سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
44:68
فذرني ومن يكذب بهاذا الحديث سنستدرجهم من حيث لا يعلمون ٤٤
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ٤٤
فَذَرۡنِىۡ
وَمَنۡ
يُّكَذِّبُ
بِهٰذَا
الۡحَـدِيۡثِ​ؕ
سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ
مِّنۡ
حَيۡثُ
لَا
يَعۡلَمُوۡنَۙ‏
٤٤
تو (اے نبی ﷺ !) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 68:44 سے 68:45 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 44{ فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِہٰذَاالْحَدِیْثِ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے اس گروپ کی سورتوں میں یہ کلمہ ذَرْنِیْ ‘ فَذَرْنِیْ اور یہ اسلوب بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور ﷺ کی دلجوئی کا پہلو ہے تو دوسری طرف آپ ﷺ کے مخالفین کے لیے بہت بڑی وعید ہے ‘ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے ‘ ان سے میں خود ہی نمٹ لوں گا۔ { سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔“ علماء کے ہاں ”استدراج“ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی ڈھیل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے باعث کسی قوم یا کسی فرد پر درجہ بدرجہ درجہ ‘ تدریج اور استدراج کا مادہ ایک ہی ہے مسلط ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے غلط راستے پر جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کچھ دیر کے لیے ڈھیل دیتا ہے ‘ بلکہ بعض اوقات اس راستے پر اسے طرح طرح کی کامیابیوں سے بھی نوازتا ہے تاکہ اس کے اندر کی خباثت پوری طرح سے ظاہر ہوجائے۔ جب وہ شخص اپنی روش کو کامیاب دیکھتا ہے تو سرکشی میں مزید دیدہ دلیری دکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مہلت کا وقت پورا ہوجاتا ہے اور پھر اچانک اسے عذاب کے شکنجے میں کس لیا جاتا ہے۔ استدراج کی مثال کانٹے کے ذریعے مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ شکاری جب دیکھتا ہے کہ مچھلی نے کانٹا نگل لیا ہے تو وہ ڈور کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے ڈور کھینچ کر اسے قابو کرلیتا ہے۔ لفظ استدراج کی وضاحت کرتے ہوئے یہاں مجھے مولانا حسین احمد مدنی - کا وہ قول یاد آگیا ہے جس میں انہوں نے قیام پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ استدراج بھی ہوسکتا ہے۔ مولانا صاحب رمضان ہمیشہ سلہٹ میں گزارتے تھے۔ 1946 ء کے رمضان میں انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ملاء اعلٰی میں پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد اگلے رمضان لیلۃ القدر میں پاکستان کا قیام واقعتا عمل میں آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا مدنی رح کو بذریعہ کشف قیام پاکستان کے بارے میں جس فیصلے کا علم ہوا تھا ‘ ملاء اعلیٰ میں وہ فیصلہ 1946 ء کی لیلۃ القدر میں اس اصول کے تحت ہوا تھا جس کا ذکر سورة الدخان کی آیت 4 میں آیا ہے۔ اس آیت میں لیلۃ القدر لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ کے بارے میں فرمایا گیا ہے : { فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ } کہ اس رات میں آئندہ سال کے دوران رونما ہونے والے اہم امور کے فیصلے کردیے جاتے ہیں۔ مولانا صاحب نظریاتی طور پر قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ان کے اس انکشاف کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے بجاطور پر ان سے پوچھا کہ اس فیصلے کا علم ہوجانے کے باوجود بھی آپ قیام پاکستان کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ؟ اس پر مولانا صاحب رح نے جو جواب دیا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی کائنات کی سلطنت کا انتظامی فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا منظور ہے ‘ اس کا ہمیں علم نہیں۔ ہمیں چیزوں کے ظاہر اور سامنے نظر آنے والے حالات کو دیکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے سننے ‘ سمجھنے وغیرہ کی صلاحیتیں اسی لیے دی ہیں کہ وہ ان صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے فیصلے کرے۔ چناچہ اس معاملے میں ہمیں وہی موقف اپنانا چاہیے جس میں ہمیں مسلمانانِ برصغیر کی بہتری نظر آتی ہو۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کیا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ”استدراج“ کی غرض سے کیا گیا ہو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خطے کے مسلمانوں کو ڈھیل دے کر انہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہو۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مولانا مدنی رح کا خدشہ کافی حد تک درست تھا۔ اہل پاکستان پر عذاب کا ایک کوڑا تو 1971 ء میں برسا تھا۔ اس کے بعد بھی ملک کی مجموعی صورت حال کبھی تسلی بخش نہیں رہی ‘ بلکہ پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ اب ایک فیصلہ کن عذاب ہمارے سر پر آیا کھڑا ہے۔ لیکن میری رائے میں اس کا سبب ”قیامِ پاکستان نہیں“ بلکہ بحیثیت قوم ہمارا وہ مجموعی طرزعمل ہے جو قیام پاکستان کے بعد ہم نے نظام اسلام کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں