کافروں کو یہ زعم ہے کہ وہ (مرنے کے بعد) ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب کی قسم ہے تم لازماً اٹھائے جائو گے پھر تمہیں لازماً جتلایا جائے گا ان اعمال کے بارے میں جو تم نے کیے ہیں۔ اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُواأي ظنوا .والزعم هو القول بالظن .وقال شريح : لكل شيء كنية وكنية الكذب زعموا .قيل : نزلت في العاص بن وائل السهمي مع خباب حسب ما تقدم بيانه في آخر سورة " مريم " , ثم عمت كل كافر .قُلْيا محمدبَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّأي لتخرجن من قبوركم أحياء .ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّلتخبرن .بِمَا عَمِلْتُمْأي بأعمالكم .وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌإذ الإعادة أسهل من الابتداء .
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel