Giriş yap
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
Giriş yap
Giriş yap
6:19
قل اي شيء اكبر شهادة قل الله شهيد بيني وبينكم واوحي الي هاذا القران لانذركم به ومن بلغ اينكم لتشهدون ان مع الله الهة اخرى قل لا اشهد قل انما هو الاه واحد وانني بريء مما تشركون ١٩
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَـٰدَةًۭ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ١٩
قُلۡ
أَيُّ
شَيۡءٍ
أَكۡبَرُ
شَهَٰدَةٗۖ
قُلِ
ٱللَّهُۖ
شَهِيدُۢ
بَيۡنِي
وَبَيۡنَكُمۡۚ
وَأُوحِيَ
إِلَيَّ
هَٰذَا
ٱلۡقُرۡءَانُ
لِأُنذِرَكُم
بِهِۦ
وَمَنۢ
بَلَغَۚ
أَئِنَّكُمۡ
لَتَشۡهَدُونَ
أَنَّ
مَعَ
ٱللَّهِ
ءَالِهَةً
أُخۡرَىٰۚ
قُل
لَّآ
أَشۡهَدُۚ
قُلۡ
إِنَّمَا
هُوَ
إِلَٰهٞ
وَٰحِدٞ
وَإِنَّنِي
بَرِيٓءٞ
مِّمَّا
تُشۡرِكُونَ
١٩
"Şahit olarak hangi şey daha büyüktür" de. "Allah benimle sizin aranızda şahiddir. Bu Kuran bana, sizi ve ulaştığı kimseleri uyarmam için vahyolundu; Allah'la beraber başka tanrılar bulunduğuna siz mi şahidlik ediyorsunuz?" de. "Ben şehadet etmem" de. "O ancak tek Tanrıdır, doğrusu ben ortak koşmanızdan uzağım" de.
Tefsirler
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat

آیت 19 قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَہَادَۃً ط قُلِ اللّٰہُ قف شَہِیْدٌم بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ قف یہ گویا اس سورة کے عمود کا عکس ہے۔ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر ہم کسی قسم کا حسی معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ کیونکہ اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر یہ قرآن اتار دیا ‘ آپ تبشیر ‘ انذار اور تذکیر کے فرائض اسی قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔ جس کے اندر صلاحیت ہے ‘ جو طالب حق ہے ‘ جو ہدایت چاہتا ہے ‘ وہ ہدایت پالے گا۔ باقی جس کے دل میں کجی ہے ‘ ٹیڑھ ہے ‘ تعصب ‘ ضد اور ہٹ دھرمی ہے ‘ حسد اور تکبر ہے ‘ آپ ﷺ اس کو دس لاکھ معجزے دکھا دیجیے وہ نہیں مانے گا۔ کیا علماء یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزے دیکھ کر آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے ؟ کیسے کیسے معجزے تھے جو انہیں دکھائے گئے ! آپ علیہ السلام گارے سے پرندے کی شکل بنا کر پھونک مارتے اور وہ اڑتا ہوا پرندہ بن جاتا۔ یہ احیائے موتیٰ اور خلق حیات تو وہ چیزیں ہیں جو بالخصوص اللہ تعالیٰ کے اپنے exclusive اَفعال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر یہ نشانیاں بھی ظاہر کردیں ‘ لیکن انہیں دیکھ کر کتنے لوگوں نے مانا ؟ لہٰذاہم ایسا کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے۔ البتہ آپ ﷺ محنت اور کوشش کرتے جایئے ‘ دعوت و تبلیغ کرتے جایئے۔یہاں پر لفظ بِہٖ خاص پر نوٹ کیجیے۔ فرمایا کہ یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کر دوں تمہیں اس کے ذریعے سے بِہٖ یعنی میرا انذار قرآن کے ذریعے سے ہے۔ مزید فرمایا : وَمَنْم بَلَغَ ط اور جس تک یہ پہنچ جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں ‘ اب جو امت بنے گی وہ آگے پہنچائے گی۔ جس تک یہ قرآن پہنچ گیا اس تک رسول اللہ ﷺ کا انداز پہنچ گیا ‘ اور یہ سلسلہ تا قیامت چلے گا ‘ کیونکہ حضور ﷺ اپنے ہی زمانے کے لیے رسول بن کر نہیں آئے تھے ‘ آپ ﷺ تو تا قیامت رسول ہیں۔ یہ آپ ﷺ ہی کی رسالت کا دور چل رہا ہے۔ جو انسان بھی قیامت تک دنیا میں آئے گا وہ آپ ﷺ کی امت دعوت میں شامل ہے ‘ اس تک قرآن کا پیغام پہنچانا اب امت محمد ﷺ کے ذمہ ہے۔اب آ رہا ہے ایک متجسسانہ سوال searching question۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا ‘ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا مخالف جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اپنے دل کے یقین سے نہیں کہہ رہا ہے ‘ بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہہ رہا ہے ‘ تو پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر متجسسانہ searching انداز میں اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ یہی انداز یہاں اختیار کیا گیا ہے۔ فرمایا : اَءِنَّکُمْ لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخْرٰی ط قُلْ لَّآ اَشْہَدُ ج تم ایسا کہو تو کہو ‘ لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسی خلاف عقل اور خلاف فطرت بات کہہ سکوں۔قُلْ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ واضح رہے کہ اس سورة کا زمانۂ نزول مکی دور کا آخری زمانہ ہے۔ اس وقت تک مدینہ میں بھی خبریں پہنچ چکی تھیں کہ مکہ کے اندر ایک نئی دعوت بڑے زور و شور اور شدو مد کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ چناچہ مدینہ کے یہودیوں کی طرف سے سکھائے ہوئے سوالات بھی مکہ کے لوگ حضور ﷺ سے امتحاناً کرتے تھے۔ مثلاً آپ ذرا بتائیے کہ ذو القرنین کون تھا ؟ اگر آپ نبی ہیں تو بتائیے کہ اصحاب کہف کا قصہ کیا تھا ؟ اور یہ بھی بتائیے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ سب سوالات اور ان کے جوابات سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف میں آئیں گے۔ مدینہ کے یہودیوں تک ان کے سوالات کے جوابات سے متعلق تمام خبریں بھی پہنچ چکی تھیں اور ان کے سمجھ دار اور اہل علم لوگ سمجھ چکے تھے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کے ہم منتظر تھے۔ مگر یہ لوگ یہ سب کچھ سمجھنے اور جان لینے کے باوجود محروم رہ گئے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Kuran'ı Oku, Dinle, Araştır ve Üzerinde Düşün

Quran.com, dünya çapında milyonlarca kişinin Kur'an'ı birden fazla dilde okumak, aramak, dinlemek ve üzerinde düşünmek için kullandığı güvenilir bir platformdur. Çeviriler, tefsirler, kıraatler, kelime kelime çeviriler ve derinlemesine inceleme araçları sunarak Kur'an'ı herkes için erişilebilir hale getirir.

Bir Sadaka-i Cariye olarak Quran.com, insanların Kur'an ile derin bir bağ kurmasına yardımcı olmaya kendini adamıştır. 501(c)(3) kar amacı gütmeyen bir kuruluş olan Kur'an Vakfı tarafından desteklenen Quran.com, Elhamdülillah herkes için ücretsiz ve değerli bir kaynak olarak büyümeye devam ediyor.

Keşfedin
Anasayfa
Kuran Radyo
Okuyucular
Hakkımızda
Geliştiriciler
Ürün Güncellemeleri
Geri Bildirim
Yardım
Projelerimiz
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation tarafından sahip olunan, yönetilen veya desteklenen kar amacı gütmeyen projeler
Popüler Bağlantılar

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Site HaritasıGizlilikŞartlar ve koşullar
© 2026 Quran.com. Her hakkı saklıdır