Đăng nhập
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
2:280
وان كان ذو عسرة فنظرة الى ميسرة وان تصدقوا خير لكم ان كنتم تعلمون ٢٨٠
وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٢٨٠
وَإِن
كَانَ
ذُو
عُسۡرَةٖ
فَنَظِرَةٌ
إِلَىٰ
مَيۡسَرَةٖۚ
وَأَن
تَصَدَّقُواْ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
إِن
كُنتُمۡ
تَعۡلَمُونَ
٢٨٠
(Trường hợp) người thiếu nợ gặp khó khăn không thể hoàn nợ (lúc đến kỳ hạn) thì hãy gia hạn cho y đến lúc y cảm thấy dễ dàng hơn (cho việc trả nợ); tuy nhiên, nếu các ngươi bố thí khoản nợ đó thì điều đó tốt hơn cho các ngươi nếu các ngươi biết.
Tafsirs
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:278 đến 2:281
سودخور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ٭٭

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہو جائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہو گیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد ادا نہ کریں گے آخر جھگڑا بڑھا عتاب بن اسید جو مکہ شریف کے نائب تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیج دی اور انہیں قابلِ وصول سود لینا حرام قرا دیا چنانچہ وہ تائب ہوئے اور اپنا سود بالکل چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1140/3] ‏

صفحہ نمبر965

اس آیت میں ہے ان لوگوں پر جو سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود بھی اس پر جمے رہیں، زبردست وعید ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سودخور سے قیامت کے دن کہا جائے گا، لے اپنے ہتھیار لے لے اور اللہ سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جا، آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں امام وقت پر فرض ہے کہ سودخور لوگ جو اسے نہ چھوڑیں ان سے توبہ کرائے اور اگر نہ کریں تو ان کی گردن مار دے، [تفسیر ابن جریر الطبری:25/6] ‏ حسن اور ابن سیرین کا فرمان بھی یہی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو اللہ نے انہیں ہلاکت کی دھمکی دی انہیں ذلیل کئے جانے کے قابل ٹھہرایا، خبردار سود سے اور سودی لین دین سے بچتے رہو حلال چیزوں اور حلال خرید و فروخت بہت کچھ ہے، فاقے گزرتے ہوں تاہم اللہ کی معصیت سے رکو، وہ روایت بھی یاد ہو گی جو پہلے گزر چکی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے معاملہ کی نسبت جس میں سود تھا، زید بن ارقم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا جہاد بھی برباد ہو گیا اس لیے کہ جہاد اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور سود خوری خود اللہ سے مقابلہ کرنا ہے لیکن اس کی اسناد کمزور ہے،

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر توبہ کر لو تو اصل مال جو کسی پر فرض ہے بیشک لے لو۔ نہ تم تول میں زیادہ لے کر اس پر ظلم کرو نہ کم دے کر یا نہ دے کر وہ تم پر ظلم کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا جاہلیت کا تمام سود میں برباد کرتا ہوں۔ اصلی رقم لے لو، سود لے کر نہ کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تمہارا مال مار کر تم پر زیادتی کرے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا تمام سود میں ختم کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر966

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تنگی والا شخص اور اس کے پاس تمہارے قرض کی ادائیگی کے قابل مال نہ ہو تو اسے مہلت دو کہ کچھ اور مدت کے بعد ادا کر دے یہ نہ کرو کہ سود در سود لگائے چلے جاؤ کہ مدت گزر گئی، اب اتنا اتنا سود لیں گے، بلکہ بہتر تو یہ بات ہے کہ ایسے غرباء کو اپنا قرض معاف کر دو، طبرانی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اللہ کے عرش کا سایہ چاہتا ہے وہ یا تو ایسے تنگی والے شخص کو مہلت دے یا معاف کر دے، [طبرانی:899:ضعیف] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے جو شخص مفلس آدمی پر اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دِنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اس سے دگنی رقم کے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، یہ سن کر سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دن اس کے مثل ثواب ملنے کا فرمایا تھا آج دو مثل فرماتے ہیں، فرمایا ہاں جب تک معیاد ختم نہیں ہوئی مثل کا ثواب اور معیاد گزرنے کے بعد دو مثل کا،

ابوقتادہ رحمہ اللہ کا قرض ایک شخص کے ذمہ تھا وہ تقاضا کرنے کو آتے لیکن یہ چھپ رہتے اور نہ ملتے، ایک دن آئے گھر سے ایک بچہ نکلا، آپ رحمہ اللہ نے اس سے پوچھا اس نے کہا ہاں گھر میں موجود ہیں کھانا کھا رہے ہیں، اب ابوقتادہ رحمہ اللہ نے اونچی آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا مجھے معلوم ہو گیا کہ تم گھر میں موجود ہو، آؤ باہر آؤ، جواب دو۔ وہ بیچارے باہر نہیں نکلے آپ رحمہ اللہ نے کہا کیوں چھپ رہے ہو؟ کہا بات یہ ہے کہ میں مفلس ہوں اس وقت میرے پاس رقم نہیں بوجہ شرمندگی کے آپ رحمہ اللہ سے نہیں ملتا، آپ رحمہ اللہ نے کہا قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی، آپ روئے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص نادار قرضدار کو ڈھیل دے یا اپنا قرضہ معاف کر دے وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہو گا۔ [صحیح مسلم:1563:صحیح] ‏

صفحہ نمبر967

ابولیلیٰ نے ایک حدیث روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ بتا میرے لیے تو نے کیا نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا اے اللہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی ایسی نیکی مجھ سے نہیں ہوئی جو آج میں اس کی جزا طلب کر سکوں، اللہ اس سے پھر پوچھے گا وہ پھر یہی جواب دے گا پھر پوچھے گا پھر یہی کہے گا، پروردگار ایک چھوٹی سی بات البتہ یاد پڑتی ہے کہ تو نے اپنے فضل سے کچھ مال بھی مجھے دے رکھا تھا میں تجارت پیشہ شخص تھا، لوگ ادھار سدھار لے جاتے تھے، میں اگر دیکھتا کہ یہ غریب شخص ہے اور وعدہ پر قرض نہ ادا کر سکا تو میں اسے اور کچھ مدت کی مہلت دے دیتا، عیال داروں پر سختی نہ کرتا، زیادہ تنگی والا اگر کسی کو پاتا تو معاف بھی کر دیتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں تجھ پر آسانی کیوں نہ کروں، میں تو سب سے زیادہ آسانی کرنے والا ہوں، جا میں نے تجھے بخشا جنت میں داخل ہو جا، [صحیح بخاری:2077] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی مدد کرے یا قرض دار بےمال کی اعانت کرے یا غلام جس نے لکھ کر دیا ہو کہ اتنی رقم دے دوں تو آزاد ہوں، اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ [حاکم:89/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر968

۔ مسند احمد میں ہے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں اور اس کی تکلیف و مصیبت دور ہو جائے اسے چاہیئے کہ تنگی والوں پر کشادگی کرے، [مسند احمد:23/2:ضعیف] ‏ عباد بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد طلب علم میں نکلے اور ہم نے کہا کہ انصاریوں سے حدیثیں پڑھیں، سب سے پہلے ہماری ملاقات سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کے غلام تھے جن کے ہاتھ میں ایک دفتر تھا اور غلام و آقا کا ایک ہی لباس تھا، میرے باپ نے کہا چچا آپ تو اس وقت غصہ میں نظر آتے ہیں، فرمایا ہاں سنو فلاں شخص پر میرا کچھ قرض تھا، مدت ختم ہو چکی تھی، میں قرض مانگنے گیا، سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مکان پر ہیں، گھر میں سے جواب ملا کہ نہیں، اتفاقاً ایک چھوٹا بچہ باہر آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارے والد کہاں ہیں؟ اس نے کہا آپ کی آواز سن کر چارپائی تلے جا چھپے ہیں، میں نے پھر آواز دی اور کہا تمہارا اندر ہونا مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپو نہیں باہر آؤ جواب دو، وہ آئے میں نے کہا کیوں چھپ رہے ہو، کہا محض اس لیے کہ میرے پاس روپیہ تو اس وقت ہے نہیں، آپ سے ملوں گا تو کوئی جھوٹا عذر حیلہ بیان کرں گا یا غلط وعدہ کروں گا، اس لیے سامنے ہونے سے جھجھکتا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سے جھوٹ کیا کہوں؟ میں نے کہا سچ کہتے ہو، اللہ کی قسم تمہارے پاس روپیہ نہیں، اس نے کہا ہاں سچ کہتا ہوں اللہ کی قسم کچھ نہیں، تین مرتبہ میں نے قسم کھلائی اور انہوں نے کھائی، میں نے اپنے دفتر میں سے ان کا نام کاٹ دیا اور رقم جمع کر لی اور کہہ دیا کہ جاؤ میں نے تمہارے نام سے یہ رقم کاٹ دی ہے، اب اگر تمہیں مل جائے تو دے دینا ورنہ معاف۔ سنو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دِل نے اسے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سختی والے کو ڈھیل دے یا معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا، [صحیح مسلم:3006] ‏

صفحہ نمبر969

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد آتے ہوئے زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جو شخص کسی نادار پر آسانی کر دے یا اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا، سنو جنت کے کام مشقت والے ہیں اور خواہش کیخلاف ہیں، اور جہنم کے کام آسانی والے اور خواہشِ نفس کے مطابق ہیں، نیک بخت وہ لوگ ہیں جو فتنوں سے بچ جائیں، وہ انسان جو غصے کا گھونٹ پی لے اس کو اللہ تعالیٰ ایمان سے نوازتا ہے، [مسند احمد:327/1:ضعیف جداً] ‏

طبرانی میں ہے جو شخص کسی مفلس شخص پر رحم کر کے اپنے قرض کی وصولی میں اس پر سختی نہ کرے اللہ بھی اس کے گناہوں پر اس کو نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔ [طبرانی کبیر:11330:ضعیف] ‏ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، انہیں دنیا کے زوال، مال کے فنا، آخرت کا آنا، اللہ کی طرف لوٹنا، اللہ کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان تمام اعمال پر جزا و سزا کا ملنا یاد دلاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت یہی ہے، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو راتوں تک زندہ رہے اور ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6312:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اکتیس دن کی بھی مروی ہے، ابن جریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلف کا قول ہے کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نو رات زندہ رہے ہفتہ کے دن سے ابتداء ہوئی اور پیر والے دن انتقال ہوا۔ الغرض قرآن کریم میں سب سے آخر یہی آیت نازل ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر970
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.