سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
94:4
يا ايها الذين امنوا اذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مومنا تبتغون عرض الحياة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة كذالك كنتم من قبل فمن الله عليكم فتبينوا ان الله كان بما تعملون خبيرا ٩٤
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُوا۟ وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَنْ أَلْقَىٰٓ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَـٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًۭا تَبْتَغُونَ عَرَضَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌۭ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا ٩٤
يٰۤـاَيُّهَا
الَّذِيۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِذَا
ضَرَبۡتُمۡ
فِىۡ
سَبِيۡلِ
اللّٰهِ
فَتَبَـيَّـنُوۡا
وَلَا
تَقُوۡلُوۡا
لِمَنۡ
اَ لۡقٰٓى
اِلَيۡكُمُ
السَّلٰمَ
لَسۡتَ
مُؤۡمِنًا​ ۚ
تَبۡـتَـغُوۡنَ
عَرَضَ
الۡحَيٰوةِ
الدُّنۡيَا
فَعِنۡدَ
اللّٰهِ
مَغَانِمُ
كَثِيۡرَةٌ​ ؕ
كَذٰلِكَ
كُنۡتُمۡ
مِّنۡ
قَبۡلُ
فَمَنَّ
اللّٰهُ
عَلَيۡكُمۡ
فَتَبَـيَّـنُوۡا​ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِمَا
تَعۡمَلُوۡنَ
خَبِيۡرًا‏
٩٤
اے اہل ایمان جب تم اللہ کی راہ میں نکلوتو تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص بھی تمہارے سامنے سلام پیش کرے (یا اسلام پیش کرے) اس کو یہ مت کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو تم دنیا کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے ہاں بڑی غنیمتیں ہیں تو (دیکھو) تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط

آیت 94 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقآی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ج تم اس کی باطنی کیفیت معلوم نہیں کرسکتے۔ ایمان کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جان سکتا ‘ لہٰذا دنیا میں تمام معاملات کا اعتبار زبانی اسلام اقرارٌ باللّسان پر ہی ہوگا۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ رہا ہے اور اپنے اسلام کا اظہار کر رہا ہے تو آپ کو اس کے الفاظ کا اعتبار کرنا ہوگا۔ اس آیت کے پس منظر کے طور پر روایات میں ایک واقعے کا ذکر ملتا ہے جو حضرت اسامہ رض کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کسی سریہّ میں حضرت اسامہ رض کا ایک کافر سے دو بدو مقابلہ ہوا۔ جب وہ کافر بالکل زیر ہوگیا اور اس کو یقین ہوگیا کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے کلمہ پڑھ دیا : اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ اب ایسی صورت حال میں جو کوئی بھی ہوتا یہی سمجھتا کہ اس نے جان بچانے کے لیے بہانہ کیا ہے۔ حضرت اسامہ رض نے بھی یہی سمجھتے ہوئے اس پر نیزے کا وار کیا اور اسے قتل کردیا۔ لیکن دل میں ایک خلش رہی۔ بعد میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اَقَالَ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَقَتَلْتَہٗ ؟ اس نے لا الٰہ الاّ اللہ کہہ دیا اور تم نے پھر بھی اسے قتل کردیا ؟ حضرت اسامہ رض نے جواب دیا : یارسول اللہ ! اس نے تو ہتھیار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ اَقَالَھَا اَمْ لَا ؟ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ جان لیا کہ اس نے کلمہ دل سے پڑھا تھا یا نہیں ؟ حضرت اسامہ رض ‘ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ بات مجھ سے بار بار فرمائی ‘ یہاں تک کہ میں خواہش کرنے لگا کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا ! 1 بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے اسامہ ‘ اس دن کیا جواب دو گے جب وہ کلمہ شہادت تمہارے خلاف مدعی ہو کر آئے گا ؟ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاز کہ ایسے شخص کو کافر قرار دیں ‘ قتل کریں اور مال غنیمت لے لیں۔ فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط۔تمہارے لیے بڑی بڑی مملکتوں کے اموال غنیمت آنے والے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے حدود اللہ سے تجاوز نہ کرو۔کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ تم خود بھی تو پہلے ایسے ہی تھے ‘ تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا ہے“ ۂ آخر ایک دور تم پر بھی تو ایسا ہی گزرا ہے۔ تم سب بھی تو نو مسلم ہی ہو اور ایک وقت میں تم میں سے ہر شخص کافر یا مشرک ہی تو تھا ! پھر اللہ ہی نے تم لوگوں پر احسان فرمایا کہ تمہیں کلمہ شہادت عطا کیا اور رسول ﷺ کی دعوت و تبلیغ سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ لہٰذا اللہ کا احسان مانو اور اس طریقے سے لوگوں کے معاملے میں اتنی سخت روش اختیار نہ کرو۔فَتَبَیَّنُوْاطاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا اگلی آیت مبارکہ میں جہاد کا لفظ بمعنی قتال آیا ہے۔ جہاں تک جہاد کی اصلی روح کا تعلق ہے تو ایک مؤمن گویا ہر وقت جہاد میں مصروف ہے۔ دعوت و تبلیغ بھی جہاد ہے ‘ اپنے نفس کے خلاف اطاعت الٰہی بھی جہاد ہے۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : اَلمُجَاہِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ 2 بلکہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اَیُّ الْجِہَادِ اَفْضَلُ ؟ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اَنْ تُجَاہِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَات اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ 3 یہ کہ تم اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرو انہیں اللہ کا مطیع بنانے کے لیے“۔ چناچہ جہاد کی بہت سی منازل ہیں ‘ جن میں سے آخری منزل قتال ہے۔ تاہم جہاد اور قتال کے الفاظ قرآن میں ایک دوسرے کی جگہ پر بھی استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں الفاظ کے تین ایسے جوڑے ہیں جن میں سے ہر لفظ اپنے جوڑے کے دوسرے لفظ کی جگہ اکثر استعمال ہوا ہے۔ ان میں سے ایک جوڑا تو یہی ہے ‘ یعنی جہاد اور قتال کے الفاظ ‘ جبکہ دوسرے دو جوڑے ہیں مؤمن و مسلم اور نبی و رسول“۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں