Giriş yap
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
Giriş yap
Giriş yap
14:45
وسكنتم في مساكن الذين ظلموا انفسهم وتبين لكم كيف فعلنا بهم وضربنا لكم الامثال ٤٥
وَسَكَنتُمْ فِى مَسَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ ٤٥
وَسَكَنتُمۡ
فِي
مَسَٰكِنِ
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
وَتَبَيَّنَ
لَكُمۡ
كَيۡفَ
فَعَلۡنَا
بِهِمۡ
وَضَرَبۡنَا
لَكُمُ
ٱلۡأَمۡثَالَ
٤٥
İnsanları, kendilerine azabın geleceği gün ile uyar. Haksızlık edenler: "Rabbimiz! Bizi yakın bir süreye kadar ertele de çağrına gelelim, peygamberlere uyalım" derler. Siz daha önce, sonunuzun gelmeyeceğine yemin etmemiş miydiniz! Üstelik kendilerine yazık edenlerin yerlerinde oturdunuz. Onlara, yaptıklarımız da sizlere açıklanmıştı. Size misaller de vermiştik.
Tefsirler
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
14:44 ile 14:46 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
عذاب دیکھنے کے بعد ٭٭

ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمانبرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کر لیں۔

اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں «حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [23-المؤمنون:99-100] ‏ ” اے اللہ اب واپس لوٹا دے “ الخ۔

یہی مضمون «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» «وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» [63-المنافقون:10-9] ‏ میں ہے یعنی ” اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الٰہی سے غافل نہ کر دیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری راہ میں دیتے رہو ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت آرزو کرنے لگو کہ مجھے ذرا سی مہلت نہیں مل جائے تو میں خیرات ہی کر لوں اور نیک لوگوں میں مل جاؤں۔ یاد رکھو اجل آنے کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ محشر میں بھی ان کا یہی حال ہوگا “۔

چنانچہ سورۃ السجدہ کی «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِم» [32-السجدة:12] ‏ میں ہے کہ ” کاش کے تم گنہگاروں کو دیکھتے کہ وہ اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک بار دنیا میں پھر بھیج دے کہ ہم یقین والے ہو کر نیک اعمال کرلیں “۔

یہی بیان «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [6-الأنعام:27] ‏ اور «وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ» [35-فاطر:37] ‏ وغیرہ میں بھی ہے۔

یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ ” تم تو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تمہاری نعمتوں کو زوال ہی نہیں قیامت کوئی چیز ہی نہیں مر کر اٹھنا ہی نہیں اب اس کا مزہ چکھو “۔

یہ کہا کرتے تھے اور خوب مضبوط قسمیں کھا کھا کر دوسروں کو بھی یقین دلاتے تھے کہ مردوں کو اللہ زندہ نہ کرے گا۔

صفحہ نمبر4260

پھر فرماتا ہے کہ ” تم دیکھ چکے کہ تم سے پہلے کے تم جیسوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ ان کی مثالیں ہم تم سے بیان بھی کر چکے کہ ہمارے عذابوں نے کیسے انہیں غارت کر دیا؟ باوجود اس کے تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور چوکنا نہیں ہوتے۔ یہ گو کتنے ہی چالاک ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اللہ کے سامنے کسی کی چالاکی نہیں چلتی “۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے جس نے جھگڑا کیا تھا اس نے دو بچے گدھ کے پالے جب وہ بڑے ہوگئے۔ جوانی کو پہنچے قوت والے ہوگئے تو ایک چھوٹی سی چوکی کے ایک پائے سے ایک کو باندھ دیا دوسرے سے دوسرے کو باندھ دیا انہیں کھانے کو کچھ نہ دیا خود اپنے ایک ساتھی سمیت اس چوکی پر بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے سرے پر گوشت باندھ کر اسے اوپر کو اٹھایا بھوکے گدھ وہ کھانے کے لیے اوپر کو اڑے اور اپنے زور سے چوکی کو بھی لے اڑے اب جب کہ یہ اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ ہر چیز انہیں مکھی کی طرح کی نظر آنے لگی تو اس نے لکڑی جھکا دی اب گوشت نیچے دکھائی دینے لگا اس لیے جانوروں نے پر سمیٹ کر گوشت لینے کے لیے نیچے اترنا شروع کیا اور تخت بھی نیچا ہونے لگا یہاں تک کہ زمین تک پہنچ گیا پس یہ ہیں وہ مکاریاں جن سے پہاڑوں کا زوال بھی ممکن سا ہو جائے۔

