آیت 36{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ } ”اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہوگی۔“ { لَا یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُمْ مِّنْ عَذَابِہَا } ”نہ تو ان کا قصہ چکایا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ہی ان کے لیے اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔“ اس وقت اہل جہنم کی سب سے بڑی خواہش تو یہی ہوگی کہ انہیں موت آجائے اور وہ اس کے لیے دعا بھی کریں گے۔ سورة الفرقان میں ان کی اس خواہش اور دعا کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے : { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُـبُوْرًا کَثِیْرًا۔ ”تب ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک موت نہ مانگو بلکہ بہت سی موتیں مانگو !“ { کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر ناشکرے انسان کو۔“