پھر جس کو اندیشہ ہو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اور وہ ان کے مابین صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
فمَن علم مِن مُوصٍ ميلا عن الحق في وصيته على سبيل الخطأ أو العمد، فنصح الموصيَ وقت الوصية بما هو الأعدل، فإن لم يحصل له ذلك فأصلح بين الأطراف بتغيير الوصية; لتوافق الشريعة، فلا ذنب عليه في هذا الإصلاح. إن الله غفور لعباده، رحيم بهم.
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel