سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
243:2
۞ الم تر الى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم ان الله لذو فضل على الناس ولاكن اكثر الناس لا يشكرون ٢٤٣
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُوا۟ ثُمَّ أَحْيَـٰهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ٢٤٣
۞ اَلَمۡ
تَرَ
اِلَى
الَّذِيۡنَ
خَرَجُوۡا
مِنۡ
دِيَارِهِمۡ
وَهُمۡ
اُلُوۡفٌ
حَذَرَ
الۡمَوۡتِ
فَقَالَ
لَهُمُ
اللّٰهُ
مُوۡتُوۡا
ثُمَّ
اَحۡيَاھُمۡ​ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَذُوۡ
فَضۡلٍ
عَلَى
النَّاسِ
وَلٰـكِنَّ
اَکۡثَرَ
النَّاسِ
لَا
يَشۡکُرُوۡنَ‏
٢٤٣
کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو نکل کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے جبکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے موت کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ ! پھر (اللہ نے) انہیں زندہ کیا یقیناً اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 2:243 سے 2:244 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اب جو دو رکوع زیر مطالعہ آ رہے ہیں یہ اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں اس جنگ کا تذکرہ ہے جس کی حیثیت گویا تاریخ بنی اسرائیل کے غزوۂ بدر کی ہے۔ قبل ازیں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد و قتال کیا تو فلسطین فتح ہوگیا۔ لیکن انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی بارہ حکومتیں بنا لیں اور آپس میں لڑتے بھی رہے۔ لیکن تین سو برس کے بعد پھر یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ جب ان کے اوپر دنیا تنگ ہوگئی اور آس پاس کی کافر اور مشرک قوموں نے انہیں دبا لیا اور بہت سوں کو ان کے گھروں اور ان کے ملکوں سے نکال دیا تو پھر تنگ آکر انہوں نے اس وقت کے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ ‘ یعنی سپہ سالار مقرر کردیجیے ‘ اب ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے۔ چناچہ وہ جو جنگ ہوئی ہے طالوت اور جالوت کی ‘ اس کے بعد گویا بنی اسرائیل کا دور خلافت راشدہ شروع ہوا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کا یہ دور جسے میں خلافت راشدہ سے تعبیر کر رہا ہوں ‘ ان کے رسول علیہ السلام کے انتقال کے تین سو برس بعد شروع ہوا ‘ جبکہ اس امت مسلمہ کی خلافت راشدہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ساتھّ متصل ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام رض نے جانیں دیں ‘ خون دیا ‘ قربانیاں دیں اور اس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں دین غالب ہوگیا اور اسلامی ریاست قائم ہوگئی۔ نتیجتاً آپ ﷺ کے انتقال کے بعد خلافت کا دور شروع ہوگیا ‘ لیکن وہاں تین سو برس گزرنے کے بعد ان کا دور خلافت آیا ہے۔ اس میں بھی تین خلافتیں تو متفق علیہ ہیں۔ یعنی حضرت طالوت ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی خلافت۔ لیکن چوتھی خلافت پر آکر تقسیم ہوگئی۔ جیسے حضرت علی رض خلیفۂ رابع کے زمانے میں عالم اسلام منقسم ہوگیا کہ مصر اور شام نے حضرت علی رض کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح فلسطین کی مملکت حضرت سلیمان علیہ السلام کے دو بیٹوں میں تقسیم ہوگئی ‘ اور اسرائیل اور یہودیہ کے نام سے دو ریاستیں وجود میں آگئیں۔ قرآن حکیم میں اس مقام پر طالوت اور جالوت کی اس جنگ کا تذکرہ آ رہا ہے جس کے بعد تاریخ بنی اسرائیل میں اسلام کے غلبے اور خلافت راشدہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ درحقیقت صحابہ کرام رض کو ایک آئینہ دکھایا جا رہا ہے کہ اب یہی مرحلہ تمہیں درپیش ہے ‘ غزوۂ بدر پیش آیا چاہتا ہے۔ آیت 243 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَہُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ یعنی جب کفار اور مشرکین نے ان پر غلبہ کرلیا اور یہ دہشت زدہ ہو کر ‘ اپنے ملک چھوڑ کر ‘ اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْاقف ثُمَّ اَحْیَاہُمْ ط یہاں موت سے مراد خوف اور بزدلی کی موت بھی ہوسکتی ہے جو ان پر بیس برس طاری رہی ‘ پھر سیموئیل نبی کی اصلاح و تجدید کی کوششوں سے ان کی نشأۃِ ثانیہ ہوئی اور اللہ نے ان کے اندر ایک جذبہ پیدا کردیا۔ گویا یہاں پر موت اور احیاء سے مراد معنوی اور روحانی و اخلاقی موت اور احیاء ہے۔ لیکن بالفعل جسدی موت اور احیاء بھی اللہ کے اختیار سے باہر نہیں ‘ اس کی قدرت میں ہے ‘ وہ سب کو مار کر بھی دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ اکثر لوگ شکر گزاری کی روش اختیار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ناقدری کرتے ہیں۔اب سابقہ امت مسلمہ کے غزوۂ بدر کا حال بیان کرنے سے پہلے مسلمانوں سے گفتگو ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی ہدایت کے لیے بیان ہو رہا ہے ‘ تاریخ بیان کرنا قرآن کا مقصد نہیں ہے۔ یہ توٌ رسول اللہ ﷺ کی انقلابیّ جدوجہدُ کی تحریک جس مرحلے سے گزر رہی تھی اور انقلابی عمل جس سٹیج پر پہنچ چکا تھا اس کی مناسبت سے سابقہ امت مسلمہ کی تاریخ سے واقعات بھی لائے جا رہے ہیں اور اسی کی مناسبت سے احکام بھی دیے جا رہے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں