سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
2:59
هو الذي اخرج الذين كفروا من اهل الكتاب من ديارهم لاول الحشر ما ظننتم ان يخرجوا وظنوا انهم مانعتهم حصونهم من الله فاتاهم الله من حيث لم يحتسبوا وقذف في قلوبهم الرعب يخربون بيوتهم بايديهم وايدي المومنين فاعتبروا يا اولي الابصار ٢
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن دِيَـٰرِهِمْ لِأَوَّلِ ٱلْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا۟ ۖ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۟ ۖ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى ٱلْمُؤْمِنِينَ فَٱعْتَبِرُوا۟ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ ٢
هُوَ
الَّذِىۡۤ
اَخۡرَجَ
الَّذِيۡنَ
كَفَرُوۡا
مِنۡ
اَهۡلِ
الۡكِتٰبِ
مِنۡ
دِيَارِهِمۡ
لِاَوَّلِ
الۡحَشۡرِ​ؔؕ
مَا
ظَنَنۡـتُمۡ
اَنۡ
يَّخۡرُجُوۡا​
وَظَنُّوۡۤا
اَنَّهُمۡ
مَّانِعَتُهُمۡ
حُصُوۡنُهُمۡ
مِّنَ
اللّٰهِ
فَاَتٰٮهُمُ
اللّٰهُ
مِنۡ
حَيۡثُ
لَمۡ
يَحۡتَسِبُوۡا
وَقَذَفَ
فِىۡ
قُلُوۡبِهِمُ
الرُّعۡبَ
يُخۡرِبُوۡنَ
بُيُوۡتَهُمۡ
بِاَيۡدِيۡهِمۡ
وَاَيۡدِى
الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
فَاعۡتَبِـرُوۡا
يٰۤاُولِى
الۡاَبۡصَارِ​‏
٢
وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے پہلے جمع ہونے کے وقت (اے مسلمانو !) تمہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ (اتنی آسانی سے) نکل جائیں گے اور وہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کی پکڑ) سے بچا لیں گے تو اللہ نے ان پر حملہ کیا وہاں سے جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا وہ برباد کر رہے تھے اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو !
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 59:2 سے 59:4 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 2{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } ”وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جو اہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے ‘ پہلے جمع ہونے کے وقت۔“ یہ یہودی قبیلہ بنو نضیر کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی کے واقعہ کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ حضور ﷺ کی ہجرت کے وقت مدینہ یثرب میں تین یہودی قبائل بنو قینقاع ‘ بنونضیر ُ اور بنوقریظہ آباد تھے۔ حضور ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ”میثاقِ مدینہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر یہ مدینہ کے ”مشترکہ دفاع“ کا معاہدہ تھا۔ ان میں سے قبیلہ بنوقینقاع نے تو معاہدے کے کچھ ہی دیر بعد مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ چناچہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی بنا پر حضور ﷺ نے غزوئہ بدر کے بعد اس قبیلہ کو مدینہ بدر کردیا۔ غزوئہ احد 3 ہجری کے بعد قبیلہ بنو نضیر نے بھی مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ غزوئہ اُحد میں مسلمانوں کی وقتی شکست سے ان کی کمزوری کا تاثر لے کر جہاں عرب کے بہت سے دوسرے قبائل نے سر اٹھانا شروع کیا ‘ وہاں یہ قبیلہ بھی اپنے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی میں شامل ہوگیا۔ ان کے سردار کعب بن اشرف نے قریش مکہ سے گٹھ جوڑ کر کے انہیں مدینہ پر حملہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ تم لوگ باہر سے حملہ کرو ‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ اسی دوران کعب بن اشرف نے حضور ﷺ کو نعوذباللہ شہید کرنے کی ایک سازش بھی تیار کی۔ اس کے لیے ان لوگوں نے حضور ﷺ کو کسی اہم بات چیت کے بہانے اپنے ہاں بلایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ کسی دیوار کے بالکل ساتھ آپ ﷺ کی نشست کا انتظام کیا جائے اور جب آپ ﷺ وہاں بیٹھے ہوں تو دیوار کے اوپر سے چکی کا بھاری پاٹ آپ ﷺ پر گرا دیا جائے۔ آپ ﷺ ان کے بلانے پر ان کے محلے میں تشریف لے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے جب وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو ان کی اس گھنائونی سازش سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ واپس تشریف لے آئے۔ بنونضیر کی ان ریشہ دوانیوں اور مسلسل بدعہدی کی وجہ سے بالآخر ربیع الاول 4 ہجری میں حضور ﷺ نے ان کے خلاف لشکر کشی کا حکم دے دیا۔ البتہ جب مسلمانوں نے ان کی گڑھیوں کا محاصرہ کیا تو انہوں نے چند دن محصور رہنے کے بعد لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔ اس پر حضور ﷺ نے ان کی جان بخشی کرتے ہوئے انہیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا ‘ بلکہ آپ ﷺ نے مزید نرمی فرماتے ہوئے انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ جاتے ہوئے وہ جس قدر سامان اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے ہیں ‘ لے جائیں۔ غزوئہ احزاب 5 ہجری کے بعد بنوقریظہ کو بھی ان کی عہد شکنی اور سازشوں کی وجہ سے کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ اس طرح یہود مدینہ کے تینوں قبائل میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کے باعث ایک ایک کر کے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ آیت میں لِاَوَّلِ الْحَشْرِ کا ایک مفہوم تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسلمانوں نے پہلی مرتبہ ہی جب ان پر لشکرکشی کی تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے علاوہ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ سے جلاوطنی تو ان لوگوں کا پہلا حشر ہے ‘ پھر ایک وقت آئے گا جب انہیں خیبر سے بھی نکال دیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں جزیرہ نمائے عرب کو بھی خیرباد کہنا پڑے گا چنانچہ حضرت عمر رض کے دور میں تمام عیسائیوں اور یہودیوں کو جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا اور پھر ایک حشر وہ ہوگا جو قیامت کے دن برپا ہوگا۔ { مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا } ”اے مسلمانو ! تمہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ اتنی آسانی سے نکل جائیں گے“ { وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ } ”اور وہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے“ { فَاَتٰـٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْاق } ”تو اللہ نے ان پر حملہ کیا وہاں سے جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا۔“ { وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ } ”اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا“ اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو جس طریقے سے چاہے ہزیمت سے دوچار کر دے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قدر مرعوب کردیا کہ وہ اپنے مضبوط قلعوں کے اندر بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور اپنے تمام تر وسائل کے باوجود بھی مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔ { یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَق } ”وہ برباد کر رہے تھے اپنے گھروں کو ‘ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی۔“ چونکہ انہیں یہ اجازت مل چکی تھی کہ اپنے سامان میں سے جو کچھ وہ اپنے ساتھ اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے ہیں لے جائیں اس لیے وہ اپنے گھروں کی دیواروں اور چھتوں میں سے دروازے ‘ کھڑکیاں ‘ کڑیاں ‘ شہتیر وغیرہ نکالنے کے لیے خود ہی انہیں مسمار کر رہے تھے۔ ان کی اس تخریب میں مسلمانوں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا ہوگا۔ { فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔ } ”پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو !“ یہ گویا پیچھے رہ جانے والے قبیلے بنی قریظہ کو سنایا جا رہا ہے کہ تم اپنے بھائی بندوں کے اس انجام سے عبرت حاصل کرو اور سازشوں سے باز آجائو !

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں