Đăng nhập
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
25:39
وكلا ضربنا له الامثال وكلا تبرنا تتبيرا ٣٩
وَكُلًّۭا ضَرَبْنَا لَهُ ٱلْأَمْثَـٰلَ ۖ وَكُلًّۭا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًۭا ٣٩
وَكُلّٗا
ضَرَبۡنَا
لَهُ
ٱلۡأَمۡثَٰلَۖ
وَكُلّٗا
تَبَّرۡنَا
تَتۡبِيرٗا
٣٩
TA đã trình bày cho mỗi thế hệ những hình ảnh thí dụ và TA đã tiêu diệt từng thế hệ một cách khủng khiếp.
Tafsirs
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:35 đến 25:40
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.