سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
69:6
وما على الذين يتقون من حسابهم من شيء ولاكن ذكرى لعلهم يتقون ٦٩
وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَلَـٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ٦٩
وَمَا
عَلَى
الَّذِيۡنَ
يَتَّقُوۡنَ
مِنۡ
حِسَابِهِمۡ
مِّنۡ
شَىۡءٍ
وَّلٰـكِنۡ
ذِكۡرٰى
لَعَلَّهُمۡ
يَتَّقُوۡنَ‏
٦٩
اور یقیناً جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے لیکن یہ یاد دہانی ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 6:68 سے 6:70 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے ہر امت کے لیے ایک عید کا دن مقرر کیا تاکہ اس دن وہ اللہ کی بڑائی کریںاور اس کی عبادت کریں اور اللہ کی یاد سے اس کو معمور کریں۔ مگر بعد کے لوگوں نے اپنی عید (مذہبی تیوہار) کو کھیل تماشا بنا لیا (تفسیر کبیر، جلد 13 ، صفحه 24 )

ہر دینی عمل کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ایک اس کا ظاہری پہلو ہوتا ہے۔ عید كا مقصد اللہ کی بڑائی اور اس کی یاد کا اجتماعی مظاہرہ ہے۔ مگر عید کی ادائیگی کے کچھ ظاہری پہلو بھی ہیں۔ مثلاً کپڑا پہننا یا اجتماع کا سامان کرنا وغیرہ۔ اب عید کو کھیل تماشا بنانا یہ ہے کہ اس کے اصل مقصد پر توجہ نہ دی جائے البتہ اس کے ظاہری اور مادی پہلوؤں کی خوب دھوم مچائی جائے۔ مثلاً کپڑوں اور سامانوں کی نمائش، خرید وفروخت کے ہنگامے، تفریحات کا اہتمام، اپنی حیثیت اور شان وشوکت کے مظاہرے، وغیرہ۔

امتوں کے بگاڑ کے زمانے میں یہی معاملہ تمام دینی اعمال کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لوگ دینی عمل کی اصل حقیقت کو الگ کرکے اس کے ظاہری پہلو کو لے لیتے ہیں۔ اب جو لوگ اس نوبت کو پہنچ جائیں کہ وہ دین کے مقصدی پہلو کو بھلا کر اس کو اپنے دنیوی تماشوں کا عنوان بنالیں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں ان کو اس معاملہ کی کوئی ایسی بات سمجھائی نہیں جاسکتی جو ان کے مزاج کے خلاف ہو۔ مزید یہ کہ مادی چیزوں کا مالک ہونا ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتاہے کہ سچائی کے مالک بھی وہی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کی ضرورتیں بفراغت پوری ہورہی ہیں۔ ہر جگہ وہ رونق محفل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس لیے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ آخرت میں بھی وہی کامیاب رہیں گے۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر آخرت کی باتوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ مگر وہ جان لیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ یوں ہی ختم ہوجانے والا نہیں۔ ان کا عمل ان کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ عنقریب وہ اپنی سرکشی میں پھنس کر رہ جائیں گے اور کسی حال میں اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں