Войти
🚀 Присоединяйтесь к нашему Рамаданскому челленджу!
Учить больше
🚀 Присоединяйтесь к нашему Рамаданскому челленджу!
Учить больше
Войти
Войти
9:97
الاعراب اشد كفرا ونفاقا واجدر الا يعلموا حدود ما انزل الله على رسوله والله عليم حكيم ٩٧
ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًۭا وَنِفَاقًۭا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٩٧
ٱلۡأَعۡرَابُ
أَشَدُّ
كُفۡرٗا
وَنِفَاقٗا
وَأَجۡدَرُ
أَلَّا
يَعۡلَمُواْ
حُدُودَ
مَآ
أَنزَلَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
رَسُولِهِۦۗ
وَٱللَّهُ
عَلِيمٌ
حَكِيمٞ
٩٧
Бедуины оказываются самыми упорными в неверии и лицемерии. Они больше других не признают ограничений, которые Аллах ниспослал Своему Посланнику. Воистину, Аллах - Знающий, Мудрый.
Тафсиры
Уроки
Размышления
Ответы
Кираат
Вы читаете тафсир для группы стихов 9:97 до 9:99
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔

جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔‏“

تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔

امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔‏“ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔

صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ‏ یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔

ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ [مسند احمد:2687:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3568
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭

کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔

حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔‏“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ [صحیح بخاری:5998] ‏

اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔

صفحہ نمبر3569
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Читайте, слушайте, ищите и размышляйте над Кораном

Quran.com — это надёжная платформа, используемая миллионами людей по всему миру для чтения, поиска, прослушивания и размышления над Кораном на разных языках. Она предоставляет переводы, тафсир, декламацию, пословный перевод и инструменты для более глубокого изучения, делая Коран доступным каждому.

Quran.com, как садака джария, стремится помочь людям глубже проникнуть в Коран. При поддержке Quran.Foundation , некоммерческой организации, имеющей статус 501(c)(3), Quran.com продолжает развиваться как бесплатный и ценный ресурс для всех. Альхамдулиллях.

Навигация
Дом
Коран Радио
Чтецы
О нас
Разработчики
Обновления продуктов
Обратная связь
Помощь
Наши проекты
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Некоммерческие проекты, принадлежащие, управляемые или спонсируемые Quran.Foundation
Популярные ссылки

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Карта сайтаКонфиденциальностьУсловия и положения
© 2026 Quran.com. Все права защищены