اوپر آیت نمبر
پیغمبر کو خدا اپنی خصوصی توجہ کے ذریعہ اس شاہراہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جوحق کی شاہراہ ہے اور جو براہِ راست خدا تک پہنچانے والی ہے۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی اس شاہراہ پر خود چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف رہنمائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پیغمبر کے راستے کے سوا دوسرے راستوں کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کی مثال اندھے بہرے کی ہے۔ ان کے پاس کان نہیں کہ وہ خدا کی آوازوں کو سنیں، ان کے پاس آنکھ نہیں کہ ا س کے ذریعہ خدا کے جلوؤں کو دیکھیں۔ ان کے اندر وہ قلب ودماغ نہیں کہ وہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو پالیں۔
سمع وبصر وفواد اس لیے دئے گئے تھے کہ ان کے ذریعہ آدمی مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھے۔ مگر انسان نے ان کا استعمال یہ کیا کہ وہ خود مخلوقات میں اٹک کر رہ گیا۔