صفحہ نمبر4261

سیدنا عبداللہ کی قرأت میں «کَادَ مَکْرُھُم» ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی یہی ہے۔

یہ قصہ نمرود کا ہے جو کنعان کا بادشاہ تھا اس نے اس حیلے سے آسمان کا قبض چاہا تھا اس کے بعد قبطیوں کے بادشاہ فرعون کو بھی یہی خبط سمایا تھا بڑا بلند منارہ تعمیر کرایا تھا لیکن دونوں کی ناتوانی ضعیفی اور عاجزی ظاہر ہوگئی۔ اور ذلت و خواری پستی و تنزل کے ساتھ حقیر و ذلیل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ جب بخت نصر اس حیلہ سے اپنے تخت کو بہت اونچا لے گیا یہاں تک کہ زمین اور زمین والے اس کی نظروں سے غائب ہو گئے تو اسے ایک قدرتی آواز آئی کہ اے سرکش طاغی کیا ارادہ ہے؟ یہ ڈر گیا ذرا سی دیر بعد پھر اسے یہی غیب ندا سنائی دی اب تو اس کا پِتّہ پانی ہو گیا اور جلدی سے نیزہ جھکا کر اترنا شروع کر دیا۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ کی قرأت میں «لِتَزُوْلُ» ہے بدلے میں «لِتَزُولَ» کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «اِنۡ» کو نافیہ مانتے ہیں یعنی ان کے مکر پہاڑوں کو زائل نہیں کرسکتے۔ حسن بصری رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر4262

ابن جریر رحمہ اللہ اس کی توجیہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ان کا شرک و کفر پہاڑوں وغیرہ کو ہٹا نہیں سکتا کوئی ضرر دے نہیں سکتا صرف اس کا وبال انہی کی جانوں پر ہے۔‏“

میں کہتا ہوں اسی کے مشابہ یہ فرمان الٰہی بھی ہے «لَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا» [17-الإسراء:37] ‏ ” زمین پر اکڑفوں سے نہ چل نہ تو تو زمین کو چیر سکتا ہے نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے “۔

دوسرا قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ ہے کہ ”ان کا شرک پہاڑوں کو زائل کر دینے والا ہے۔‏“ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے «تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» [19-مريم:90] ‏ ” اس سے تو آسمانوں کا پھٹ جانا ممکن ہے “۔ ضحاک و قتادہ رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔

صفحہ نمبر4263
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Kuran'ı Oku, Dinle, Araştır ve Üzerinde Düşün

Quran.com, dünya çapında milyonlarca kişinin Kur'an'ı birden fazla dilde okumak, aramak, dinlemek ve üzerinde düşünmek için kullandığı güvenilir bir platformdur. Çeviriler, tefsirler, kıraatler, kelime kelime çeviriler ve derinlemesine inceleme araçları sunarak Kur'an'ı herkes için erişilebilir hale getirir.

Bir Sadaka-i Cariye olarak Quran.com, insanların Kur'an ile derin bir bağ kurmasına yardımcı olmaya kendini adamıştır. 501(c)(3) kar amacı gütmeyen bir kuruluş olan Kur'an Vakfı tarafından desteklenen Quran.com, Elhamdülillah herkes için ücretsiz ve değerli bir kaynak olarak büyümeye devam ediyor.

Keşfedin
Anasayfa
Kuran Radyo
Okuyucular
Hakkımızda
Geliştiriciler
Ürün Güncellemeleri
Geri Bildirim
Yardım
Projelerimiz
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation tarafından sahip olunan, yönetilen veya desteklenen kar amacı gütmeyen projeler
Popüler Bağlantılar

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Site HaritasıGizlilikŞartlar ve koşullar
© 2026 Quran.com. Her hakkı saklıdır