Đăng nhập
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
🚀 Tham gia thử thách Ramadan của chúng tôi!
Tìm hiểu thêm
Đăng nhập
Đăng nhập
4:49
الم تر الى الذين يزكون انفسهم بل الله يزكي من يشاء ولا يظلمون فتيلا ٤٩
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ٤٩
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَى
ٱلَّذِينَ
يُزَكُّونَ
أَنفُسَهُمۚ
بَلِ
ٱللَّهُ
يُزَكِّي
مَن
يَشَآءُ
وَلَا
يُظۡلَمُونَ
فَتِيلًا
٤٩
Lẽ nào Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) lại không nhìn thấy những kẻ đã tự cho mình trong sạch (khỏi tội lỗi) ư? Không, chỉ Allah mới (có quyền) thanh lọc (tội lỗi) cho ai Ngài muốn (bởi Ngài biết rõ tấm lòng của y) và họ sẽ không bị đối xử bất công một chút nào.
Tafsirs
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 4:49 đến 4:52
منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت ٭٭

یہودونصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ‏ [4-النساء:49] ‏ نازل ہوئی اور یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہو گئے ہیں وہ ہمارے لیے قربت الٰہی کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بے خطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔ [صحیح مسلم:3002] ‏

صفحہ نمبر1755

بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کی مدح و ستائش کرتے ہوئے سن کر فرمایا افسوس تو نے اس اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی “ پھر فرمایا ” اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے ۔ [صحیح بخاری:2662] ‏

صفحہ نمبر1756

مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو کہے میں مومن ہوں وہ کافر ہے اور جو کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے اور جو کہے میں جنتی ہوں جہنمی ہے، [مسند الفاروق:574/2:ضعیف و منقطع] ‏ ابن مردویہ میں آپ کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے لگے اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے بیٹھ جائے، [ضعیف:اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی راوی ضعیف ہے] ‏

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے اور یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی، تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لیے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے [مسند احمد:93/4،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے [سنن ابن ماجہ:3743،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان صبح کو دین لےکر نکلتا ہے پھر جب کہ وہ لوٹتا ہے تو اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (‏اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لیے ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حلانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا اوقات ممکن ہے ان کی تعریفی کلمات کے بعد بھی اس سے اس کا کام نہ نکلے لیکن اس نے تو اللہ کو ناخوش کردیا۔ پھر آپ نے آیت تزکیہ کی تلاوت فرمائی(‏ابن جریر)

اور اس کا تفصیلی بیان «فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» [53-النجم:32] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے۔

صفحہ نمبر1757

پھر فرماتا ہے ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے محبوب بننے کے دعویدار ہیں؟ اور کیسی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہو گا کس طرح اپنے بروں کے نیک اعمال پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے کو کچھ نفع نہیں دے سکتا جیسے ارشاد ہے «تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [2-البقرة:134] ‏ ” ‏یہ ایک گروہ ہے جو گزر چکا ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ “

پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لیے کافی ہے «جِبْتِ» کے معنی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معنی شیطان کے مروی ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:462/8] ‏ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جبت» حبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں۔

بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں سے یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا یہ جبت ہے، [سنن ابوداود:3907،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

حسن کہتے ہیں «جبت» شیطان کی گنگناہٹ ہے، طاغوت کی نسبت پہلے سورہ بقرہ میں تفصیلی ذکر گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، جابر رحمہ اللہ سے جب طاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں۔

صفحہ نمبر1758

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی عبادت اللہ سوا کی جائے۔ پھر فرمایا کہ انکی جہالت بے دینی اور خود اپنی کتاب کے ساتھ کفر کی نوبت ہیاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے پاس آئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتا ؤ تو ہم بہتر ہیں یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا تم کیا ہو؟ اور وہ کیا ہیں؟

تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کرکے دوسروں کو کھلاتے ہیں، لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صنبور ہیں ہمارے رشتہ ناتے تڑوادیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا ہے جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتا ؤ ہم اچھے یا وہ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پرہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے انہی کے بارے میں «‏إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ» ‏ [108-الکوثر:3] ‏ اتری ہے۔

بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لیے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے

چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ «وَرَدَّ اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» ‏ [ 33-الأحزاب: 25 ] ‏ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (‏کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، «فالحمداللہ الکبیر المتعال» ۔

صفحہ نمبر1759
صفحہ نمبر1760
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Đọc, Lắng nghe, Tra cứu và Suy ngẫm về Kinh Qur'an

Quran.com là nền tảng đáng tin cậy, được hàng triệu người dùng trên thế giới để đọc, tra cứu, lắng nghe và suy ngẫm Kinh Qur'an bằng nhiều ngôn ngữ, với bản dịch, tafsir, tụng đọc, dịch từng từ và các công cụ học sâu, giúp ai cũng có thể tiếp cận Kinh Qur'an.

Là một Sadaqah Jariyah, Quran.com tận tâm giúp mọi người gắn bó sâu sắc hơn với Kinh Qur'an. Được hậu thuẫn bởi tổ chức phi lợi nhuận 501(c)(3) Quran.Foundation, Quran.com không ngừng phát triển như một nguồn tài nguyên miễn phí và hữu ích cho tất cả, Alhamdulillah.

Điều hướng
Trang chủ
Đài Qur'an
Người đọc kinh
Về chúng tôi
Các nhà phát triển
Cập nhật sản phẩm
Phản hồi
Trợ giúp
Dự án của chúng tôi
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Dự án phi lợi nhuận do Quran.Foundation sở hữu, quản lý hoặc tài trợ
Liên kết phổ biến

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Sơ đồ trang webQuyền riêng tưĐiều khoản và điều kiện
© 2026 Quran.com. Bản quyền đã được bảo lưu.