سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
37:2
فتلقى ادم من ربه كلمات فتاب عليه انه هو التواب الرحيم ٣٧
فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَـٰتٍۢ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ٣٧
فَتَلَقّٰٓى
اٰدَمُ
مِنۡ
رَّبِّهٖ
كَلِمٰتٍ
فَتَابَ
عَلَيۡهِ​ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
التَّوَّابُ
الرَّحِيۡمُ‏
٣٧
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط

آیت 37 فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط اس کی وضاحت سورة الاعراف میں ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آگئے تو سخت پشیمانی اور ندامت پیدا ہوئی کہ یہ میں نے کیا کیا ‘ مجھ سے کیسی خطا سرزد ہوگئی کہ میں نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ لیکن ان کے پاس توبہ و استغفار کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں۔ اللہ کی رحمت یہ ہوئی کہ اس نے الفاظ انہیں خود تلقین فرما دیے۔ یہ اللہ کی شان رحیمی ہے۔ توبہ کی اصل حقیقت انسان کے اندر گناہ پر ندامت کا پیدا ہوجانا ہے۔ اقبال نے عنفوان شباب میں جو اشعار کہے تھے ان میں سے ایک شعر کو سن کر اس وقت کے اساتذہ بھی پھڑک اٹھے تھے ؂موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے یعنی شرمندگی کے باعث میری پیشانی پر پسینے کے جو قطرے نمودار ہوگئے میرے پروردگار کو وہ اتنے عزیز ہوئے کہ اس نے انہیں موتیوں کی طرح چن لیا۔ حضرات آدم و حوا علیہ السلام کو جب اپنی غلطی پر ندامت ہوئی تو وہ گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں چند کلمات القا فرمائے جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ وہ کلمات سورة الاعراف میں بیان ہوئے ہیں : رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ”اے ہمارے ربّ ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ اور اگر تو نے ہمیں بخش نہ دیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے۔“ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔اس مقام پر شیطنت اور آدمیت کا فوری تقابل موجود ہے۔ غلطی ابلیس سے بھی ہوئی ‘ اللہ کے حکم سے سرتابی ہوئی ‘ لیکن اسے اس پر ندامت نہیں ہوئی بلکہ وہ تکبر کی بنا پر مزید اکڑ گیا کہ ”اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ“ اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔ دوسری طرف غلطی آدم سے بھی ہوئی ‘ نافرمانی ہوئی ‘ لیکن وہ اس پر پشیمان ہوئے اور توبہ کی۔ وہ طرزعمل شیطنت ہے اور یہ آدمیت ہے۔ ورنہ کوئی انسان گناہ سے اور معصیت سے مبراّ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ہے : کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ 5”آدم علیہ السلام کی تمام اولاد خطاکار ہے ‘ اور ان خطاکاروں میں بہتر وہ ہیں جو توبہ کرلیں۔“حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی۔ انہیں اس پر ندامت ہوئی ‘ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ توبہ کا لفظ دونوں طرف سے آتا ہے۔ بندہ بھی توّاب ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ البقرۃ جبکہ توّاب اللہ تعالیٰ بھی ہے۔ اس کی اصل حقیقت سمجھ لیجیے۔ بندے نے خطا کی اور اللہ سے دور ہوگیا تو اللہ نے اپنی رحمت کی نگاہ اس سے پھیرلی۔ بندے نے توبہ کی تو اللہ پھر اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف متوجہّ ہوگیا۔ توبہ کے معنی ہیں پلٹنا۔ بندہ معصیت سے توبہ کر کے اپنی اصلاح کی طرف ‘ بندگی کی طرف ‘ اطاعت کی طرف پلٹ آیا ‘ اور اللہ نے جو اپنی نظر رحمت بندے سے پھیرلی تھی ‘ پھر اپنی شان غفاری اور رحیمی کے ساتھ بندے کی طرف توجہ فرمالی۔ اس کے لیے حدیث میں الفاظ آتے ہیں :۔۔ وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا ‘ وَاِنْ اَتَانِیْ یَمْشِیْ اَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً 6”۔۔ اور اگر وہ میرا بندہ بالشت بھر میری طرف آتا ہے تو میں ہاتھ بھر اس کی طرف آتا ہوں ‘ اور اگر وہ ہاتھ بھر میری طرف آتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں ‘ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے راہ رَوِ منزل ہی نہیں !وہ تو توّاب ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ ”تَابَ“ بندے کے لیے آئے گا تو ”اِلٰی“ کے صلہ کے ساتھ آئے گا۔ جیسے اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ اور جب اللہ کے لیے آئے گا تو ’ عَلٰی“ کے صلہ کے ساتھ ”تَابَ عَلٰی“ آئے گا ‘ جیسے آیت زیر مطالعہ میں آیا : فَتَابَ عَلَیْہِ ۔ اللہ کی شان بہت بلند ہے۔ انسان توبہ کرتا ہے تو اس کی طرف توبہ کرتا ہے ‘ جبکہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ بندے پر توبہ کرتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں