سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
21:6
ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب باياته انه لا يفلح الظالمون ٢١
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَـٰتِهِۦٓ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٢١
وَمَنۡ
اَظۡلَمُ
مِمَّنِ
افۡتَرٰى
عَلَى
اللّٰهِ
كَذِبًا
اَوۡ
كَذَّبَ
بِاٰيٰتِهٖؕ
اِنَّهٗ
لَا
يُفۡلِحُ
الظّٰلِمُوۡنَ‏
٢١
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر کوئی جھوٹی تہمت لگائی یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ یقیناً ایسے ظالم (کبھی) فلاح نہیں پاسکتے
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 6:20 سے 6:24 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔

اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔

اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔

جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں