سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
176:2
ذالك بان الله نزل الكتاب بالحق وان الذين اختلفوا في الكتاب لفي شقاق بعيد ١٧٦
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ نَزَّلَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِى ٱلْكِتَـٰبِ لَفِى شِقَاقٍۭ بَعِيدٍۢ ١٧٦
ذٰلِكَ
بِاَنَّ
اللّٰهَ
نَزَّلَ
الۡکِتٰبَ
بِالۡحَـقِّؕ
وَاِنَّ
الَّذِيۡنَ
اخۡتَلَفُوۡا
فِى
الۡكِتٰبِ
لَفِىۡ
شِقَاقٍۢ
بَعِيۡدٍ‏
١٧٦
یہ اس لیے کہ اللہ نے تو کتاب نازل کی حق کے ساتھ اور یقیناً جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف ڈالا وہ ضد اور مخالفت میں بہت دور نکل گئے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 2:172 سے 2:176 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

کھانے پینے کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے جو احساسات آدمی کے اندر ابھرنے چاہئیں وہ شکر اور اطاعت الٰہی کے احساسات ہیں۔ یعنی یہ کہ ’’ہم اللہ کی دی ہوئی چیز کو اللہ کے حکم کے مطابق کھارہے ہیں‘‘۔ یہ احساس آدمی کے اندر خدا پرستی کا جذبہ ابھارتا ہے۔ مگر خود ساختہ طور پر جو عقیدے بنائے جاتے ہیں اس میں یہ نفسیات بدل جاتی ہیں۔ اب انسان کی توجہ چیزوں کے مفروضہ خواص کی طرف لگ جاتی ہے۔ جن چیزوں کو پاکر اللہ کے شکر کا جذبہ ابھرتااب ان سے خود ان چیزوں کے احترام وتقدس کا جذبہ ابھرتا ہے۔ آدمی مخلوق کو خالق کادرجہ دے دیتاہے۔ کسی چیز کے حرام ہونے کی بنیاد اس کا مفروضہ تقدس یا اس کے بارے میں توہماتی عقائد نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے اسباب بالکل دوسرےہیں۔ یہ کہ وہ چیزیں ناپاک ہوں اور شریعت نے ان کی ناپاکی کی تصدیق کی ہو۔ جیسے مُردار، خون، سور۔ یا خدا کے پیدا کيے ہوئے جانور کو خدا کے سوا کسی اور نام پر ذبح کرنا، وغیرہ۔ اضطرار کی حالت میں آدمی حرام کو کھاسکتا ہے۔ جب کہ بھوک یا بیماری یا حالات کا کوئی دباؤ آدمی کو اس کے استعمال پر مجبور کردے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ آدمی حرام چیز کو رغبت سے نہ کھائے اور نہ اس کو واقعی ضرورت سے زیادہ لے۔

اس قسم کے توہماتی عقائد جب عوامی مذہب بن جائیں تو علماء کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اس کے بارے میں اللہ کا حکم جانتے ہوئے بھی وہ اس کے اعلان سے ڈرنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اس طرح وہ عوام سے کٹ جائیں گے جن کے درمیان مقبولیت حاصل کرکے وہ ’’بڑے‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ گم راہ عوام سے مصالحت اگرچہ دنیا میں ان کو عزت اوردولت دے دیتی ہے مگر اللہ کی نظر میں ایسے لوگ بدترین مجرم ہیں۔ حق کو مصلحت کی خاطر چھپانا ان لغزشوں میں نہیں ہے جن سے آخرت میں اللہ در گزر فرمائے گا۔ یہ وہ جرائم ہیں جو آدمی کو اللہ کی نظر عنایت سے محروم کردیتے ہیں۔ ان میں بھی زیادہ برے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے حق پیش کیا جائے اور وہ اعتراف کرنے کے بجائے اس میں بے معنی بحثیں نکالنے لگیں۔ ایسے لوگوں کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہیں اور بالآخر وہ حق سے اتنا دور ہوجاتے ہیںکہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹتے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں