Giriş yap
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
Giriş yap
Giriş yap
33:28
يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين امتعكن واسرحكن سراحا جميلا ٢٨
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًۭا جَمِيلًۭا ٢٨
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّبِيُّ
قُل
لِّأَزۡوَٰجِكَ
إِن
كُنتُنَّ
تُرِدۡنَ
ٱلۡحَيَوٰةَ
ٱلدُّنۡيَا
وَزِينَتَهَا
فَتَعَالَيۡنَ
أُمَتِّعۡكُنَّ
وَأُسَرِّحۡكُنَّ
سَرَاحٗا
جَمِيلٗا
٢٨
Ey Peygamber! Eşlerine şöyle söyle: "Eğer dünya hayatını ve süslerini istiyorsanız gelin size bağışta bulunayım ve güzellikle salıvereyim."
Tefsirler
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
33:28 ile 33:29 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
امہات المومنین سے پرسش! دین یا دنیا؟ ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا “۔

اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا ۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کون سی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے ۔ [صحیح بخاری:4785] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا ۔ [صحیح بخاری:4786] ‏

اور روایت میں ہے کہ تین دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا ، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور ہنس دیئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28464:] ‏

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28465:] ‏

فرماتی ہیں کہ اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا ۔ [صحیح بخاری:5262] ‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔

صفحہ نمبر7007

پھر کہنے لگے ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔‏“ یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ”افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں۔‏“ وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا۔‏“

صفحہ نمبر7008

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا ۔ [صحیح مسلم:1478] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا [مسند احمد:78/1:ضعیف] ‏

لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ” آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں “۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ» ۔

صفحہ نمبر7009
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Kuran'ı Oku, Dinle, Araştır ve Üzerinde Düşün

Quran.com, dünya çapında milyonlarca kişinin Kur'an'ı birden fazla dilde okumak, aramak, dinlemek ve üzerinde düşünmek için kullandığı güvenilir bir platformdur. Çeviriler, tefsirler, kıraatler, kelime kelime çeviriler ve derinlemesine inceleme araçları sunarak Kur'an'ı herkes için erişilebilir hale getirir.

Bir Sadaka-i Cariye olarak Quran.com, insanların Kur'an ile derin bir bağ kurmasına yardımcı olmaya kendini adamıştır. 501(c)(3) kar amacı gütmeyen bir kuruluş olan Kur'an Vakfı tarafından desteklenen Quran.com, Elhamdülillah herkes için ücretsiz ve değerli bir kaynak olarak büyümeye devam ediyor.

Keşfedin
Anasayfa
Kuran Radyo
Okuyucular
Hakkımızda
Geliştiriciler
Ürün Güncellemeleri
Geri Bildirim
Yardım
Projelerimiz
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation tarafından sahip olunan, yönetilen veya desteklenen kar amacı gütmeyen projeler
Popüler Bağlantılar

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Site HaritasıGizlilikŞartlar ve koşullar
© 2026 Quran.com. Her hakkı saklıdır