سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
5:59
ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها فباذن الله وليخزي الفاسقين ٥
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٥
مَا
قَطَعۡتُمۡ
مِّنۡ
لِّيۡنَةٍ
اَوۡ
تَرَكۡتُمُوۡهَا
قَآٮِٕمَةً
عَلٰٓى
اُصُوۡلِهَا
فَبِاِذۡنِ
اللّٰهِ
وَلِيُخۡزِىَ
الۡفٰسِقِيۡنَ‏
٥
تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جن کو چھوڑ دیا ان کی جڑوں پر کھڑے تو یہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط

آیت 5{ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْتَرَکْتُمُوْہَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِہَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ } لِینہ ایک خاص قسم کی کھجور کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہودیوں کی گڑھیوں اور حویلیوں کے گرد یہ درخت باڑ کی شکل میں کثرت سے موجود تھے۔ مسلمانوں نے جب ان کا محاصرہ کیا تو حملہ کے لیے راستے بنانے کی غرض سے حسب ِضرورت ان میں سے کچھ درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے اس عمل کو ہدفِ تنقید بنایا اور پروپیگنڈا کیا کہ یہ لوگ خود کو مومنین کہتے ہیں اور ان کے قائد اللہ کے رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ‘ لیکن ان لوگوں کی اخلاقیات کا معیار یہ ہے کہ پھل دار درختوں کو بھی کاٹنے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہودیوں کے اس پراپیگنڈے کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود دیا۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مذکورہ اقدام پر اپنی منظوری sanction کی مہر ثبت کرتے ہوئے واضح کردیا کہ مسلمانوں نے یہ درخت جنگی ضرورت کے تحت اللہ کے رسول ﷺ کی موجودگی میں کاٹے ہیں۔ چناچہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تو پھر سمجھ لو کہ اللہ کی طرف سے اس کی اجازت دی گئی تھی۔ { وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ’ اب اگلی آیات میں مال فے کا ذکر آ رہا ہے جو اس سورت کا اہم ترین مضمون ہے۔ چناچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ مال فے کیا ہے اور یہ مال غنیمت سے کس طرح مختلف ہے۔ مالِ غنیمت تو وہ مال ہے جو باقاعدہ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہو۔ اس سے پہلے سورة الانفال کی آیت 41 میں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں حکم آچکا ہے۔ اس حکم کے مطابق مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ ‘ رسول ﷺ کے قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہوگا ‘ جبکہ باقی چار حصے اس جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کے مابین تقسیم کردیے جائیں گے ‘ اور اس تقسیم میں سوار کو پیدل کے مقابلے میں دو حصے ملیں گے۔ اس کے برعکس ”مالِ فے“ وہ مال ہے جو مسلمانوں کو کسی جنگ کے بغیر ہی حاصل ہوجائے ‘ جیسے زیر مطالعہ واقعہ میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی ‘ مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کیا اور انہوں نے مرعوب ہو کر ہتھیار ڈال دیے۔ چناچہ اس مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی زمینیں اور دوسری تمام اشیاء مال فے قرار پائیں۔ آگے آیت 7 میں مال فے کے بارے میں واضح کردیا گیا کہ یہ مال ُ کل کا کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے۔ اس میں سے اللہ کے رسول ﷺ اپنی مرضی سے غرباء و مساکین کو تو دیں گے لیکن عام مسلمانوں کو اس میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں