سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
37:52
ام عندهم خزاين ربك ام هم المصيطرون ٣٧
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ ٱلْمُصَۣيْطِرُونَ ٣٧
اَمۡ
عِنۡدَهُمۡ
خَزَآٮِٕنُ
رَبِّكَ
اَمۡ
هُمُ
الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَؕ‏
٣٧
کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں ؟
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط

آیت 37{ اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمْ ہُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ۔ } ”کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں ؟“ اس آیت کو پڑھتے ہوئے مشرکین مکہ کا وہ اعتراض بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس کا ذکر سورة الزخرف کی آیت 31 میں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر وحی بھیجنا تھی اور اپنا کلام دنیا میں نازل کرنا ہی تھا تو اس کے لیے اس کی نظر بنوہاشم کے ایک یتیم شخص ہی پر کیوں پڑی ‘ جو نہ تو سرمایہ دار ہے اور نہ ہی مکہ کے قبائلی نظام کے اعلیٰ عہدوں hierarchy میں سے کوئی عہدہ اس کے پاس ہے ! عرب کے قبائلی معاشرے میں کسی شخصیت کے ”بڑے“ ہونے کا ایک معیار یہ بھی تھا کہ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض اس زمانے میں مقدماتِ قتل کے فیصلے کرنے پر مامور تھے۔ یہ قبائلی نظام کا بہت بڑا اور انتہائی حساس نوعیت کا عہدہ تھا جس پر حضرت ابوبکر رض اس زمانے میں فائز تھے۔ اس کے علاوہ آپ رض بہت بڑے تاجر اور سرمایہ دار بھی تھے۔ اس زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق رض کے سرمائے کی مالیت چالیس ہزار درہم کے لگ بھگ تھی۔ اس حوالے سے یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد آپ رض نے یہ سارا سرمایہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا دیا اور جب آپ رض ہجرت کے لیے مدینہ روانہ ہوئے تو پیچھے گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ بہرحال مشرکین مکہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے اس منصب کے لیے ان دو بڑے شہروں مکہ اور طائف میں سے کسی بڑی شخصیت کو کیوں منتخب نہیں کیا : { وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔ } الزخرف ”اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر ؟“ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : { اَھُمْ یَـقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَط } الزخرف : 32 ”کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے ؟“ آیت زیر مطالعہ میں بھی حضور ﷺ کے خلاف اسی نوعیت کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے خزانے کیا ان لوگوں کے قبضہ قدرت میں ہیں ؟ اور کیا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فیصلے کرنے میں ان لوگوں کی مرضی و منشا کا پابند ہے ؟

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں