سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
86:18
حتى اذا بلغ مغرب الشمس وجدها تغرب في عين حمية ووجد عندها قوما قلنا يا ذا القرنين اما ان تعذب واما ان تتخذ فيهم حسنا ٨٦
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ ٱلشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِى عَيْنٍ حَمِئَةٍۢ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًۭا ۗ قُلْنَا يَـٰذَا ٱلْقَرْنَيْنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًۭا ٨٦
حَتّٰٓى
اِذَا
بَلَغَ
مَغۡرِبَ
الشَّمۡسِ
وَجَدَهَا
تَغۡرُبُ
فِىۡ
عَيۡنٍ
حَمِئَةٍ
وَّوَجَدَ
عِنۡدَهَا
قَوۡمًا ؕ
​قُلۡنَا
يٰذَا
الۡقَرۡنَيۡنِ
اِمَّاۤ
اَنۡ
تُعَذِّبَ
وَاِمَّاۤ
اَنۡ
تَتَّخِذَ
فِيۡهِمۡ
حُسۡنًا‏
٨٦
یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچا اس نے اسے غروب ہوتے ہوئے پایا ایک گدلے چشمے میں اور اس نے پایا وہاں ایک قوم کو ہم نے کہا : اے ذوالقرنین ! تم چاہو تو انہیں سزا دو اور چاہو تو ان (کے بارے) میں حسن سلوک کا معاملہ کرو
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط

آیت 86 حَتّٰٓي اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ یہ ذوالقرنین کی مغربی علاقوں پر لشکر کشی کا ذکر ہے جب وہ پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرۂ روم Mediterranian Sea کے ساحل تک جا پہنچے۔ چونکہ اس زمانے میں ان لوگوں کو پوری دنیا کا نقشہ معلوم نہیں تھا اس لیے وہ یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم اس سمت میں دنیا یا زمین کی آخری سر حدوں تک پہنچ گئے ہیں اور اس سے آگے بس سمندر ہی سمندر ہے۔ وہاں ساحل پر کھڑے ہو کر انہیں سورج بظاہر سمندر میں غروب ہوتا ہوا نظر آیا اور اس طرح وہ اس جگہ کو مَغْرِبَ الشَّمْسِ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سمجھے۔وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِيْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ اس سے Aegean Sea مراد ہے جس کا پانی بہت گدلا ہے۔ وَّوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًایعنی اس علاقے کو جب انہوں نے فتح کرلیا تو وہاں بسنے والی قوم ان کی رعایا بن گئی۔قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسْنًایعنی آپ نے اس علاقے کو بزور بازو فتح کیا ہے اب یہاں کے باشندے آپ کے رحم و کرم پر ہیں آپ کو ان پر مکمل اختیار ہے۔ آپ چاہیں تو ان پر سختی کریں اور آپ چاہیں تو ان کے درمیان حسن سلوک کی روایت قائم کریں۔ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے براہ راست ذوالقرنین کو مخاطب کرکے فرمائی لیکن ضروری نہیں کہ حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہو۔ اگر تو وہ نبی تھے واللہ اعلم تو یہ ممکن بھی ہے ورنہ اس سے مراد القاء یا الہام بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے سورة النحل آیت 68 میں شہد کی مکھی کی طرف وحی کیے جانے کا ذکر ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں