ลงชื่อเข้าใช้
🚀 เข้าร่วมกิจกรรมท้าทายเดือนรอมฎอนของเรา!
เรียนรู้เพิ่มเติม
🚀 เข้าร่วมกิจกรรมท้าทายเดือนรอมฎอนของเรา!
เรียนรู้เพิ่มเติม
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
66:4
ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما وان تظاهرا عليه فان الله هو مولاه وجبريل وصالح المومنين والملايكة بعد ذالك ظهير ٤
إِن تَتُوبَآ إِلَى ٱللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ۖ وَإِن تَظَـٰهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ مَوْلَىٰهُ وَجِبْرِيلُ وَصَـٰلِحُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ ٤
إِن
تَتُوبَآ
إِلَى
ٱللَّهِ
فَقَدۡ
صَغَتۡ
قُلُوبُكُمَاۖ
وَإِن
تَظَٰهَرَا
عَلَيۡهِ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
مَوۡلَىٰهُ
وَجِبۡرِيلُ
وَصَٰلِحُ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ
وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
بَعۡدَ
ذَٰلِكَ
ظَهِيرٌ
٤
[4] หากเจ้าทั้งสองกลับเนื้อกลับตัวขออภัยโทษต่ออัลลอฮฺ (ก็จะเป็นการดีแก่เจ้าทั้งสอง) เพราะแน่นอน หัวใจของเจ้าทั้งสองก็โอนอ่อนอยู่แล้ว แต่หากเจ้าทั้งสองร่วมกันต่อต้านเขา (ท่านนะบี) แท้จริงอัลลอฮฺ พระองค์เป็นผู้ทรงคุ้มครองของเขา อีกทั้งญิบรีลและบรรดาผู้ศรัทธาที่ดี ๆ และนอกจากนั้น มะลาอิกะฮฺก็ยังเป็นผู้ช่วยเหลือสนับสนุนอีกด้วย
ตัฟซีร
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต

آیت 4{ اِنْ تَـتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا } ”اگر تم دونوں اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ‘ کیونکہ تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں۔“ اس آیت کی تعبیر میں اہل تشیع کا نقطہ نظر یقینا انتہا پسندانہ ہے ‘ لیکن مقام حیرت ہے کہ ہمارے بعض مترجمین اور مفسرین نے بھی انہی کی روش اختیار کی ہے۔ البتہ مولانا حمید الدین فراہی رح نے عربی اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کی جو وضاحت کی ہے میری رائے میں وہ بہت جامع اور بالکل درست ہے۔ اس حوالے سے میں ذاتی طور پر خود کو مولانا صاحب کا احسان مند مانتا ہوں کہ ان کی اس تحریر کی بدولت مجھے قرآن کے اس مقام کا درست فہم اور شعور نصیب ہوا۔ اہل تشیع کے ہاں { فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا } کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ دراصل صََغَتْ ایسا لفظ ہے جس میں منفی اور مثبت دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے مَالَ اِلٰی کے معنی ہیں کسی طرف میلان یا توجہ ہونا جبکہ مَالَ عَنْ کے معنی ہیں کسی سے نفرت ہوجانا۔ اسی طرح لفظ رَغِبَ اِلٰی راغب ہونا ‘ محبت کرنا اور رَغِبَ عَنْ ناپسند کرنا کے معنی دیتا ہے۔ صَغٰی کا معنی ہے جھک جانا ‘ مائل ہوجانا۔ جب ستارے ڈوبنے لگتے ہیں تو عرب کہتے ہیں : صَغَتِ النُّجُوم۔ چناچہ یہاں اس لفظ کا درست مفہوم مائل ہوجانا ہی ہے کہ اب تمہارے دل میں تو یہ بات آ ہی چکی ہے اور تمہارے دل تو خطا کو تسلیم کر ہی چکے ہیں ‘ بس اب تم زبان سے بھی اس کا اعتراف کرلو۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی خطا کا احساس ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اعتراف اور توبہ کے الفاظ بھی سکھا دیے : { فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَـیْہِط } البقرۃ : 37 اور آپ علیہ السلام نے سکھائے ہوئے طریقے سے توبہ کرلی۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ مذکورہ بات حضرت حفصہ رض نے حضرت عائشہ رض کو بتائی تھی۔ چونکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رض کو دربارِ رسالت میں خصوصی مقام و مرتبہ حاصل تھا اسی نسبت سے حضرت عائشہ رض اور حضرت حفصہ رض بھی ازواجِ مطہرات رض میں ممتاز تھیں۔ { وَاِنْ تَظٰھَرَا عَلَیْہِ } ”اور اگر تم دونوں نے ان کے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے“ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ قرآن مجید کے ایسے مقامات کو سمجھنے کے لیے بنیادی طور پر یہ اصول ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ ‘ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی۔ اور یہ بھی کہ جن کے مراتب جتنے بلند ہوں ان کا ہلکا سا سہو بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل گرفت ہوجاتا ہے۔ جیسے عربی کا مقولہ ہے : حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْن یعنی عام لوگوں کے لیے جو کام بڑی نیکی کا سمجھا جائے گا ہوسکتا ہے کہ وہی کام اللہ تعالیٰ کے مقربین اولیاء اور محبوب بندوں کے لیے تقصیر قرار پائے اور ان کے مرتبہ کے اعتبار سے قابل ِگرفت شمار ہوجائے۔ اسی قاعدہ اور اصول کے تحت یہاں یہ سخت الفاظ آئے ہیں کہ اگر آپ لوگوں نے ہمارے رسول ﷺ کے خلاف کوئی متحدہ محاذ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو سن لو : { فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰــٹہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ۔ } ”ان ﷺ کا پشت پناہ تو خود اللہ ہے اور جبریل اور تمام صالح مومنین ‘ اور مزید برآں تمام فرشتے بھی ان ﷺ کے مددگار ہیں۔“ لہٰذا بہتر تو یہ ہے کہ تم لوگ ہمارے رسول ﷺ کے ساتھ جو بھی معاملہ کرو ان کے مقام و مرتبے کی مناسبت سے کیا کرو۔ تمہارا میاں بیوی کا رشتہ اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت کسی لمحہ بھی نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور تم سب لوگ امتی ہو۔ تمہارا ان ﷺ کے ساتھ بنیادی تعلق یہی ہے۔ اس تعلق کے مقابلے میں تمہارے باقی تمام رشتوں کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کے بعد آگے مزید سخت الفاظ آ رہے ہیں :

