سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
271:2
ان تبدوا الصدقات فنعما هي وان تخفوها وتوتوها الفقراء فهو خير لكم ويكفر عنكم من سيياتكم والله بما تعملون خبير ٢٧١
إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ٢٧١
اِنۡ
تُبۡدُوا
الصَّدَقٰتِ
فَنِعِمَّا
هِىَ​ۚ
وَاِنۡ
تُخۡفُوۡهَا
وَ تُؤۡتُوۡهَا
الۡفُقَرَآءَ
فَهُوَ
خَيۡرٌ
لَّكُمۡ​ؕ
وَيُكَفِّرُ
عَنۡكُمۡ
مِّنۡ
سَيِّاٰتِكُمۡ​ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
خَبِيۡرٌ‏
٢٧١
اگر تم صدقات کو علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری برائیوں کو دور کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 2:270 سے 2:274 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔

جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں