Giriş yap
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
🚀 Ramazan Meydan Okumamıza Katılın!
Daha fazla bilgi edinin
Giriş yap
Giriş yap
7:176
ولو شينا لرفعناه بها ولاكنه اخلد الى الارض واتبع هواه فمثله كمثل الكلب ان تحمل عليه يلهث او تتركه يلهث ذالك مثل القوم الذين كذبوا باياتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون ١٧٦
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَـٰهُ بِهَا وَلَـٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ١٧٦
وَلَوۡ
شِئۡنَا
لَرَفَعۡنَٰهُ
بِهَا
وَلَٰكِنَّهُۥٓ
أَخۡلَدَ
إِلَى
ٱلۡأَرۡضِ
وَٱتَّبَعَ
هَوَىٰهُۚ
فَمَثَلُهُۥ
كَمَثَلِ
ٱلۡكَلۡبِ
إِن
تَحۡمِلۡ
عَلَيۡهِ
يَلۡهَثۡ
أَوۡ
تَتۡرُكۡهُ
يَلۡهَثۚ
ذَّٰلِكَ
مَثَلُ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَاۚ
فَٱقۡصُصِ
ٱلۡقَصَصَ
لَعَلَّهُمۡ
يَتَفَكَّرُونَ
١٧٦
Dileseydik, onu ayetlerimizle üstün kılardık; fakat o, dünyaya meyletti ve hevesine uydu. Durumu, üstüne varsan da, kendi haline bıraksan da, dilini sarkıtıp soluyan köpeğin durumu gibidir. İşte ayetlerimizi yalan sayan kimselerin hali böyledir. Sen onlara bu kıssayı anlat, belki üzerinde düşünürler.
Tefsirler
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
7:176 ile 7:177 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

آیت 176 وَلَوْ شِءْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ یعنی اللہ کی آیات اور جو بھی علم اس کو عطا ہو اتھا اس کے ذریعے سے اس کو بڑا بلند مقام مل سکتا تھا مگر وہ تو زمین ہی کی طرف دھنستا چلا گیا۔ یہاں پر زمین کی طرف دھنسنے کے استعارے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل حیوانی جسم اور ملکوتی روح سے مرکب ہے۔ جسم کے اجزائے ترکیبی کا تعلق زمین سے ہے ‘ جیسا کہ سورة طٰہٰ کی آیت 55 میں فرمایا گیا : مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ یعنی ہم نے تمہیں اس زمین سے پیدا کیا۔ اس کے برعکس انسانی روح کا تعلق عالم بالا سے ہے اور وہ اللہ سے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط والا عہد کر کے آئی ہے۔ چناچہ اصل کے اس تضاد کی بنیاد پر جسم اور روح میں متواتر کشمکش رہتی ہے۔ کُلُّ شَیْءٍ یَرْجِعُ اِلٰی اَصْلِہٖ ہر چیز اپنے منبع کی طرف لوٹتی ہے کے مصداق روح اوپر اٹھنا چاہتی ہے تاکہ اللہ سے قرب حاصل کرسکے ‘ جبکہ جسم کی ساری کشش زمین کی طرف ہوتی ہے۔ چونکہ جسم کی تقویت کا سارا سامان ‘ غذا وغیرہ زمین ہی کے مرہون منت ہے ‘ اس لیے زمینی اور دنیاوی لذتوں میں ہی اسے سکون ملتا ہے اور ع بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کا نعرہ اسے اچھا لگتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص فیصلہ کرلیتا ہے کہ جسمانی ضرورتوں اور لذتوں کے حصول کے لیے اس نے زمین کے ساتھ ہی چمٹ کر رہنا ہے تو گویا اب اس نے اپنے آپ کو اللہ کی توفیق سے محروم کرلیا۔ اب اس کی روح سسکتی رہے گی ‘ احتجاج کرتی رہے گی اور اگر زیادہ مدت تک اس کی روحانی غذا کا بندوبست نہیں کیا جائے گا تو روح کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اگر کسی انسان کے جیتے جی اس کی روح کے ساتھ یہ حادثہ ہوجائے ‘ یعنی اس کی روح کی موت واقع ہوجائے تو گویا وہ چلتا پھرتا حیوان بن جاتا ہے ‘ جو اپنے سارے حیوانی تقاضے حیوانی انداز میں پورے کرتا رہتا ہے۔ پھر زمینی غذائیں ‘ سفلی آرزوئیں اور مادی امنگیں ہی اس کی زندگی کا مقصد و محور قرار پاتی ہیں۔ نتیجتاً اسے فیضان سماوی اور توفیق الٰہی سے کلی طور پر محروم کردیا جاتا ہے۔وَاتَّبَعَ ہَوٰٹہُ ج فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِج اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ط یعنی اس شخص نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے خود کو کتے سے مشابہ کرلیا ‘ جو ہر وقت زبان نکالے ہانپتا رہتا ہے اور حرص وطمع کے غلبے کی وجہ سے ہر وقت زمین کو سونگھتے رہنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ج۔ اوپر تفصیل کے ساتھ یہود کی جو سرگزشت بیان ہوئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قوم شروع سے ہی بلعم بن باعوراء بنی رہی ہے۔ آج اس کی سب سے بڑی مثال پاکستانی قوم ہے۔ پاکستان کا بن جانا اور اس کا قائم رہنا ایک معجزہ تھا۔ انگریزوں اور ہندوؤں کو یقین تھا کہ پاکستان کی بقا بحیثیت ایک آزاد اور خودمختار ملک کے ممکن نہیں ہے ‘ اس لیے یہ جلد ہی ختم ہوجائے گا۔ لیکن یہ ملک نہ صرف قائم رہا بلکہ 1965 ء کی جنگ جیسی بڑی بڑی آزمائشوں سے بھی سر خرو ہو کر نکلا۔ اس لیے کہ ہم نے اس ملک کو حاصل کیا تھا اسلام کے نام پر کہ اسے اسلامی نظام کی تجربہ گاہ بنائیں گے ‘ تاکہ پوری دنیا اسلامی نظام کے عملی نمونے اور اس کی برکات کا مشاہدہ کرسکے۔ قائد اعظم نے بھی فرمایا تھا کہ ہم پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ ہم عہد حاضر میں اسلام کے اصول حریت و اخوت و مساوات کا ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں ‘ لیکن عملی طور پر آج ہمارا طرز عمل فانْسَلَخَ مِنْہَا کی عبرتناک تصویر بن چکا ہے۔ ہم ان تمام وعدوں سے پیچھا چھڑا کر نکل بھاگے اور شیطان کی پیروی اختیار کی۔ پھر ہمارا جو حال ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے وہ سامنے رکھیں اور اس پس منظر میں اس آیت کو دوبارہ پڑھیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Kuran'ı Oku, Dinle, Araştır ve Üzerinde Düşün

Quran.com, dünya çapında milyonlarca kişinin Kur'an'ı birden fazla dilde okumak, aramak, dinlemek ve üzerinde düşünmek için kullandığı güvenilir bir platformdur. Çeviriler, tefsirler, kıraatler, kelime kelime çeviriler ve derinlemesine inceleme araçları sunarak Kur'an'ı herkes için erişilebilir hale getirir.

Bir Sadaka-i Cariye olarak Quran.com, insanların Kur'an ile derin bir bağ kurmasına yardımcı olmaya kendini adamıştır. 501(c)(3) kar amacı gütmeyen bir kuruluş olan Kur'an Vakfı tarafından desteklenen Quran.com, Elhamdülillah herkes için ücretsiz ve değerli bir kaynak olarak büyümeye devam ediyor.

Keşfedin
Anasayfa
Kuran Radyo
Okuyucular
Hakkımızda
Geliştiriciler
Ürün Güncellemeleri
Geri Bildirim
Yardım
Projelerimiz
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation tarafından sahip olunan, yönetilen veya desteklenen kar amacı gütmeyen projeler
Popüler Bağlantılar

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Site HaritasıGizlilikŞartlar ve koşullar
© 2026 Quran.com. Her hakkı saklıdır