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
อ่าน ฟัง ค้นหา และไตร่ตรองคัมภีร์อัลกุรอาน

Quran.com คือแพลตฟอร์มที่ผู้คนหลายล้านคนทั่วโลกไว้วางใจให้ใช้เพื่ออ่าน ค้นหา ฟัง และใคร่ครวญอัลกุรอานในหลากหลายภาษา Quran.com มีทั้งคำแปล ตัฟซีร บทอ่าน คำแปลทีละคำ และเครื่องมือสำหรับการศึกษาอย่างลึกซึ้ง ทำให้ทุกคนสามารถเข้าถึงอัลกุรอานได้

ในฐานะซอดาเกาะฮ์ ญาริยาห์ Quran.com มุ่งมั่นที่จะช่วยให้ผู้คนเชื่อมโยงกับอัลกุรอานอย่างลึกซึ้ง Quran.com ได้รับการสนับสนุนจาก Quran.Foundation ซึ่งเป็นองค์กรไม่แสวงหาผลกำไร 501(c)(3) และยังคงเติบโตอย่างต่อเนื่องในฐานะแหล่งข้อมูลฟรีที่มีคุณค่าสำหรับทุกคน อัลฮัมดุลิลลาฮ์

นำทาง
หน้าหลัก
วิทยุอัลกุรอาน
ผู้อ่าน
เกี่ยวกับเรา
นักพัฒนา
อัพเดทผลิตภัณฑ์
แนะนำติชม
ช่วยเหลือ
โครงการของเรา
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
โครงการไม่แสวงหากำไรที่เป็นเจ้าของ บริหารจัดการ หรือได้รับการสนับสนุนโดย Quran.Foundation
ลิงค์ยอดนิยม

อายะห์กุรซี

ยาซีน

อัลมุลก์

อัรเราะห์มาน

อัลวากิอะฮ์

อัลกะห์ฟ

อัลมุซซัมมิล

แผนผังเว็บไซต์ความเป็นส่วนตัวข้อกำหนดและเงื่อนไข
© 2026 Quran.com. สงวนลิขสิทธิ์