سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
79:6
اني وجهت وجهي للذي فطر السماوات والارض حنيفا وما انا من المشركين ٧٩
إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٧٩
اِنِّىۡ
وَجَّهۡتُ
وَجۡهِىَ
لِلَّذِىۡ
فَطَرَ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضَ
حَنِيۡفًا​
وَّمَاۤ
اَنَا
مِنَ
الۡمُشۡرِكِيۡنَ​ۚ‏
٧٩
میں نے تو اپنا رخ کرلیا ہے یکسو ہو کر اس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 6:74 سے 6:79 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔

رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔

کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں