سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
28:6
بل بدا لهم ما كانوا يخفون من قبل ولو ردوا لعادوا لما نهوا عنه وانهم لكاذبون ٢٨
بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـٰذِبُونَ ٢٨
بَلۡ
بَدَا
لَهُمۡ
مَّا
كَانُوۡا
يُخۡفُوۡنَ
مِنۡ
قَبۡلُ​ؕ
وَلَوۡ
رُدُّوۡا
لَعَادُوۡا
لِمَا
نُهُوۡا
عَنۡهُ
وَاِنَّهُمۡ
لَـكٰذِبُوۡنَ‏
٢٨
بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے تھے اور اگر (بالفرض) انہیں لوٹا بھی دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے انہیں روکا جا رہا تھا اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 6:25 سے 6:28 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہ کرسکے۔اس لیے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں، نہ کہ نصیحت کے ذہن سے۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیںہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا اصل پہلو ان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لیے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے۔ دلائل ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی د ے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔

جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہوں ان کے لیے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیوں کہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردے گا— ’’یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرےمجرم ہیں۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود حق سے رکتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرسکیں۔

دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دنیا میں حق کا انکار کرکے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتاہے ۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کرکے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں