 501(c)(3), Quran.com продолжает развиваться как бесплатный и ценный ресурс для всех. Альхамдулиллях.

Навигация
Дом
Коран Радио
Чтецы
О нас
Разработчики
Обновления продуктов
Обратная связь
Помощь
Наши проекты
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Некоммерческие проекты, принадлежащие, управляемые или спонсируемые Quran.Foundation
Популярные ссылки

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Карта сайтаКонфиденциальностьУсловия и положения
© 2026 Quran.com. Все права защищены