Giriş yap
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
Giriş yap
Giriş yap
42:3
كذالك يوحي اليك والى الذين من قبلك الله العزيز الحكيم ٣
كَذَٰلِكَ يُوحِىٓ إِلَيْكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٣
كَذَٰلِكَ
يُوحِيٓ
إِلَيۡكَ
وَإِلَى
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِكَ
ٱللَّهُ
ٱلۡعَزِيزُ
ٱلۡحَكِيمُ
٣
Güçlü olan, Hakim olan Allah, sana da, senden öncekilere de böyle vahyeder.
Tefsirler
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
42:1 ile 42:3 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
حم عسق کی تفسیر ٭٭

حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس سیدنا حذیفہرضی اللہ عنہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کر لیا پھر منہ پھیر لیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی منہ پھیر لیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے «عبد الا لہٰ» اور عبداللہ کہا جاتا ہو گا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہو گا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہو گا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں «حم عسق» کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضاء کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد ”سَِیَکوُنٌ“ یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا [ ق ] ‏ سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلیٰ کی دوسری جلد میں مسند سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے «حم» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد «عاین المولون عذاب یوم بدر» ہے۔ سین سے مراد «وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ» [ سورة الشعراء: 227 ] ‏ [ ق ] ‏ سے کیا مراد ہے اسے آپ رضی اللہ عنہ نہ بتا سکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا [ ق ] ‏ سے مراد «قارعہ» آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا «ضعیف» ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا

؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہو چکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے۔

صفحہ نمبر8108

سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کر جاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہو جاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد:222/2:حدیث صحیح و ھذا اسناد ضعیف] ‏

شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر8109
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Kuran'ı Oku, Dinle, Araştır ve Üzerinde Düşün

Quran.com, dünya çapında milyonlarca kişinin Kur'an'ı birden fazla dilde okumak, aramak, dinlemek ve üzerinde düşünmek için kullandığı güvenilir bir platformdur. Çeviriler, tefsirler, kıraatler, kelime kelime çeviriler ve derinlemesine inceleme araçları sunarak Kur'an'ı herkes için erişilebilir hale getirir.

Bir Sadaka-i Cariye olarak Quran.com, insanların Kur'an ile derin bir bağ kurmasına yardımcı olmaya kendini adamıştır. 501(c)(3) kar amacı gütmeyen bir kuruluş olan Kur'an Vakfı tarafından desteklenen Quran.com, Elhamdülillah herkes için ücretsiz ve değerli bir kaynak olarak büyümeye devam ediyor.

Keşfedin
Anasayfa
Kuran Radyo
Okuyucular
Hakkımızda
Geliştiriciler
Ürün Güncellemeleri
Geri Bildirim
Yardım
Projelerimiz
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation tarafından sahip olunan, yönetilen veya desteklenen kar amacı gütmeyen projeler
Popüler Bağlantılar

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Site HaritasıGizlilikŞartlar ve koşullar
© 2026 Quran.com. Her hakkı saklıdır